ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 59

ۣالَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۚۛ اَلرَّحۡمٰنُ فَسۡـَٔلۡ بِہٖ خَبِیۡرًا ﴿۵۹﴾
وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر بلند ہوا، بے حد رحم والاہے، سو اس کے متعلق کسی پورے با خبر سے پوچھ۔ En
جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمٰن (یعنی بڑا مہربان ہے) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو
En
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اوران کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کردیا ہے، پھر عرش پر مستوی ہوا، وه رحمٰن ہے، آپ اس کے بارے میں کسی خبردار سے پوچھ لیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59) ➊ {الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا …:} اس کی تفسیر سورۂ یونس، ہود اور طٰہٰ میں گزر چکی ہے۔ یہاں ان صفات کا ذکر اللہ تعالیٰ پر توکل کی تلقین کے لیے بھی ہے اور اس میں نزول قرآن میں تدریج پر اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ بھی ہے۔
➋ { فَسْـَٔلْ بِهٖ خَبِيْرًا:} پورے باخبر سے مراد خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہے اور { بِهٖ } سے مراد {عَنْهُ} (اس کے متعلق) ہے۔ اس آیت میں مزید وہ افعال و اوصاف ذکر فرمائے ہیں جن کی وجہ سے اللہ پر توکل کرنا چاہیے، یعنی اس پر توکل کر جو ہمیشہ زندہ ہے، جس پر کبھی موت نہیں آئے گی، جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہو گیا، جو بے حد رحم والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش، استواء علی العرش اور اس کی لا محدود رحمت کے بارے میں اہلِ کتاب یا مشرکین کیا جانیں، ان کی تفصیلات کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، لہٰذا اسی سے دریافت کیجیے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ [فاطر: ۱۴] اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ جیسا پورا باخبر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ جس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کچھ چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر [72] قرار پکڑا وہی رحمن [73] ہے، اس کا حال کسی با خبر سے [74] پوچھ لیجئے۔
[72] ﴿استويٰ على العرش﴾ کی تفسیر کے لئے سورۃ طٰہ کی آیت نمبر 5 کا حاشیہ نمبر 3، سورۃ اعراف کی آیت نمبر 54 کا حاشیہ نمبر 54۔
[73] ﴿استويٰ على العرش﴾ کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور بعض مقامات پر رحمٰن کی طرف جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمٰن بھی اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اور اللہ کی باقی صفات بھی، جن کا سابقہ آیات میں ذکر ہوا ہے۔ رحمٰن کی طرف منسوب کی جا سکتی ہیں۔
[74] یہاں خبیر سے مراد ایسا عالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی کائنات میں بکھری ہوئی آیات میں غور و فکر کر کے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا علم حاصل کیا ہو۔ ایسے ہی خبیر کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر لفظ عالم سے تعبیر فرمایا ہے جہاں ایسی بہت سی آیات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿اِنَّمَا يَخْشَي اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰؤُا [28:35] یعنی اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے صرف عالم لوگ ہی ڈرتے ہیں۔ تاہم اس سے نقلی علوم وحی کو جاننے والے حضرات بھی مراد لئے جا سکتے ہیں اور بعض انبیاء کو بھی تو اللہ تعالیٰ نے ملکوت السموات والارض کا مشاہدہ بھی کرایا تھا۔ اس لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے عالم اور خبیر ہوئے اس کے بعد دوسرے انبیاء۔ پھر ان کے بعد اس صف میں وہ عالم دین بھی شامل ہو جاتے ہیں جو اپنے علم میں راسخ ہوں۔ خواہ وہ تورات کے عالم ہوں یا کسی اور الہامی کتاب کے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔