ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَ اَصۡحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوۡنًۢا بَیۡنَ ذٰلِکَ کَثِیۡرًا ﴿۳۸﴾
اور عاد اور ثمود کو اور کنویں والوں کو اور اس کے درمیان بہت سے زمانے کے لوگوں کو بھی (ہلاک کر دیا)۔ En
اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)
En
اور عادیوں اور ﺛمودیوں اور کنوئیں والوں کو اور ان کے درمیان کی بہت سی امتوں کو (ہلاک کردیا) En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) ➊ {وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ:} نوح علیہ السلام سب سے پہلے نبی ہیں جن کی امت انھیں جھٹلانے کی وجہ سے غرق ہوئی اور موسیٰ علیہ السلام آخری نبی ہیں جن پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے فرعون اور اس کی آل غرق ہوئی۔ اس آیت میں ان کے درمیان کے لوگوں کا ذکر ہے جو پانی کے سوا ہلاک کیے گئے۔ { الرَّسِّ } کا معنی کنواں اور جمع {رِسَاسٌ} ہے۔ ابن جریر نے فرمایا: کلامِ عرب میں { الرَّسِّ } ہر کھودی ہوئی جگہ کو کہتے ہیں، مثلاً کنواں اور قبر وغیرہ۔ اس لیے بعض نے اس سے مراد اصحاب الاخدود بھی لیے ہیں۔ شنقیطی نے فرمایا: عاد و ثمود کا قصہ قرآن کی متعدد آیات میں آیا ہے، رہے {اَصْحٰبَ الرَّسِّ } تو قرآن میں نہ ان کے قصے کی تفصیل آئی ہے نہ ان کے نبی کا نام آیا ہے۔ ان کے متعلق مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں جو سب بے دلیل ہیں، اس لیے ہم نے انھیں ذکر نہیں کیا۔ { الرَّسِّ } ایک وادی کا نام بھی ہے، جس کا زہیر نے اپنے مُعَلَّقہ میں ذکر کیا ہے:
{بَكَرْنَ بُكُوْرًا وَاسْتَحَرْنَ بِسُحْرَةٍ
فَهُنَّ لِوَادِي الرَّسِّ كَالْيَدِ لِلْفَمِ }
➋ { وَ قُرُوْنًۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا: قَرْنٌ} ایک زمانے کے لوگ جو ایک دوسرے سے ملتے رہے ہوں، {فَهُوَ مِنَ الْاِقْتِرَانِ۔ بَيْنَ ذٰلِكَ } (اس کے درمیان) سے مراد نوح اور موسیٰ علیھما السلام کے درمیان کا یا عاد و ثمود اور اصحاب الرس کے درمیان کا زمانہ ہے۔ دوسری جگہ ان کی کثرت کے متعلق فرمایا: «{ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ [إبراہیم: ۹] کیا تمھارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، نوح کی قوم کی (خبر) اور عاد اور ثمود کی اور ان کی جو ان کے بعد تھے، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور فرمایا: «{ وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ [بني إسرائیل: ۱۷] اور ہم نے نوح کے بعد کتنے ہی زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بائبل وغیرہ کے حوالے سے نوح اور موسیٰ علیھما السلام کے درمیان آباء کی گنتی اور سالوں کی گنتی کا کچھ اعتبار نہیں، نہ دنیا کی مدت کا کوئی یقینی علم ہے۔ سائنسدانوں کی باتیں بھی محض ظن و تخمین پر مبنی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

38-1رس کے معنی کنویں کے ہیں۔ اَصْحَاب الرَّس کنوئیں والے۔ اس کی تعین میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، امام ابن جریر طبری نے کہا کہ اس سے مراد اصحاب الاخدود ہیں جن کا ذکر سورة البروج میں ہے (ابن کثیر) 38-2قرن کے صحیح معنی ہیں ہم عصر لوگوں کا ایک گروہ۔ جب ایک نسل کے لوگ ختم ہوجائیں تو دوسری نسل دوسرا قدیم زمانہ کہلائے گی۔ (ابن کثیر)، اس کے معنی ہیں ہر نبی کی امت بھی ایک زمانہ ہوسکتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ اور (اسی طرح) قوم عاد، قوم ثمود، کنوئیں والے [50] اور درمیانی پشتوں میں سے بہت سے لوگ (تباہ کر دیئے گئے۔
[50] اصحاب الرس کون ہیں؟
قوم عاد و ثمود کا ذکر تو قرآن میں بہت سے مقامات پر مذکور ہے مگر اصحاب الرس یا کنویں والوں کا ذکر صرف دو مقامات پر آیا ہے۔ ایک اسی جگہ اور دوسری سورۃ ق کی آیت نمبر 12 میں۔ ان مقامات پر ان کا ذکر اس قدر مختصر ہے جس سے ان کے حالات پر کچھ روشنی نہیں پڑتی۔ نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ ان کی طرف کون سا نبی مبعوث ہوا تھا۔ لغوی لحاظ سے رس بڑے کنوئیں کو کہتے ہیں۔ جس میں پانی وافر مقدار میں موجود ہو اسی وجہ سے اصحاب الرس کے بارے میں مفسرین میں کئی قسم کے اختلافات ہیں۔ زیادہ مشہور یہی بات ہے اس سے مراد اہل انطاکیہ ہیں۔ ان کی طرف حبیب نجار نبی مبعوث ہوئے تو انہوں نے انھیں جھٹلایا لیکن آپ بدستور انہیں اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔ بالآخر ان لوگوں نے آپ کو مار کر کنوئیں میں ڈال دیا۔ اسی وجہ سے یہ اصحاب الرس کے لقب سے مشہور ہوئے پھر اللہ نے اس کنوئیں سمیت اس بستی کو زمین میں دھنسا دیا۔ ﴿والله اعلم بالصواب﴾

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔