فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ جَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا ﴿۵۲﴾
پس تو کافروں کا کہنا مت مان اور اس کے ساتھ ان سے جہاد کر، بہت بڑا جہاد۔
En
تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس قرآن کے حکم کے مطابق بڑے شدومد سے لڑو
En
پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 52) ➊ { فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ:} چونکہ ہم نے ہر بستی کی طرف الگ الگ نذیر بھیجنے کے بجائے تمام جہانوں کے لیے آپ ہی کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اس لیے آپ کافروں کا کہنا مت مانیے، خواہ وہ معجزوں کا مطالبہ کریں یا طعن و تشنیع اور ٹھٹھے مذاق کے ساتھ دعوت سے روکنے کی کوشش کریں، یا مدا ہنت کی پیش کش کریں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ}» [القلم: ۹] ” وہ چاہتے ہیں کاش! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔“
➋ {وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا: ”جَاهَدَ يُجَاهِدُ جِهَادًا وَ مُجَاهَدَةً“} (مفاعلہ) کسی کے مقابلے میں اپنی پوری کوشش صرف کر دینا۔ {” بِهٖ “ } سے مراد قرآن مجید ہے، جس کا تذکرہ {” وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ “} میں گزرا ہے اور جس کے ذکر کے ساتھ سورت کی ابتدا ہوئی ہے، فرمایا: «{ تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ }» یعنی اگر ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیجا جاتا تو آپ کے بوجھ میں کمی ہو جاتی، اب تمام لوگوں تک پیغام پہنچانے کی ذمہ داری کی وجہ سے آپ کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے آپ اس قرآن کو لے کر جہاد کبیر کریں۔ ”جہاد کبیر“ سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے اس سے مراد اپنی آخری کوشش تک لگا دینا ہے، یعنی دعوت کے ذریعے سے بھی اور جب ممکن ہو قتال کے ذریعے سے بھی۔ رازی لکھتے ہیں: ”بعض مفسرین نے فرمایا، یہاں جہاد سے مراد اللہ کا پیغام پہنچانے اور دعوت میں پوری کوشش کرنا ہے اور بعض نے فرمایا، قتال (لڑائی) کے ساتھ جہاد مراد ہے اور بعض نے فرمایا، دونوں کے ساتھ جہاد مراد ہے۔“ رازی نے فرمایا: ”پہلی تفسیر زیادہ قریب ہے، کیونکہ سورت مکی ہے اور قتال کا حکم ہجرت کے بھی کچھ دیر بعد نازل ہوا۔“ مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ قریب بات یہ ہے کہ دعوت و قتال دونوں کے ساتھ جہاد مراد ہے، کیونکہ لفظ جہاد (پوری کوشش صرف کرنے) کا تقاضا بھی یہی ہے اور لفظ ”کبیر“ کا بھی۔ رہی یہ بات کہ یہ سورت مکی ہے، تو مکی سورتوں میں بھی قتال کا ذکر موجود ہے، اگرچہ حکمتِ الٰہی کے پیشِ نظر ہجرت سے پہلے قتال کی اجازت نہیں دی گئی، جیسا کہ سورۂ مزمل میں (جو بالاتفاق مکی ہے) فرمایا: «{ عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى وَ اٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ }» [المزمل: ۲۰] ”اس نے جان لیا کہ یقینا تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے، پس اس میں سے جو میسر ہو پڑھو۔“ اور عروہ بن زبیر نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے پوچھا: ”قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ جو ایذا دی وہ کیا تھی؟“ تو انھوں نے دو دنوں کا ذکر فرمایا، جن میں سے ایک وہ دن تھا جب عقبہ بن ابی معیط نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں چادر ڈال کر گلا گھونٹا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دھکا دے کر آپ کو چھڑایا اور ایک اس سے پہلا دن کہ جب آپ طواف کر رہے تھے اور جب آپ کفارِ قریش کے پاس سے گزرتے تو وہ کوئی نہ کوئی تکلیف دہ بات کرتے، تین چکروں میں ایسا ہی ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَسْمَعُوْنَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! أَمَا وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ] ”قریشیو! سنتے ہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں تمھارے پاس (تمھارے) ذبح (کا پیغام) لے کر آیا ہوں۔“ [مسند أحمد: 218/2، ح: ۷۰۵۴۔ مسند أبی یعلٰی: 425/6، ح: ۷۳۳۹] مسند احمد اور مسند ابی یعلی ٰ دونوں کی تحقیق میں اسے حسن کہا گیا ہے۔
ذبح کا یہ حکم جسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے، جب اس پر عمل کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کرکے دکھایا اور فرمایا: [أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَنْ لَا إِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ، وَيُقِيْمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلاَمِ وَ حِسَابُهُمْ عَلَی اللّٰهِ] [بخاري، الإیمان، باب: «فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ…» : ۲۵، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما] ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کا رسول ہے۔ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، جب وہ یہ کام کر لیں تو انھوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“
➌ جہادِ کبیر کی تفسیر دعوت و قتال دونوں کے ساتھ کرنا اس لیے بھی راجح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: [أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟] ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ وَ عُقِرَ جَوَادُهُ] [ابن ماجہ، الجہاد، باب القتال في سبیل اللہ: ۲۷۹۴، قال الشیخ الألباني صحیح] ”جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کا گھوڑا کاٹ دیا گیا۔“ اور طارق ابن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جب آپ رکاب میں پاؤں رکھ چکے تھے: [أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟] ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ] [نسائي، البیعۃ، باب فضل من تکلم بالحق عند إمام جائر: ۴۲۱۴] ”کسی ظالم بادشاہ کے پاس حق بات کہہ دینا۔“ ظاہر ہے ظالم بادشاہ کے سامنے وہی شخص کلمۂ حق کہہ سکتا ہے جو اس کے سامنے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جائے گا، یہ ہر ایرے غیرے کا کام نہیں۔ اس لیے پچھلی حدیث میں اور اس میں کوئی تضاد نہیں۔
➍ اس مقام پر ایک روایت بیان کی جاتی ہے، جس میں مال و جان کی قربانی والے جہاد کو جہاد اصغر قرار دیا گیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ قَالُوْا وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ؟ قَالَ جِهَادُ الْقَلْبِ] ”ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف واپس پلٹ آئے ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”تو وہ جہادِ اکبر کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد القلب (دل کا جہاد)۔“ [”اَلْمَقُوْلُ مِنْ مَا لَيْسَ بِمَنْقُوْلٍ“] کے مصنف ولید بن راشد السعیدان لکھتے ہیں: ”حافظ ابن حجر نے (تسدید القوس میں) فرمایا، یہ ابراہیم بن ابی عَبلَہ کا کلام ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ اس کا اصل کچھ نہیں اور یہ جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ (و اللہ اعلم)
➋ {وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا: ”جَاهَدَ يُجَاهِدُ جِهَادًا وَ مُجَاهَدَةً“} (مفاعلہ) کسی کے مقابلے میں اپنی پوری کوشش صرف کر دینا۔ {” بِهٖ “ } سے مراد قرآن مجید ہے، جس کا تذکرہ {” وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ “} میں گزرا ہے اور جس کے ذکر کے ساتھ سورت کی ابتدا ہوئی ہے، فرمایا: «{ تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ }» یعنی اگر ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیجا جاتا تو آپ کے بوجھ میں کمی ہو جاتی، اب تمام لوگوں تک پیغام پہنچانے کی ذمہ داری کی وجہ سے آپ کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے آپ اس قرآن کو لے کر جہاد کبیر کریں۔ ”جہاد کبیر“ سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے اس سے مراد اپنی آخری کوشش تک لگا دینا ہے، یعنی دعوت کے ذریعے سے بھی اور جب ممکن ہو قتال کے ذریعے سے بھی۔ رازی لکھتے ہیں: ”بعض مفسرین نے فرمایا، یہاں جہاد سے مراد اللہ کا پیغام پہنچانے اور دعوت میں پوری کوشش کرنا ہے اور بعض نے فرمایا، قتال (لڑائی) کے ساتھ جہاد مراد ہے اور بعض نے فرمایا، دونوں کے ساتھ جہاد مراد ہے۔“ رازی نے فرمایا: ”پہلی تفسیر زیادہ قریب ہے، کیونکہ سورت مکی ہے اور قتال کا حکم ہجرت کے بھی کچھ دیر بعد نازل ہوا۔“ مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ قریب بات یہ ہے کہ دعوت و قتال دونوں کے ساتھ جہاد مراد ہے، کیونکہ لفظ جہاد (پوری کوشش صرف کرنے) کا تقاضا بھی یہی ہے اور لفظ ”کبیر“ کا بھی۔ رہی یہ بات کہ یہ سورت مکی ہے، تو مکی سورتوں میں بھی قتال کا ذکر موجود ہے، اگرچہ حکمتِ الٰہی کے پیشِ نظر ہجرت سے پہلے قتال کی اجازت نہیں دی گئی، جیسا کہ سورۂ مزمل میں (جو بالاتفاق مکی ہے) فرمایا: «{ عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى وَ اٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ }» [المزمل: ۲۰] ”اس نے جان لیا کہ یقینا تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے، پس اس میں سے جو میسر ہو پڑھو۔“ اور عروہ بن زبیر نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے پوچھا: ”قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ جو ایذا دی وہ کیا تھی؟“ تو انھوں نے دو دنوں کا ذکر فرمایا، جن میں سے ایک وہ دن تھا جب عقبہ بن ابی معیط نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں چادر ڈال کر گلا گھونٹا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دھکا دے کر آپ کو چھڑایا اور ایک اس سے پہلا دن کہ جب آپ طواف کر رہے تھے اور جب آپ کفارِ قریش کے پاس سے گزرتے تو وہ کوئی نہ کوئی تکلیف دہ بات کرتے، تین چکروں میں ایسا ہی ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَسْمَعُوْنَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! أَمَا وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ] ”قریشیو! سنتے ہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں تمھارے پاس (تمھارے) ذبح (کا پیغام) لے کر آیا ہوں۔“ [مسند أحمد: 218/2، ح: ۷۰۵۴۔ مسند أبی یعلٰی: 425/6، ح: ۷۳۳۹] مسند احمد اور مسند ابی یعلی ٰ دونوں کی تحقیق میں اسے حسن کہا گیا ہے۔
ذبح کا یہ حکم جسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے، جب اس پر عمل کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کرکے دکھایا اور فرمایا: [أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَنْ لَا إِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ، وَيُقِيْمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلاَمِ وَ حِسَابُهُمْ عَلَی اللّٰهِ] [بخاري، الإیمان، باب: «فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ…» : ۲۵، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما] ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کا رسول ہے۔ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، جب وہ یہ کام کر لیں تو انھوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“
➌ جہادِ کبیر کی تفسیر دعوت و قتال دونوں کے ساتھ کرنا اس لیے بھی راجح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: [أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟] ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ وَ عُقِرَ جَوَادُهُ] [ابن ماجہ، الجہاد، باب القتال في سبیل اللہ: ۲۷۹۴، قال الشیخ الألباني صحیح] ”جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کا گھوڑا کاٹ دیا گیا۔“ اور طارق ابن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جب آپ رکاب میں پاؤں رکھ چکے تھے: [أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟] ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ] [نسائي، البیعۃ، باب فضل من تکلم بالحق عند إمام جائر: ۴۲۱۴] ”کسی ظالم بادشاہ کے پاس حق بات کہہ دینا۔“ ظاہر ہے ظالم بادشاہ کے سامنے وہی شخص کلمۂ حق کہہ سکتا ہے جو اس کے سامنے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جائے گا، یہ ہر ایرے غیرے کا کام نہیں۔ اس لیے پچھلی حدیث میں اور اس میں کوئی تضاد نہیں۔
➍ اس مقام پر ایک روایت بیان کی جاتی ہے، جس میں مال و جان کی قربانی والے جہاد کو جہاد اصغر قرار دیا گیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ قَالُوْا وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ؟ قَالَ جِهَادُ الْقَلْبِ] ”ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف واپس پلٹ آئے ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”تو وہ جہادِ اکبر کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد القلب (دل کا جہاد)۔“ [”اَلْمَقُوْلُ مِنْ مَا لَيْسَ بِمَنْقُوْلٍ“] کے مصنف ولید بن راشد السعیدان لکھتے ہیں: ”حافظ ابن حجر نے (تسدید القوس میں) فرمایا، یہ ابراہیم بن ابی عَبلَہ کا کلام ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ اس کا اصل کچھ نہیں اور یہ جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ (و اللہ اعلم)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
52-1جاھدھم بہ میں ھا ضمیر کا مرجع قرآن ہے یعنی اس قرآن کے ذریعے سے جہاد کریں یہ آیت مکی ہے ابھی جہاد کا حکم نہیں ملا تھا اس لیے مطلب یہ ہوا کہ قرآن کے اوامرو نواہی کھول کھول کر بیان کریں اور اہل کفر کے لیے جو زجر و توبیخ اور وعیدیں ہیں وہ واضح کریں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ لہٰذا آپ کافروں کا بات نہ مانئے اور اس قرآن کی ہدایات کے مطابق ان سے زبردست جہاد [64] کیجئے۔
[64] کافروں سے جہاد کبیر کیوں اور کیسے؟
یعنی ہم چاہتے تو ہر بستی میں الگ الگ نبی بھیج دیتے اور ہر جگہ ہی حق و باطل کے معرکے بپا ہوتے۔ لیکن ہماری مشیت یہی ہے کہ اب ایک ہی آفتاب نبوت بھیج دیا جائے جس کی رسالت سب لوگوں کے لئے یکساں ہو اور تاقیامت ہو۔ جیسا کہ ایک ہی آفتاب ساری دنیا کو منور کر رہا ہے اور تاقیامت کرتا رہے گا۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ نبی جتنا عظیم الشان ہو گا۔ معرکہ حق و باطل بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔ اسی لئے یہ تاکید فرمائی کہ کافروں سے کسی قسم کے سمجھوتہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ اپنی پوری قوت کے ساتھ ان کافروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیجئے۔ یہ خطاب اگرچہ بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔ لیکن اس میں آپ کی پوری امت بھی شامل ہے۔ جہاد کا لغوی معنی کسی مقصد کے حصول کے لئے بھرپور کوشش ہے اور جہاد کبیر میں تاکید مزید بھی پائی جاتی ہے اور وسعت اور پھیلاؤ بھی۔ یعنی ایک تو اس امت کا ہر فرد اپنی اس کوشش میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے اور اپنے تمام تر ذرائع استعمال کرے۔ اور دوسرے یہ کہ دشمن کا ہر اس محاذ پر مقابلہ کیا جائے۔ جس پر اسلام دشمن طاقتیں کام کر رہی ہوں۔ اور اس میں زبان و قلم کا جہاد بھی شامل ہے، مال کا بھی اور توپ و تفنگ کا بھی۔ غرضیکہ جس محاذ پر بھی دشمن آور ہو اسی محاذ پر اس کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ’ تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:92]
اور آیت میں ہے کہ ’ اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ ‘ ۱؎ [7-الأعراف:158]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3]
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335]
پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [9-التوبة:73] یعنی ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
اور آیت میں ہے کہ ’ اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ ‘ ۱؎ [7-الأعراف:158]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3]
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ { تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335]
پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [9-التوبة:73] یعنی ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔
اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔
اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔
کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔
کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ۱؎ [55-الرحمن:19-21] ’ اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ ‘
اور آیت میں ہے: ’ کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘ ۱؎ [27-النمل:61]
اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔
اور آیت میں ہے: ’ کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘ ۱؎ [27-النمل:61]
اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔