ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 57

قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿۵۷﴾
کہہ دے میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ اختیار کرے۔ En
کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا، ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جانے کا رستہ اختیار کرے
En
کہہ دیجئے کہ میں قرآن کے پہنچانے پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راه پکڑنا چاہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 57) ➊ { قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ:} قرآن مجید میں یہ جملہ کئی جگہ آیا ہے، یہاں مطلب یہ ہے کہ کفار جو آپ کی عداوت پر تلے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ میں اپنے رب کی طرف سے تمھارے پاس جو پیغام لے کر آیا ہوں، اسے پہنچانے میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا کہ تم اپنے اموال بچانے کی خاطر مجھ پر ایمان لانے سے گریز کرو۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيْ [ھود: ۵۱] میری مزدوری اللہ کے سوا کسی پر نہیں۔ اس سے بڑی نادانی کیا ہو گی کہ جو شخص تمھاری دین و دنیا کی بہتری کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہا ہے اور اس پر تم سے کسی مزدوری کا مطالبہ بھی نہیں کرتا، تم اسی کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہو۔
➋ { اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا:} مفسرین نے اس جملے کی دو تفسیریں فرمائی ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک یہ کہ میں اس دعوت پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، لیکن تم میں سے جو شخص چاہے کہ جہاد اور دوسرے خیر کے کاموں میں خرچ کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے اور اسے اس کی رحمت اور ثواب کے حصول کا ذریعہ بنائے تو وہ ایسا کرے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ سَيُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ [التوبۃ: ۹۹] اور بدویوں میں سے کچھ وہ ہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سن لو! بے شک وہ ان کے لیے قرب کا ذریعہ ہے، عنقریب اللہ انھیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اس صورت میں { اِلَّا } بمعنی {لٰكِنْ} ہے اور استثنا منقطع ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ میں تم سے اس دعوت پر اس شخص کے سوا کوئی مزدوری نہیں مانگتا جو اپنے رب کے قرب کا راستہ اختیار کرنا چاہے۔ میری مزدوری بس ایسے لوگوں کا حصول ہے، اس کے سوا اللہ تم سے کسی مال یا جاہ یا کسی بھی مزدوری کا مطالبہ نہیں کرتا۔ ہاں، ایسے لوگوں کا حصول میرے لیے بہت بڑی مزدوری اور اجرت ہے، کیونکہ ایک شخص بھی ایمان لے آئے تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، پھر میری دعوت پر ایمان لانے والے جو بھی صالح عمل کریں گے سب کا اجر ان کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ملے گا، میرے لیے یہی اجرت بہت ہے۔ اس صورت میں استثنا متصل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

57-1یعنی یہی میرا اجر ہے کہ رب کا راستہ اختیار کرلو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

57۔ آپ ان سے کہئے: کہ میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کا راستہ اختیار کرے۔ [70]
[70] انبیاء کی محنت کا صلہ؟
انبیاء کی دعوت اور کفار کے انکار کے سلسلہ میں انبیاء کی طرف سے جواب کے طور پر یہ جملہ قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے۔ اور اس جواب کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اگر تمہیں میرا یہ دعوت الی اللہ کا کام پسند نہیں آتا تو میں تم سے کوئی معاوضہ یا تنخواہ تھوڑے لے رہا ہوں جو تم اسے بند کر دو گے اور میں اپنا کام چھوڑ دوں گا اور نہ ہی تم سے میرا اس قسم کا مطالبہ ہے۔ لہٰذا تمہیں یہ کام پسند ہو یا نہ ہو یا میں اپنا کام کئے ہی جاؤں گا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ میں بالکل بے لوث اور بے غرض ہو کر تمہاری بھلائی کی خاطر تمہیں سیدھے راستے کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور میں تم سے لیتا بھی کچھ نہیں بلکہ الٹا تم سے مذاق اور استہزاء سنتا اور تکلیفیں اٹھا رہا ہوں پھر بھی تمہیں اتنا خیال تک نہیں آتا کہ کم از کم اس کی بات پر بھی کچھ غور و فکر تو کر لیں۔ اس آیت کا اگلا حصہ اسی پہلو یا اسی مطلب کی تائید کر رہا ہے۔ یعنی اگر اللہ نے چاہا اور تم میں سے کوئی ایک شخص بھی ہدایت کی راہ پر آ گیا تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت کا صلہ یا معاوضہ مجھے مل گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔