ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 54

وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ مِنَ الۡمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِہۡرًا ؕ وَ کَانَ رَبُّکَ قَدِیۡرًا ﴿۵۴﴾
اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر کو پیدا کیا، پھر اسے خاندان اور سسرال بنا دیا اور تیرا رب ہمیشہ سے بے حد قدرت والا ہے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا۔ پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا۔ اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے
En
وه ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب واﻻ اور سسرالی رشتوں واﻻ کردیا۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا …: } یہ توحید کے دلائل کی پانچویں قسم ہے۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کاملہ اور آدمی پر انعام تینوں کا ذکر ہے۔ { بَشَرًا } کا لفظ {اَلْبَشَرَةُ} (کھال، ظاہری جلد) سے ہے، دوسرے تمام جانوروں کا جسم بالوں سے یا پروں وغیرہ سے چھپا ہوتا ہے، جبکہ انسان کی جلد اس سے صاف ہوتی ہے، اس لیے اسے بشر کہا جاتا ہے۔ پچھلی آیت میں خالق و مالک اور تنہا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر دو پانیوں کو ملنے سے روکنے کی قدرت کا ذکر تھا اور اس آیت میں انھیں ملانے کا ذکر ہے، فرمایا: «{ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ [الدھر: ۲] بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا۔ تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ کائنات میں سب کچھ خود بخود ہر چیز کی طبیعت کے تقاضے سے ہو رہا ہے۔ نہیں! یہ اس زبردست مالک و مختار کا کام ہے، چاہتا ہے تو سمندروں کو ملنے سے روک دیتا ہے، چاہتا ہے تو قطرے کو باہم ملا دیتا ہے اور پانی پر صورت گری اور نقش آفرینی فرما دیتا ہے۔
➋ { فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا:} یعنی یہی کرشمہ بجائے خود کیا کم تھا کہ وہ ایک حقیر قطرے سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق بنا دیتا ہے، اس پر مزید یہ کہ اس نے انسان کا ایک نمونہ ہی نہیں، دو الگ الگ نمونے (عورت اور مرد) بنا دیے، فرمایا: «{ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى [القیامۃ: ۳۹] پھر اس نے اس سے دو قسمیں نر اور مادہ بنائیں۔ پھر وہ مذکر ہو یا مؤنث، ان سب کی نسبت باپ دادا کی طرف ہوتی ہے، فلاں بن فلاں اور فلانہ بنت فلاں۔ جب مرد اور عورت کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو ان کے بہت سے سسرالی رشتے دار بن جاتے ہیں، خاندانی قبیلوں اور قوموں کا یہ سارا پھیلاؤ ایک قطرۂ منی سے وجود میں آتا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء کی پہلی آیت اور سورۂ حجرات (۱۳)۔
➌ { وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِيْرًا:} یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے ہیں، کیونکہ تیرا رب ہمیشہ سے بے حد قدرت والا ہے۔ہمیشگی کا مفہوم { كَانَ } سے ظاہر ہو رہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54-1نسب سے مراد رشتے داریاں ہیں جو باپ یا ماں کی طرف سے ہوں اور صہرا سے مراد وہ قرابت مندی ہے جو شادی کے بعد بیوی کی طرف سے ہو، جس کو ہماری زبان میں سسرالی رشتے کہا جاتا ہے۔ ان دونوں رشتہ داریوں کی تفصیل آیت (وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۭوَسَاۗءَ سَبِيْلًا 22؀ۧ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ۡ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ۡ وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ ۙ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا 23؀ۙ) 4۔ النساء:23-22) میں بیان کردی گئی ہے اور رضائی رشتے داریاں حدیث کی رو سے نسبی رشتوں میں شامل ہے۔ جیسا کہ فرمایا یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب۔ البخاری ومسلم۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ اور وہی ہے جس نے پانی (نطفہ) سے انسان کو پیدا کیا پھر (میاں بیوی) سے نسب اور سسرال [67] کا سلسلہ چلایا اور آپ کا پروردگار بڑی ہی قدرت والا ہے۔
[67] نطفہ سے مرد اور عورت کی تخلیق۔ نیز ان کی جسمانی ساخت اور کارکردگی میں اللہ کی محیر العقول تقدیر:۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کرشمہ کیا کم ہے کہ اس نے پانی کی ایک بوند سے انسان جیسی محیر العقول مشینری رکھنے والی مخلوق پیدا کر دی۔ مزید یہ کہ اس پیدا ہونے والے بچہ کو جو مختلف نوعوں میں تقسیم کر دیا۔ کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی۔ اور یہ دونوں انسان ہونے کے اعتبار سے تو یکساں ہیں۔ مگر اپنی جسمانی ساخت اور خصوصیات میں بہت سے امور میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تاہم اس اختلاف کے باوجود وہ دونوں مل کر ایک ہی مقصد پورا کرتے ہیں اور وہ ہے بقائے نسل انسانی۔ ان دونوں نوع کے ملاپ سے دنیا میں ہزاروں مرد اور عورتیں پیدا ہو رہے ہیں۔ پھر اس اختلاف کی بنا پر رشتہ داریاں بھی دو طرح کی بن جاتی ہیں۔ ایک وہ جن کے ہاں عورتیں بہو بن کر آتی ہیں اور یہ نسبی رشتہ داری ہے۔ جیسے بیٹا، پوتا، پڑوتا وغیرہ اور دوسرے وہ جن کے ہاں ہماری بیٹیاں، پوتیاں وغیرہ بہو بن کر جاتی ہیں یہ سسرالی رشتہ داریاں ہیں۔ پھر ان دونوں قسم کی رشتہ داریوں کے باہمی تعلقات سے پورا معاشرہ جڑ جاتا ہے اور ایک ہی جیسا تمدن وجود میں آ جاتا ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو لڑکے اور لڑکی کی جسمانی ساخت میں صرف شرمگاہوں کا فرق ہوتا ہے جس سے ہم یہ تمیز کرتے ہیں کہ پیدا ہونے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ پھر کچھ اختلاف بلوغت پر نمایاں ہوتے ہیں۔ جیسے لڑکے کو احتلام ہونا اور داڑھی اور مونچھوں کے بالوں کا اگنا اور لڑکیوں کو حیض آنا اور اس کے پستانوں میں ابھار کا پیدا ہونا۔ پھر کچھ امور ایسے ہیں جن کا تعلق استقرار حمل سے ہوتا ہے جیسے عورت کے پستانوں میں دودھ کا اتر آنا۔ کیونکہ جب تک حمل قرار نہ پائے دودھ بنتا ہی نہیں۔ پھر جوانی ڈھلنے پر عورت کا حیض آنا از خود بند ہو جاتا ہے اور مرد میں مادہ منویہ کی پیدائش از خود رک جاتی ہے۔ اور دونوں کے شہوانی جذبات افسردہ پڑنے لگ جاتے ہیں اور یہ ایسے لگے بندے قوانین فطرت ہیں جن میں کبھی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ ان امور پر غور کرنے سے بے اختیار یہ بات زبان پر آ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز سے جس قسم کا کام لینا ہوتا ہے اس پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔