قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡہِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیۡکُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوۡہُ تَہۡتَدُوۡا ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۵۴﴾
کہہ دے اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمھارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پاجاؤ گے اور رسول کے ذمے تو صاف پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔
En
کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
En
کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 54) ➊ { قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ:} یعنی صرف اللہ کا نہیں بلکہ اللہ کا بھی اور اس کے ساتھ رسول کا بھی حکم مانو۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کا کہنا ماننا یہی ہے کہ ان کی سنت کی پیروی کی جائے۔
➋ {فَاِنْ تَوَلَّوْا: ” تَوَلَّوْا “} اصل میں {”تَتَوَلَّوْا“} ہے، جو مضارع میں سے مخاطب کا صیغہ ہے، معنی ہے اگر تم پھر جاؤ۔ یہ فعل ماضی سے غائب کا صیغہ نہیں، جس کا معنی ہے اگر وہ پھر جائیں، کیونکہ آگے انھیں مخاطب کیا جا رہا ہے: «{ فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ }» یعنی اگر تم کسی طرح کی بھی حکم عدولی کرو گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ نقصان نہیں۔ اس کی ذمہ داری تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دینا تھی، سو اس نے یہ پیغام پہنچا دیا، اب اس پر عمل کرنا تمھاری ذمہ داری ہے، اگر تم اس سے پیٹھ پھیرتے ہو تو اپنا انجام خود سوچ لو۔
➌ { وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا:} یعنی اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اس کے سوا جس کی بھی اطاعت کرو گے ہدایت نہیں پاؤ گے۔ ابن عطیہ نے یہاں سلف میں سے بعض کا قول نقل فرمایا ہے جو اس آیت کی بہترین تفسیر ہے، لکھتے ہیں: ”جو شخص اپنے قول و فعل میں سنت کو اپنا امیر بنا لے وہ حکمت اور دانائی کی بات کرے گا اور جو اپنے قول و فعل میں خواہش کو امیر بنا لے وہ بدعت کی بات کرے گا۔“ [المحرر الوجیز]
➍ { وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ:} یعنی اگر تمھیں ہدایت نہ ہو تو گرفت رسول کی نہیں تمھاری ہو گی۔
➋ {فَاِنْ تَوَلَّوْا: ” تَوَلَّوْا “} اصل میں {”تَتَوَلَّوْا“} ہے، جو مضارع میں سے مخاطب کا صیغہ ہے، معنی ہے اگر تم پھر جاؤ۔ یہ فعل ماضی سے غائب کا صیغہ نہیں، جس کا معنی ہے اگر وہ پھر جائیں، کیونکہ آگے انھیں مخاطب کیا جا رہا ہے: «{ فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ }» یعنی اگر تم کسی طرح کی بھی حکم عدولی کرو گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ نقصان نہیں۔ اس کی ذمہ داری تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دینا تھی، سو اس نے یہ پیغام پہنچا دیا، اب اس پر عمل کرنا تمھاری ذمہ داری ہے، اگر تم اس سے پیٹھ پھیرتے ہو تو اپنا انجام خود سوچ لو۔
➌ { وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا:} یعنی اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اس کے سوا جس کی بھی اطاعت کرو گے ہدایت نہیں پاؤ گے۔ ابن عطیہ نے یہاں سلف میں سے بعض کا قول نقل فرمایا ہے جو اس آیت کی بہترین تفسیر ہے، لکھتے ہیں: ”جو شخص اپنے قول و فعل میں سنت کو اپنا امیر بنا لے وہ حکمت اور دانائی کی بات کرے گا اور جو اپنے قول و فعل میں خواہش کو امیر بنا لے وہ بدعت کی بات کرے گا۔“ [المحرر الوجیز]
➍ { وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ:} یعنی اگر تمھیں ہدایت نہ ہو تو گرفت رسول کی نہیں تمھاری ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
54-1یعنی تبلیغ و دعوت، جو وہ ادا کر رہا ہے۔ 54-2یعنی تبلیغ و دعوت کو قبول کر کے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت کرنا۔ 54-3اس لئے کہ صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
54۔ آپ ان سے کہئے کہ ”اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو“ پھر اگر تم اطاعت نہیں کرو گے تو رسول کے ذمہ تو وہی کچھ ہے جس کا وہ مکلف ہے (یعنی تبلیغ کا) اور تمہارے ذمہ وہ کچھ ہے جس کے تم مکلف ہو (یعنی اطاعت کے) اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ صاف صاف [82] پیغام پہنچا دے۔
[82] یعنی رسول اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا پابند ہے اور تم اپنی ذمہ داری کے۔ رسول کی ذمہ داری اتنی ہی ہے کہ وہ تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دے اور وہ اس نے پوری کر دی۔ اور تمہارے ذمہ یہ بات ہے کہ تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو جس میں تم پس و پیش کر رہے ہو۔ اور نری قسمیں کھا کھا کر ہی آئندہ کے لئے اطاعت کا یقین دلانا چاہ رہے ہو لیکن یاد رکھو کہ اگر اس کے احکام کی تعمیل کرو گے تو اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی عزت و آرام سے رہو گے اور آخرت میں کامیاب رہو گے۔ اور اگر ایسا نہ کرو گے تو اس میں رسول کا کچھ نقصان نہیں۔ تمہاری خباثتوں کا خمیازہ تمہیں ہی بھگتنا پڑے گا۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مکار منافق ٭٭
اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بے قرار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھربار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے ‘۔
اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے «يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [9-التوبة:96] ’ ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے ‘، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ «اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:2] ’ تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہیں ‘۔ «لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ» ۱؎ [59-الحشر:12] ’ ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال بنائے ہوئے ہیں تم سے ہی نہیں بلکہ کافروں کے سامنے بھی ان کی موافقت اور ان کی امداد کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن اتنے بزدل ہیں کہ ان کا ساتھ خاک بھی نہیں دے سکتے ‘۔
اس جملے کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ تمہیں تو معقول اور پسندیدہ اطاعت کاشیوہ چاہے نہ کہ قسمیں کھانے اور ڈینگیں مارنے کا، تمہارے سامنے مسلمان موجود ہیں دیکھو نہ وہ قسمیں کھاتے ہیں نہ بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں، ہاں کام کے وقت سب سے آگے نکل آتے ہیں اور فعلی حصہ بڑھ چڑھ کر لیتے ہیں۔ اللہ پر کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے باخبر ہے۔ ہر عاصی اور مطیع اس پر ظاہر ہے۔ ہر ایک باطن پر بھی اس کی نگاہیں ویسی ہی ہیں جیسی ظاہر پر، گو تم ظاہر کچھ کرو لیکن وہ باطن پر بھی اگاہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یعنی قرآن اور حدیث کی اتباع کرو اگر تم اس سے منہ موڑ لو، اسے چھوڑ دو تو تمہارے اس گناہ کا وبال میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں۔ اس کے ذمے تو صرف پیغام الٰہی پہنچانا اور ادائے امانت کر دینا ہے۔ تم پر وہ ہے جس کے ذمے دار تم ہو یعنی قبول کرنا، عمل کرنا وغیرہ ‘۔
ہدایت صرف اطاعت رسول میں ہے، اس لیے کہ «صِرَاطِ اللَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَلَا إِلَى اللَّـهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ» ۱؎ [42-الشورى:53] ’ صراط مستقیم کا داعی وہی ہے جو صراط مستقیم اس اللہ تک پہنچاتی ہے جس کی سلطنت تمام زمین آسمان ہے ‘۔ «وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے صرف پہنچادینا ہی ہے، سب کا حساب ہمارے ذمے ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22،21]، ’ تو صرف ناصح و واعظ ہے۔ انہیں نصیحت کر دیا کر، تو ان کا وکیل یا داروغہ نہیں ‘۔
اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے «يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [9-التوبة:96] ’ ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے ‘، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ «اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:2] ’ تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہیں ‘۔ «لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ» ۱؎ [59-الحشر:12] ’ ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال بنائے ہوئے ہیں تم سے ہی نہیں بلکہ کافروں کے سامنے بھی ان کی موافقت اور ان کی امداد کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن اتنے بزدل ہیں کہ ان کا ساتھ خاک بھی نہیں دے سکتے ‘۔
اس جملے کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ تمہیں تو معقول اور پسندیدہ اطاعت کاشیوہ چاہے نہ کہ قسمیں کھانے اور ڈینگیں مارنے کا، تمہارے سامنے مسلمان موجود ہیں دیکھو نہ وہ قسمیں کھاتے ہیں نہ بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں، ہاں کام کے وقت سب سے آگے نکل آتے ہیں اور فعلی حصہ بڑھ چڑھ کر لیتے ہیں۔ اللہ پر کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے باخبر ہے۔ ہر عاصی اور مطیع اس پر ظاہر ہے۔ ہر ایک باطن پر بھی اس کی نگاہیں ویسی ہی ہیں جیسی ظاہر پر، گو تم ظاہر کچھ کرو لیکن وہ باطن پر بھی اگاہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یعنی قرآن اور حدیث کی اتباع کرو اگر تم اس سے منہ موڑ لو، اسے چھوڑ دو تو تمہارے اس گناہ کا وبال میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں۔ اس کے ذمے تو صرف پیغام الٰہی پہنچانا اور ادائے امانت کر دینا ہے۔ تم پر وہ ہے جس کے ذمے دار تم ہو یعنی قبول کرنا، عمل کرنا وغیرہ ‘۔
ہدایت صرف اطاعت رسول میں ہے، اس لیے کہ «صِرَاطِ اللَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَلَا إِلَى اللَّـهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ» ۱؎ [42-الشورى:53] ’ صراط مستقیم کا داعی وہی ہے جو صراط مستقیم اس اللہ تک پہنچاتی ہے جس کی سلطنت تمام زمین آسمان ہے ‘۔ «وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے صرف پہنچادینا ہی ہے، سب کا حساب ہمارے ذمے ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22،21]، ’ تو صرف ناصح و واعظ ہے۔ انہیں نصیحت کر دیا کر، تو ان کا وکیل یا داروغہ نہیں ‘۔
وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شعیاء علیہ السلام کی طرف وحی الٰہی آئی کہ ’ تو بنی اسرائیل کے مجمع میں کھڑا ہوجا، میں تیری زبان سے جو چاہوں گا نکلواؤں گا ‘، چنانچہ آپ علیہ السلام کھڑے ہوئے تو آپ علیہ السلام کی زبان سے بہ حکم الٰہی یہ خطبہ بیان ہوا:
”اے آسمان سن، اے زمین خاموش رہ، اللہ تعالیٰ ایک شان پوری کرنا اور ایک امر کی تدبیر کرنے والا ہے وہ چاہتا ہے کہ جنگلوں کو آباد کردے، ویرانے کو بسا دے، صحراوں کو سرسبز بنا دے، فقیروں کو غنی کر دے، چرواہوں کو سلطان بنا دے، ان پڑھوں میں سے ایک امی کو نبی بنا کر بھیجے جو نہ بدگو ہو نہ بد اخلاق ہو، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا ہو، اتنا مسکین صفت ہو اور متواضع ہو کہ اس کے دامن کی ہوا سے چراغ بھی نہ بجھے، جس کے پاس سے وہ گزرا ہو۔ اگر وہ سوکھے بانسوں پر پیر رکھ کر چلے تو بھی چراچراہٹ کسی کے کان میں نہ پہنچے۔ میں اسے بشیر و نذیر بنا کر بھیجوں گا، وہ زبان کا پاک ہو گا، اندھی آنکھیں اس کی وجہ سے روشن ہو جائیں گی، بہرے کان اس کے باعث سننے لگیں گے، غلاف والے دل اس کی برکت سے کھل جائیں گے۔ ہر ایک بھلے کام سے میں اسے سنواردوں گا۔ حکمت اس کی باتیں ہوں گی، صدق و وفا کی کی طبیعت ہوگی، عفو ودرگزر کرنا اور عمدگی و بھلائی چاہنا اس کی خصلت ہو گی۔ حق اس کی شریعت ہوگی، عدل اس کی سیرت ہو گی، ہدایت اس کی امام ہوگی۔ اسلام اس کی ملت ہو گا۔
احمد اس کا نام ہوگا (صلی اللہ علیہ وسلم ) گمراہی کے بعد اس کی وجہ سے میں ہدایت پھیلاوں گا، جہالت کے بعد علم چمک اٹھے گا، پستی کے بعد اس کی وجہ سے ترقی ہو گی۔ نادانی اس کی ذات سے دانائی میں بدل جائے گی۔ کمی زیادتی سے بدل جائے گی، فقیری کو اس کی وجہ سے میں امیری سے بدل دوں گا۔ اس کی ذات سے جدا جدا لوگوں کو میں ملا دوں گا، فرقت کے بعد الفت ہوگی، انتشار کے بعد اتحاد ہوگا، اختلاف کے بعد اتفاق ہوگا، مختلف دل، جداگانہ خواہشیں ایک ہو جائیں گی۔ بے شمار بندگان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کر دوں گا جو لوگوں کے نفع کے لیے ہوگی، بھلائیوں کا حکم کرنے والی برائیوں سے روکنے والی ہوگی، موحد مومن مخلص ہوں گے، اللہ کے جتنے رسول اللہ کی طرف سے جو لائے ہیں یہ سب کو مانیں گے، کسی کے منکر نہ ہوں گے۔“
”اے آسمان سن، اے زمین خاموش رہ، اللہ تعالیٰ ایک شان پوری کرنا اور ایک امر کی تدبیر کرنے والا ہے وہ چاہتا ہے کہ جنگلوں کو آباد کردے، ویرانے کو بسا دے، صحراوں کو سرسبز بنا دے، فقیروں کو غنی کر دے، چرواہوں کو سلطان بنا دے، ان پڑھوں میں سے ایک امی کو نبی بنا کر بھیجے جو نہ بدگو ہو نہ بد اخلاق ہو، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا ہو، اتنا مسکین صفت ہو اور متواضع ہو کہ اس کے دامن کی ہوا سے چراغ بھی نہ بجھے، جس کے پاس سے وہ گزرا ہو۔ اگر وہ سوکھے بانسوں پر پیر رکھ کر چلے تو بھی چراچراہٹ کسی کے کان میں نہ پہنچے۔ میں اسے بشیر و نذیر بنا کر بھیجوں گا، وہ زبان کا پاک ہو گا، اندھی آنکھیں اس کی وجہ سے روشن ہو جائیں گی، بہرے کان اس کے باعث سننے لگیں گے، غلاف والے دل اس کی برکت سے کھل جائیں گے۔ ہر ایک بھلے کام سے میں اسے سنواردوں گا۔ حکمت اس کی باتیں ہوں گی، صدق و وفا کی کی طبیعت ہوگی، عفو ودرگزر کرنا اور عمدگی و بھلائی چاہنا اس کی خصلت ہو گی۔ حق اس کی شریعت ہوگی، عدل اس کی سیرت ہو گی، ہدایت اس کی امام ہوگی۔ اسلام اس کی ملت ہو گا۔
احمد اس کا نام ہوگا (صلی اللہ علیہ وسلم ) گمراہی کے بعد اس کی وجہ سے میں ہدایت پھیلاوں گا، جہالت کے بعد علم چمک اٹھے گا، پستی کے بعد اس کی وجہ سے ترقی ہو گی۔ نادانی اس کی ذات سے دانائی میں بدل جائے گی۔ کمی زیادتی سے بدل جائے گی، فقیری کو اس کی وجہ سے میں امیری سے بدل دوں گا۔ اس کی ذات سے جدا جدا لوگوں کو میں ملا دوں گا، فرقت کے بعد الفت ہوگی، انتشار کے بعد اتحاد ہوگا، اختلاف کے بعد اتفاق ہوگا، مختلف دل، جداگانہ خواہشیں ایک ہو جائیں گی۔ بے شمار بندگان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کر دوں گا جو لوگوں کے نفع کے لیے ہوگی، بھلائیوں کا حکم کرنے والی برائیوں سے روکنے والی ہوگی، موحد مومن مخلص ہوں گے، اللہ کے جتنے رسول اللہ کی طرف سے جو لائے ہیں یہ سب کو مانیں گے، کسی کے منکر نہ ہوں گے۔“