ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 23

وَ قَدِمۡنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ فَجَعَلۡنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾
اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہو گا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے۔ En
اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو ان کو اُڑتی خاک کردیں گے
En
اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23) {وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ …: هَبَآءً } غبار کے ان ذرّات کو کہتے ہیں جو روشن دان کے ذریعے سے کمرے میں آنے والی دھوپ میں چمک رہے ہوتے ہیں، پکڑنا چاہیں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ کوئی شخص جسے کسی چیز سے شدید کراہت و نفرت ہو وہ اسے کسی دوسرے کے ہاتھوں تباہ و برباد کرنے پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ وہ خود اسے تباہ و برباد کرتا ہے، اس لیے فرمایا کہ جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے، دنیا میں دیکھیں یا آخرت میں، تو انھوں نے اپنے خیال میں جو بھی اچھا عمل کیا ہو گا، خواہ سخاوت ہو یا صلہ رحمی یا مظلوم کی مدد یا بیت اللہ کی آباد کاری اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ، ہم خود اس کی طرف آئیں گے اور اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے، کیونکہ عمل کی قبولیت کے لیے ایمان، اخلاص اور اس کا شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے، جب کہ ان کے اعمال اس سے خالی تھے۔ روشن دان سے آنے والی روشنی میں سکون کی حالت میں غبار کے ذرات پھر بھی کچھ مرتب اور موجود نظر آتے ہیں، لیکن جب انھیں ہوا یا کوئی اور چیز حرکت دیتی ہے تو کچھ ہاتھ نہیں آتا اور وہ سب بکھر کر کالعدم ہو جاتے ہیں، اس لیے انھیں بکھرا ہوا غبار فرمایا۔ (بقاعی) کفار کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے کہیں {رَمَادٌ} (راکھ) کے ساتھ تشبیہ دی ہے (دیکھیے ابراہیم: ۱۸)، کہیں سراب کے ساتھ (دیکھیے نور: ۳۹) اور کہیں فرمایا کہ ہم ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ (دیکھیے کہف: ۱۰۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23-1ھَبَاَء ان باریک ذروں کو کہتے ہیں جو کسی سوراخ سے گھر کے اندر داخل ہونے والی سورج کی کرن میں محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی انھیں ہاتھ میں پکڑنا چاہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ کافروں کے عمل بھی قیامت والے دن ان ہی ذروں کی طرح بےحیثیت ہونگے، کیونکہ وہ ایمان و اخلاص سے بھی خالی ہونگے اور موافقت شریعت کی مطابقت بھی۔ یہاں کافروں کے اعمال کو جس طرح بےحیثیت ذروں کی مثل کہا گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے مقامات پر کہیں راکھ سے، کہیں سراب سے اور کہیں صاف چکنے پتھر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ساری تمثیلات پہلے گزر چکی ہیں ملاحظہ ہو (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ) 2۔ البقرۃ:264) (مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ۭ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ) 14۔ ابراہیم:18)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ اور جو کچھ انہوں نے کیا دھرا ہو گا ہم ادھر توجہ کریں گے تو اسے اڑتا ہوا غبار [33] بنا دیں گے۔
[33] کافروں کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ کیوں نہیں ملے گا؟
کفار مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ گر تم کچھ اچھے کام کرتے ہو تو ہم بھی بہت سے اچھے کام کرتے ہیں۔ ہم حاجیوں کی خبرگیری کرتے ہیں۔ انھیں پانی پلانے کا انتظام کرتے ہیں۔ ان کی امداد کرتے ہیں۔ غریبوں مسکینوں اور بیواؤں کے لئے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں اور انہیں وظیفے دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہاں کافروں کے ایسے ہی اچھے اعمال کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہم ان کے ایسے اعمال کی طرف بڑھیں گے تو انھیں اڑتا غبار بنا دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ اعمال اس غرض سے تو کئے ہی نہیں تھے کہ ان کو آخرت میں ان کا بدلہ ملے۔ کیونکہ وہ آخرت پر تو یقین ہی نہیں رکھتے تھے۔ ان کے اعمال کی کچھ بنیاد ہی نہ تھی۔ جس پر وہ قائم رہ سکتے۔ دنیا میں اگر انہوں نے کچھ اچھے اعمال کئے تھے۔ تو صرف اس غرض سے کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں اور اچھا کہیں اور یہ کام دنیا میں ہو چکا۔ ان کے اچھے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا میں مل چکا۔ آخرت میں ان کو اب کیا ملے گا؟ اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف میں یوں بیان فرمایا: ﴿فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا [105:18] یعنی ہم ایسے لوگوں کے لئے میزان الاعمال رکھیں گے ہی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے اچھے عمل تو اڑتا ہوا غبار بن گئے۔ اب نیکیوں کے پلڑے میں رکھنے کے لئے کیا چیز باقی رہ گئی کہ ان کے لئے میزان رکھی جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔