(آیت 39) ➊ { وَكُلًّاضَرَبْنَالَهُالْاَمْثَالَ:} یعنی ہم نے ہر ایک کو مثالیں اور دلائل دے دے کر سمجھایا۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے ہر ایک کو پہلی تباہ شدہ قوموں کی مثالیں بیان کرکے سمجھایا۔ ➋ { وَكُلًّاتَبَّرْنَاتَتْبِيْرًا: ”تَبَّرَيُتَبِّرُتَتْبِيْرًا“} کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دینا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
39-1یعنی دلائل کے ذریعے سے ہم نے حجت قائم کردی۔ 39-2یعنی تمام حجت کے بعد۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ ان میں ہر ایک کے لئے ہم نے (پہلے تباہ شدہ قوموں کی) مثالیں [51] بیان کر کے سمجھایا آخر ان سب کا نام و نشان تک مٹا دیا۔
[51] ہر قوم کے متعلق ہمارا طریقہ یہی رہا کہ ان کی طرف نبی بھیجا گیا جس نے اس قوم کو سابقہ اقوام کے انجام سے متنبہ کیا۔ پھر انہیں مختلف انداز سے مثالیں دے دے کر سمجھایا گیا۔ پھر انہیں غور و فکر کے لئے مہلت بھی دی گئی۔ ان سب باتوں کے بعد بھی جب وہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے اور ان پر حجت قائم ہو گئی تو پھر ہم نے انہیں اس طرح تباہ کیا کہ ان کا نام و نشان نہ رہنے دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔