اور وہ کہتے ہیں ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے حکم مان لیا، پھر ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد پھر جاتا ہے اور یہ لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔
En
اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھر جاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں
اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول پر ایمان ﻻئے اور فرماں بردار ہوئے، پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے۔ یہ ایمان والے ہیں (ہی) نہیں
En
(آیت 47){ وَيَقُوْلُوْنَاٰمَنَّابِاللّٰهِوَبِالرَّسُوْلِوَاَطَعْنَا:} اس جملے کا {”وَاللّٰهُيَهْدِيْمَنْيَّشَآءُاِلٰىصِرَاطٍمُّسْتَقِيْمٍ“} پر عطف ہے، گویا اللہ تعالیٰ اب ان لوگوں کا ذکر کر رہے ہیں جنھیں ہدایت دینا اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا، یہ وہ لوگ ہیں جو ظاہر تو اسلام کرتے ہیں لیکن دل میں کفر چھپائے ہوئے ہیں، یہ منافق لوگ ہیں۔ اس آیت کا مضمون سورۂ نساء کی آیات (۶۰ تا ۶۵) سے ملتا جلتا ہے، ان کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
47-1یہ منافقین کا بیان ہے جو زبان سے اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن دلوں میں کفر وعناد تھا یعنی اعتقاد صحیح سے محروم تھے۔ اس لئے زبان سے اظہار ایمان کے باوجود ان کے ایمان کی نفی کی گئی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
47۔ یہ (منافق) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اطاعت قبول کی۔ پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فریق (اطاعت سے) منہ پھیر [75] لیتا ہے حقیقتاً یہ لوگ ایماندار نہیں۔
[75] یعنی اپنے عمل سے اپنے قول کی خود ہی تردید کر دیتے ہیں۔ ان کے دعویٰ کے دو جز تھے ایک اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، دوسرے اطاعت کرنا۔ اب چونکہ انہوں نے منہ پھیر کر اطاعت سے انکار کر دیا ہے لہٰذا تو یہ اپنے دعویٰ کے پہلے جز یعنی ایمان لانے کے سلسلہ میں جھوٹے ہوئے۔ اگر سچے دل سے ایمان لائے ہوتے تو کبھی اطاعت سے منہ نہ پھیرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کا بھی عمل اس کے قول یا زبانی دعویٰ کے خلاف ہو۔ حقیقتاً وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
منافق کی زبان اور ، دل ٭٭
منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں، عمل کچھ ہے قول کچھ ہے، اس لیے کہ دراصل ایماندار نہیں ‘۔ حدیث میں ہے کہ { جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے }۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے آیت «أَلَمْتَرَإِلَىالَّذِينَيَزْعُمُونَأَنَّهُمْآمَنُوابِمَاأُنزِلَإِلَيْكَوَمَاأُنزِلَمِنقَبْلِكَيُرِيدُونَأَنيَتَحَاكَمُواإِلَىالطَّاغُوتِوَقَدْأُمِرُواأَنيَكْفُرُوابِهِوَيُرِيدُالشَّيْطَانُأَنيُضِلَّهُمْضَلَالًابَعِيدًاوَإِذَاقِيلَلَهُمْتَعَالَوْاإِلَىٰمَاأَنزَلَاللَّـهُوَإِلَىالرَّسُولِرَأَيْتَالْمُنَافِقِينَيَصُدُّونَعَنكَصُدُودًا»۱؎[4-النساء:60،61] تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہو جائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لیے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بے ایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یاخوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔
دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے }۔ ۱؎[طبرانی کبیر:6939:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔