ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 44

اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ یَعۡقِلُوۡنَ ؕ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿٪۴۴﴾
یا تو گمان کرتا ہے کہ ان کے اکثر سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں، وہ نہیں ہیں مگر چوپائوں کی طرح ، بلکہ وہ راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہیں۔ En
یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں
En
کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں۔ وه تو نرے چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیاده بھٹکے ہوئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44){ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ …: } راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ اس لیے کہ جانور تو معذور ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سوچنے سمجھنے کا مادہ ہی نہیں رکھا، مگر افسوس ان پر ہے جو عقل و شعور رکھتے ہیں مگر اس سے کوئی کام نہیں لیتے، یا لیتے ہیں تو الٹا لیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ چوپائے تو پھر بھی اپنے مالک کے تابع رہتے ہیں، چراگاہ میں چلے جاتے ہیں، پھر واپس ٹھکانے پر پہنچ جاتے ہیں، مگر یہ نہ اپنے خالق و مالک کو پہچانتے ہیں نہ اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

43-1یعنی یہ چوپائے جس مقصد کے لئے پیدا کیئے گئے ہیں، اسے وہ سمجھتے ہیں۔ لیکن انسان، جسے صرف اللہ کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا تھا، وہ رسولوں کی یاد دہانی کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتا اور در در پر اپنا ماتھا ٹیکتا پھرتا ہے۔ اس اعتبار سے چوپائے سے بھی زیادہ بدتر اور گمراہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ یا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو مویشیوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے [56] ہیں۔
[56] کافر مویشیوں سے بد تر کیوں ہیں؟
ایسے انسانوں کی مویشیوں سے بدتر ہونے کی دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ ہر مویشی اپنے پالنے والے کو خوب پہچانتا ہے اور اس کا وفادار اور فرمانبردار ہوتا ہے۔ اور اپنے مالک کے سامنے گردن جھکا دیتا ہے۔ اور اگر انہیں کھلا چھوڑ دیا جائے تو اپنے مالک کے گھر واپس آتے ہیں۔ لیکن حضرت انسان کا یہ حال ہے کہ وہ بات تسلیم کرنے کے باوجود کہ اس کا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے۔ اپنی نیاز مندیوں اور نذروں نیازوں میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک بنا لیتا ہے۔ اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی آنکھوں اور کانوں سے اتنا ہی کام نہ لینا چاہئے۔ جتنا جانور لیتے ہیں۔ مثلاً بھیڑ بکریوں کا ریوڑ اپنے ہانکنے والے کو دیکھتا ہے اور اس کی آواز سنتا ہے۔ بھیڑ بکریاں بس اس کے اشارے پر چلتی ہیں انہیں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ ہانکنے والا انھیں چرانے کے لئے لے جا رہا ہے یا ذبح کرنے کے لئے۔ کیونکہ اللہ نے انہیں اتنی عقل نہیں دی کہ وہ قرائن سے آنے والے حال کا کچھ اندازہ کر سکیں لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسی عقل و تمیز عطا کی ہے کہ وہ چرواہے اور قصائی میں امتیاز کر سکے لیکن اس کے باوجود جو شخص اپنے بھلے اور برے میں تمیز نہ کر سکے یا اسے یہ بھی معلوم نہ ہو سکے کون سے سیدھی راہ کی طرف بلا رہا ہے اور کون گمراہی کی تاریکیوں میں دھکیل رہا ہے؟ اس کا دوست کون ہو سکتا ہے اور دشمن کون؟ تو ایسے انسان واقعی جانوروں سے بد تر ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔