ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 48

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ۚ وَ اَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوۡرًا ﴿ۙ۴۸﴾
اور وہی ہے جس نے ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری کے لیے بھیجا اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔ En
اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت کے مینھہ کے آگے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ اور ہم آسمان سے پاک (اور نتھرا ہوا) پانی برساتے ہیں
En
اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوش خبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 48) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا …:} دیکھیے سورۂ اعراف (۵۷) ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ ہے کہ وہ ہواؤں کو خوش خبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے کہ وہ اپنے بعد بادل آنے کی خوش خبری دیتی ہیں، اور ہواؤں کی کئی قسمیں ہیں جو کئی کاموں پر مقرر ہیں، بعض وہ جو بادلوں کو ابھارتی ہیں، بعض انھیں اٹھاتی ہیں، کچھ انھیں ہانکتی ہیں، کچھ ان سے پہلے بشارت دیتی ہیں، کچھ زمین پر جھاڑو پھیر دیتی ہیں اور کچھ بادلوں میں بار آوری کا کام کرتی ہیں، تاکہ ان سے بارش برسے۔ یعنی ہواؤں، بادلوں اوربارش کے اس سلسلے کا خالق اور مالک و مختار بھی وہی ہے۔ اس حقیقت کو مشرکینِ مکہ بھی تسلیم کرتے تھے۔
➋ { وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًا:} یہاں پھر غائب سے متکلم کی طرف التفات ہے۔ { السَّمَآءِ } سے مراد بادل ہے۔ { طَهُوْرًا } جس کے ساتھ طہارت حاصل کی جائے جیسا کہ {وَقُوْدٌ} جس کے ساتھ آگ جلائی جائے، {وَضُوْءٌ} جس کے ساتھ وضو کیا جائے، {سَحُوْرٌ} جس کے ساتھ سحری کی جائے اور {سَنُوْنٌ} جس کے ساتھ دانت صاف کیے جائیں۔ یعنی ہم نے بادل سے پانی اتارا جو ہر طرح کی گندگیوں سے پاک ہوتا ہے اور ہر طرح کے جراثیم اور زہریلے مادوں سے بھی۔ زمین سے جو پانی بخارات کی صورت میں بادل کی صورت اختیار کرتا ہے وہ بخارات بن کر اڑنے سے پہلے نجس ہو یا زہر آلود، نمکین ہو یا کسی عنصر کے ساتھ ملا ہوا، جب بادل سے برسے گا تو ہر آمیزش اور نجاست سے پاک ہو گا اور صرف خود ہی پاک نہیں ہو گا بلکہ دوسری چیزوں کو بھی نجاست سے پاک کرنے والا ہو گا۔ یہ آیت دلیل ہے کہ کسی بھی چیز کو پاک کرنے کا اصل ذریعہ پانی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

48-1طَھُور فعول کے وزن پر آلے کے معنی میں ہے۔ یعنی ایسی چیزیں جس سے پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے جیسے وضو کے پانی کو وضو اور ایندھن کو وقود کہا جاتا ہے اس معنی میں پانی طاہر خود بھی پاک اور مطہر دوسروں کو پاک کرنے والا بھی ہے حدیث میں بھی ہے ان الماء طہور لا ینجسہ شیء ابو داؤد۔ ذائقہ بدل جا‏ئے تو ایسا پانی ناپاک ہے کما فی الحدیث

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

48۔ اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پیشتر ہواؤں [60] کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے اور ہم نے ہی آسمان سے صاف ستھرا [61] پانی اتارا ہے۔
[60] ہواؤں کی مختلف اقسام:۔
﴿رياح﴾ کا لفظ ﴿ريح﴾ کی جمع ہے۔ جس کا معنی محض ہوا ہے خواہ وہ چل رہی ہو یا ساکن ہو اور اگر وہ حرکت میں ہو یعنی چل رہی ہو تو عربی زبان میں ہر سمت سے چلنے والی ہوا کے لئے الگ الگ لغت ہے۔ جو ہوا شمال سے جنوب کی طرف چل رہی ہو اس ہوا کو بھی شمال ہی کہتے ہیں اور یہ عموماً بارش لاتی ہے اور جو جنوب سے شمال کو چلے اسے جنوب کہتے ہیں اور یہ عموماً بادلوں کو اڑا لے جانے والی ہوتی ہے جو مشرق سے مغرب کو عموماً صبح کے وقت چلتی ہے اسے صبا کہتے ہیں اور یہ دل کو فرحت بخشنے والی ہوتی ہے اور جو مغرب سے مشرق کو چلے اسے دبور کہتے ہیں۔ اسے منحوس خیال کیا جاتا ہے۔ عاد کی قوم اسی ہوا سے ہلاک ہوئی تھی۔ اگرچہ ریاح ریح کی جمع ہے لیکن قرآن نے ریح اور ریاح کی الگ الگ مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ ریح کا لفظ عموماً عذاب دینے والی ہوا کے لئے استعمال ہوا ہے۔ [مثالوں كے لئے ديكهئے 3: 117، 14: 18، 33: 9، 54: 19 وغيره]
اور ارسال الریح کا لفظ عموماً رحمت کی ہواؤں کے لئے آتا ہے۔ جیسے اس مقام پر بھی ہوا ہے۔ [نيز ديكهئے 7: 57، 15: 22، 30: 46، 30: 48 وغيره]
اور باران رحمت لانے والی ہواؤں کے لئے جمع کا صیغہ غالباً اس لئے استعمال ہوا ہے کہ اس میں آبی بخارات بھی شامل ہوتے ہیں۔ سورج کی یا آگ کی حرارت سے پانی کی سطح پر سے جو آبی بخارات اٹھتے ہیں ان کا خاصا صرف یہ ہے کہ وہ سیدھا اوپر کو اٹھتے ہیں اوپر اٹھ کر کوئی خاص سمت اختیار کرنا آبی بخارات کا خاصہ نہیں ہے۔ اب ان کو ہوائیں ہی کسی خاص سمت میں جس طرح اللہ کو منظور ہوتا ہے، اڑا لاتی ہیں۔ اور جس مقام پر اللہ تعالیٰ کو بارش برسانا منظور ہوتا ہے وہاں پہلے ہی ایسی پانی سے سے لدھی ہواؤں کے ٹھنڈے جھونکے آنا شروع ہو جاتے ہیں جو ایک طرف تو بارش کی آمد کی خوشخبری بتاتے ہیں دوسری طرف دلوں کو عجیب طرح کا سرور بخشتے ہیں۔
[61] بارش کے پانی کا خوش ذائقہ ہونا اللہ کی ایک نشانی ہے :۔
آبی بخارات عموماً سمندر کی سطح پر سورج کی گرمی سے اوپر اٹھتے ہیں سابقہ آیات میں سایوں کا، پھر رات کے پرسکون ہونے اور دن کے وقت کام کاج کرنے کا ذکر تھا اور یہ سب باتیں سورج سے متعلق ہیں اور بارش کا سلسلہ بھی سورج ہی سے متعلق ہے۔ اسی نسبت سے ساتھ ہی اس کا بھی ذکر آگیا۔ اب یہ تو واضح بات ہے کہ سمندر کا پانی کڑوا اور سخت نمکین ہوتا ہے پھر اس میں کئی قسم کے کیمیائی اجزاء بھی ملے ہوتے ہیں۔ سمندر کا پانی جسم کے کسی حصے پر لگ جائے تو اسے چبھنے لگ جاتا ہے۔ اور جب تک سادہ اور صاف پانی سے وہ جگہ دھوئی نہ جائے چین نہیں آتا۔ لیکن حیران کن بات ہے کہ اس کے بخارات سے جو بارش برستی ہے اس میں نہ نمک کی آمیزش ہوتی ہے نہ کسی دوسرے کیمیکل کی۔ حالانکہ ہم خود آبی بخارات کے ذریعہ عرق کشید کرتے ہیں۔ مثلاً سونف کا عرق یا گلاب کا عرق تو اس عرق میں سونف یا گلاب کا ذائقہ، تاثیر حتیٰ کہ خوشبو تک سب کچھ منتقل ہو جاتا ہے۔ مگر سمندر کے آبی بخارات سے برسنے والی بارش ہر قسم کے اثرات سے پاک صاف اور محفوظ ہوتی ہے۔ اور یہ پانی خود ہی پاک صاف نہیں ہوتا بلکہ دوسری اشیاء کو بھی گندگی، غلاظت اور نجاست سے پاک صاف بنا دیتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔
ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔
یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔
اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔
عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔
پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [22-الحج:5]‏‏‏‏
علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ ‘ ۱؎ [42-الشورى:28]‏‏‏‏
اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:5]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔
بارش اللہ کے حکم سے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔
ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔
بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:810]‏‏‏‏