(آیت 14){ لَاتَدْعُواالْيَوْمَثُبُوْرًاوَّاحِدًا …:} یعنی انھیں یہ جواب دیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۷۷) اور مومن (۴۹، ۵۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14-1یعنی جہنمی جب جہنم کے عذاب سے تنگ آ کر آرزو کریں گے کہ کاش انھیں موت آجائے، وہ فنا کے گھاٹ اتر جائیں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ اب ایک موت نہیں کئی موتوں کو پکارو۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہاری قسمت میں ہمیشہ کے لئے انواع و اقسام کے عذاب ہیں یعنی موتیں ہی موتیں ہیں، تم کہاں تک موت کا مطالبہ کرو گے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ (اس وقت انھیں کہا جائے گا) آج ایک نہیں بہت سی [18] موتوں کو پکارو۔
[18] آج ایک موت کے لئے کیا چیخ و پکار کرتے ہو۔ سینکڑوں موتیں مانگو، تب بھی تمہارا یہ پکارنا لاحاصل ہے۔ وہ آرزو تو کریں گے کہ ایک بار مریں تو چھٹکارا حاصل ہو جائے۔ دن میں ہزار بار مرنے سے جو بری حالت ہو رہی ہے اس سے نجات پا جائیں گے مگر یہ پکار بالکل بے سود ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔