ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 2

اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجۡلِدُوۡا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا مِائَۃَ جَلۡدَۃٍ ۪ وَّ لَا تَاۡخُذۡکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ۚ وَ لۡیَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲﴾
جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔ En
بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو۔ اور اگر تم خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ان پر ہرگز ترس نہ آئے۔ اور چاہیئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو
En
زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2) ➊ {اَلزَّانِيَةُ وَ الزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا …: } سورۂ نساء کی آیات (۱۵، ۱۶) میں اللہ تعالیٰ نے زنا کرنے والی عورتوں کے متعلق چار مردوں کی گواہی کے بعد انھیں گھروں میں بند رکھنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی سبیل پیدا فرما دے۔ اسی طرح زنا کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورت کو توبہ کرنے تک ایذا و تکلیف دینے کا حکم دیا اور یہاں سورۂ نور کی زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے کنوارے مرد اور کنواری عورت کی سزا بیان فرمائی۔ جیسا کہ عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [خُذُوْا عَنِّيْ، خُذُوْا عَنِّيْ، قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيْلاً، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَ نَفْيُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ] [مسلم، الحدود، باب حد الزنٰی: ۱۶۹۰] مجھ سے (دین کے احکام) لے لو، مجھ سے (دین کے احکام) لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے سبیل پیدا فرما دی ہے۔ کنوارا، کنواری کے ساتھ (زنا کرے) تو ان کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور شادی شدہ، شادی شدہ کے ساتھ (زنا کرے) تو ان کے لیے سو کوڑے اور سنگسار ہے۔ اس آیت سے بالاتفاق سورۂ نساء کی آیت کا حکم منسوخ ہو گیا۔
➋ { اَلزَّانِيَةُ وَ الزَّانِيْ:} یہ مبتدا ہے، اس کی خبر { فَاجْلِدُوْا } ہے۔ اس پر فاء اس لیے آئی ہے کہ مبتدا میں شرط کا معنی پایا جاتا ہے، کیونکہ الف لام، { أَلَّذِيْ } کے معنی میں ہے، یعنی جو زنا کرنے والی عورت اور جو زنا کرنے والا مرد ہے۔ اس آیت میں مسلم حکام کو حکم ہے کہ جو عورت یا جو مرد بھی زنا کا ارتکاب کرے، خواہ وہ کسی دین یا ملت سے تعلق رکھتا ہو، اگر ان کا مقدمہ تمھارے پاس لایا جائے، جب وہ شادی شدہ نہ ہوں تو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ شادی شدہ زانیہ اور زانی کے لیے رجم کا حکم ہے، جیسا کہ گزشتہ فائدہ میں مذکور حدیث میں آیا ہے، مزید تفصیل آگے آئے گی۔
➌ غیر مسلم ذمی اگر زنا کا ارتکاب کریں اور مسلم حکام کے پاس مقدمہ لایا جائے تو ان کا فیصلہ بھی کتاب و سنت کے مطابق کیا جائے گا، جیسا کہ سورۂ مائدہ (۴۸، ۴۹) میں مذکور ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے آپ سے ذکر کیا کہ ان کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا تَجِدُوْنَ فِي التَّوْرَاةِ فِيْ شَأْنِ الرَّجْمِ؟] تم تورات میں رجم کے متعلق کیا پاتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم انھیں ذلیل کرتے ہیں اور انھیں کوڑے مارے جاتے ہیں۔ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے جھوٹ کہا، تورات میں رجم یقینا موجود ہے۔ چنانچہ وہ تورات لائے اور اسے کھولا، تو ان میں سے ایک شخص نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ دیا اور جو اس سے پہلے اور اس کے بعد تھا اسے پڑھ دیا۔ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ہاتھ اٹھا۔ اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس میں رجم کی آیت موجود تھی، توکہنے لگے: اے محمد! اس نے سچ کہا ہے، اس میں رجم کی آیت موجود ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور دونوں کو سنگسار کر دیا گیا۔ [بخاري، الحدود، باب أحکام أہل الذمۃ و إحصانہم إذا زنوا و رفعوا إلی الإمام: ۶۸۴۱]
امام بخاری رحمہ اللہ کے باب کے عنوان قائم کرنے سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اہل ذمہ اگر مقدمہ مسلمانوں کے پاس لائیں تو ان کے لیے بھی زنا کی سزا وہی ہے جو مسلمانوں کے لیے ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں پر بھی رجم کا حکم نافذ فرمایا۔ تفصیل کے لیے فتح الباری ملاحظہ فرمائیں۔ جن روایات میں اس حد کے نفاذ کے لیے اسلام کی شرط آئی ہے، ان میں سے کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں ذمی غیر مسلموں کو بے شک اپنے دین پر عمل کرنے کی آزادی ہے، مگر انھیں بے حیائی اور بدکاری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
➍ { اَلزَّانِيَةُ } کو { الزَّانِيْ } سے پہلے لانے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ عموماً زنا کی ترغیب عورتوں کی طرف سے ہوتی ہے، اگر ان کی طرف سے کوئی اشارہ یا مسکراہٹ یا بے حجابی یا کلام میں دلکشی نہ ہو تو مرد کو اقدام کی جرأت کم ہی ہوتی ہے۔ اسامہ ابن زید رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا تَرَكْتُ بَعْدِيْ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ] [بخاري، النکاح، باب ما یتقي من شؤم المرأۃ: ۵۰۹۶] میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔ اس کے علاوہ زنا کی قباحت اور اس کی عار عورتوں کے لیے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ بکارت اور حمل کے مسائل کا سامنا انھی کو ہوتا ہے۔ { فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا } اس لیے فرمایا کہ زنا کی ترغیب عورت کی طرف سے ہو یا مرد کی طرف سے، سزا دونوں کو ایک جیسی ملے گی۔
➎ { فَاجْلِدُوْا: جِلْدٌ } کا معنی چمڑا ہے۔ اس لفظ سے فقہاء نے دو مسائل اخذ کیے ہیں، ایک یہ کہ مارنے کے لیے کوڑا چمڑے کا ہونا چاہیے، جو درمیانہ ہو، نہ بہت سخت نہ بالکل نرم۔ دوسرا یہ کہ ضرب یعنی مار کا اثر جلد تک رہنا چاہیے، ایسی ضرب نہ ہو جس سے گوشت پھٹ جائے، اور یہ کوڑے چہرے اور نازک حصوں کو چھوڑ کر جسم کے الگ الگ حصوں پر مارے جائیں نہ کہ ایک ہی جگہ، اور پوری طاقت سے ہاتھ بلند کرکے نہیں بلکہ ہاتھ کندھے سے بلند کیے بغیر درمیانی ضرب لگائی جائے۔ زمخشری نے فرمایا: { اَلْجِلْدُ } کا معنی جلد پر ضرب ہے، چنانچہ{جَلَدَهُ } (اس نے اس کی جلد پر مارا) ایسے ہی ہے جیسے {ظَهَرَهُ} (اس نے اس کی پشت پر مارا)، { بَطَنَهُ } (اس نے اس کے پیٹ پر مارا) اور {رَأَسَهُ} (اس نے اس کے سر پر مارا)۔ آج کل حکومتیں جلادوں کے ہاتھوں جس قسم کے کوڑے مرواتی ہیں، جن کے لیے جلادوں کو باقاعدہ مشق کروائی جاتی ہے کہ وہ ایک ہی جگہ پڑیں، پھر ملزم کو ٹکٹکی پر باندھ کر اس کے چوتڑوں پر اس طرح کوڑے برسائے جاتے ہیں کہ جلاد دور سے دوڑتا ہوا آ کر پوری قوت سے کوڑا مارتا ہے، ایک ہی جگہ چند کوڑے لگنے کے بعد گوشت کے ٹکڑے اڑنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات ہڈیاں ننگی ہو جاتی ہیں اور وہ ساری عمر کے لیے روگی بن جاتا ہے۔ اسلام میں ایسے کوڑے مارنے کی وحشیانہ سزا کسی بھی جرم میں مقرر نہیں کی گئی، بلکہ اگر زنا کا ارتکاب ایسے کنوارے شخص سے ہو جو سو کوڑے برداشت نہ کر سکتا ہو تو اس کے لیے رعایت بھی موجود ہے۔ سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ہمارے محلے میں ایک ناقص اعضا والا کمزور آدمی تھا، اسے دیکھا گیا کہ محلے کی ایک لونڈی سے بدکاری کر رہا تھا۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اس کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا: اسے سو کوڑے مارو۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ اس سے کمزور ہے، اگر ہم نے اسے سو کوڑے مارے تو وہ مر جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَخُذُوْا لَهُ عِثْكَالًا، فِيْهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ، فَاضْرِبُوْهُ ضَرْبَةً وَاحِدَةً] [ابن ماجہ، الحدود، باب الکبیر والمریض یجب علیہ الحد: ۲۵۷۴]پھر کھجور کا ایک خوشہ لو، جس میں سو ٹہنیاں ہوں اور وہ اسے ایک ہی بار مار دو۔
➏ { وَ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ …:} کیونکہ بدکاروں پر رحم کرنا سارے اسلامی معاشرے پر ظلم ہے۔ پہلی امتوں پر حدود الٰہی میں نرمی ہی سے تباہی آئی۔حدود اللہ کا احترام اور نفاذ باقی نہ رہے تو قوم اندرونی خلفشار اور جرائم میں مبتلا ہو جاتی ہے اور ان پر وبائیں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِيْنَ! خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيْتُمْ بِهِنَّ، وَ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ أَنْ تُدْرِكُوْهُنَّ: لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِيْ قَوْمٍ قَطُّ، حَتّٰی يُعْلِنُوْا بِهَا، إِلَّا فَشَا فِيْهِمُ الطَّاعُوْنُ وَالْأَوْجَاعُ الَّتِيْ لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِيْ أَسْلَافِهِمُ الَّذِيْنَ مَضَوْا، وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ، إِلَّا أُخِذُوْا بِالسِّنِيْنَ وَ شِدَّةِ الْمَؤُوْنَةِ وَ جَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يَمْنَعُوْا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ، إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَ لَوْ لَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوْا وَلَمْ يَنْقُضُوْا عَهْدَ اللّٰهِ وَ عَهْدَ رَسُوْلِهِ، إِلَّا سَلَّطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، فَأَخَذُوْا بَعْضَ مَا فِيْ أَيْدِيْهِمْ وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللّٰهِ، وَ يَتَخَيَّرُوْا مِمَّا أَنْزَلَ اللّٰهُ، إِلَّا جَعَلَ اللّٰهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ] [ابن ماجہ، الفتن، باب العقوبات: ۴۰۱۹۔ مستدرک حاکم: 540/4، ح: ۸۶۲۳، و قال صحیح علی شرط مسلم۔ صحیح الترغیب و الترہیب: ۲۱۸۷] اے مہاجرین کی جماعت! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو گئے (تو ان کی سزا ضرور ملے گی) اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم انھیں پاؤ، کسی قوم میں جب بھی فحاشی (بے حیائی و بدکاری) عام ہوتی ہے، جو ان میں علانیہ کی جائے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں نہیں ہوتی تھیں اور جو بھی قوم ماپ اور تول میں کمی کرتی ہے انھیں قحط سالیوں، مشقت کی سختی اور بادشاہ کے ظلم کے ساتھ پکڑ لیا جاتا ہے اور کوئی بھی قوم اپنے مالوں کی زکوٰۃ دینا چھوڑ دیتی ہے تو ان کے لیے آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے اور اگر چوپائے نہ ہوں تو بارش سرے ہی سے نہ ہو اور جب کوئی قوم اللہ اوراس کے رسول کا عہد توڑتی ہے تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کر دیے جاتے ہیں جو ان کے قبضے سے کئی چیزیں چھین لیتے ہیں اور جن کے امراء اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی لڑائی آپس میں ڈال دیتا ہے۔ یہ نتیجہ حدود اللہ کو معطل کرنے کا ہے، جب کہ حدود اللہ قائم کرنے سے بے حساب برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۶۶) اور سورۂ اعراف (۹۶)۔
➐ { وَ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ:} اس کایہ مطلب نہیں کہ انھیں مارتے وقت تمھارے دل میں ان پر رحم اور شفقت کا کوئی جذبہ پیدا نہ ہو، بلکہ { فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ } کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حد نافذ کرنے میں تمھاری طرف سے کوئی نرمی یا ترس رکاوٹ نہ بنے۔ رہا مارتے ہوئے، یا یہ منظر دیکھ کر دل میں رحم و شفقت کا کوئی جذبہ پیدا ہونا تو یہ طبعی بات ہے، اس پر آدمی کا کوئی اختیار نہیں اور نہ اس پر کوئی گناہ ہے۔ گناہ یہ ہے کہ ترس کھا کر حد نافذ نہ کی جائے، یا ترس کھا کر حد نہ لگانے کی سفارش کی جائے، یا اس قدر آہستہ کوڑے مارے جائیں کہ حد کا مقصد ہی فوت ہو جائے۔ قرہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! میں بکری ذبح کرتا ہوں تو میں اس پر رحم کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللّٰهُ، مَرَّتَيْنِ] [الأدب المفرد للبخاري: ۳۷۳۔ مسند أحمد: 436/3، ح: ۱۵۵۹۸] اور بکری پر اگر تو رحم کرے گا تو اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔ یہ الفاظ آپ نے دو مرتبہ فرمائے۔
➑ وہ جرم، جس کی حد اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے، وہ حاکم کے پاس لے جانے سے پہلے آپس میں معاف کیا جا سکتا ہے، حاکم کے پاس مقدمہ پیش ہونے کے بعد نہ سفارش کی اجازت ہے، نہ حاکم کو حد معاف کرنے کا اختیار ہے۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَعَافَوُا الْحُدُوْدَ فِيْمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِيْ مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ] [أبوداوٗد، الحدود، باب یعفی عن الحدود…: ۴۳۷۶۔ نسائي: ۴۸۹۰، قال الألباني صحیح] حدود کو آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دیا کرو، کیونکہ میرے پاس جو بھی حد آئے گی واجب ہو جائے گی۔
عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ قریش کو مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا، جس نے چوری کی تھی، کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کون بات کرے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اسامہ بن زید کے سوا کون یہ جرأت کرے گا۔ تو اسامہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰهِ؟ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا ضَلَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوْا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيْفُ تَرَكُوْهُ، وَ إِذَا سَرَقَ الضَّعِيْفُ فِيْهِمْ أَقَامُوْا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللّٰهِ! لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا] [بخاري، الحدود، باب کراھیۃ الشفاعۃ في الحد إذا رفع إلی السلطان: ۶۷۸۸۔ مسلم: ۱۶۸۸] کیا تم اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کر رہے ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور خطبہ دیا، فرمایا: لوگو! تم سے پہلے لوگ اسی لیے گمراہ ہو گئے کہ جب اونچا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی چوری کرتی تو یقینا محمد اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔
➒ { وَ لْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ:} اللہ تعالیٰ کی حدود کے دو مقصد ہیں، ایک یہ کہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا ملے، دوسرا یہ کہ وہ اس کے لیے اور لوگوں کے لیے عبرت بنے اور وہ اس جرم سے باز رہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [المائدۃ: ۳۸] اور جو چوری کرنے والا ہے اور جو چوری کرنے والی ہے سو دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ اس کی جزا کے لیے جو ان دونوں نے کمایا، اللہ کی طرف سے عبرت کے لیے اور اللہ سب پر غالب کمال حکمت والا ہے۔ چور کا کٹا ہوا ہاتھ عبرت کے لیے کافی ہے، یہاں زانی کے لیے حد لگاتے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہونے کا حکم دیا، تاکہ باعث عبرت ہو۔ کوڑے مارتے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کی موجودگی بجائے خود ایک سزا ہے، کیونکہ کوڑوں کی تکلیف تو ختم ہو جاتی ہے مگر رسوائی کا احساس جلدی ختم ہونے والا نہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کے سامنے حد لگانے کی صورت میں اس بات کی گنجائش بھی نہیں رہے گی کہ حد معطل کر دی جائے، یا اس میں کمی یا نرمی کی جائے۔
➓ شادی شدہ مرد یا شادی شدہ عورت زنا کرے تو اس کی حد رجم ہے جو قرآن، سنت متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ یہ حکم قرآن مجید میں موجود آیات کے ساتھ بھی ثابت ہے اور قرآن کی اس آیت سے بھی ثابت ہے جس کی تلاوت منسوخ ہے، لیکن اس کا حکم باقی ہے۔ قرآن مجید میں موجود آیت کے ذکر سے پہلے یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ پہلے انبیاء اور ان کی امتوں پر نازل شدہ احکام جو قرآن نے ذکر فرمائے ہیں اور قرآن و سنت میں ان کے منسوخ ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا، ان پر عمل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پوری امت پر فرض ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ انعام میں اٹھارہ (۱۸) پیغمبروں کا نام لیا اور ان کے آباء اور اولاد و اخوان کا ذکر فرمایا، پھر فرمایا: «‏‏‏‏اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۹۰] یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔ رجم کی سزا کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ مائدہ میں تورات کے حوالے سے فرمایا ہے: «‏‏‏‏وَ كَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ» [المائدۃ: ۴۳] اور وہ تجھے کیسے منصف بنائیں گے جب کہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے۔ یہ حکم رجم تھا جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کے فوائد میں گزر چکا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے موافق فیصلہ فرمایا اور فرمایا: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوْهُ] اے اللہ! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرا حکم زندہ کیا، جب انھوں نے اسے مردہ کر دیا تھا۔ مفصل حدیث اس طرح ہے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے پاس سے گزرے جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اور اسے کوڑے مارے گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلایا اور فرمایا: [هٰكَذَا تَجِدُوْنَ حَدَّ الزَّانِيْ فِيْ كِتَابِكُمْ؟ قَالُوْا نَعَمْ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ، فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ الَّذِيْ أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلٰی مُوْسٰی! أَهٰكَذَا تَجِدُوْنَ حَدَّ الزَّانِيْ فِيْ كِتَابِكُمْ؟ قَالَ لَا، وَلَوْ لَا أَنَّكَ نَشَدْتَنِيْ بِهٰذَا لَمْ أُخْبِرْكَ، نَجِدُهُ الرَّجْمَ، وَلٰكِنَّهُ كَثُرَ فِيْ أَشْرَافِنَا، فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيْفَ تَرَكْنَاهُ، وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيْفَ، أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ، قُلْنَا تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلٰی شَيْءٍ نُقِيْمُهُ عَلَی الشَّرِيْفِ وَالْوَضِيْعِ، فَجَعَلْنَا التَّحْمِيْمَ وَالْجَلْدَ مَكَانَ الرَّجْمِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوْهُ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ] [مسلم، الحدود، باب رجم الیہود أہل الذمۃ في الزنٰی: ۱۷۰۰] کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد ایسے ہی پاتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا: میں تمھیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل فرمائی، کیا تم اپنی کتاب میں زنا کی حد ایسے ہی پاتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں! اور اگر آپ مجھے یہ قسم نہ دیتے تو میں آپ کو نہ بتاتا۔ ہم وہ (حد) رجم ہی پاتے ہیں، لیکن یہ کام (زنا) ہمارے بڑے لوگوں میں عام ہو گیا تو ہم جب بڑے کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کر دیتے۔ تو ہم نے کہا، آؤ ہم کسی ایسی سزا پر متفق ہو جائیں جو ہم اونچے لوگوں اور کمزور لوگوں سب پر قائم کریں، تو ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنا اور کوڑے مارنا مقرر کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرا حکم زندہ کیا جب انھوں نے اسے مردہ کر دیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ اس حدیث کے بعد سورۂ مائدہ کی آیات (۴۱ تا ۵۰) ملاحظہ فرمائیں، رجم اللہ کا حکم ہونا بالکل واضح ہو جائے گا۔
تورات کے اس حکم رجم کو اللہ کا حکم قرار دے کر اس پر عمل ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اعضا کے قصاص کا ذکر تورات کے حوالے سے فرمایا۔ قرآن میں اعضا کے قصاص کا اس کے سوا کہیں ذکر نہیں، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضا کے قصاص کا حکم دیا اور امت اعضا کے قصاص پر متفق ہے، فرمایا: «وَ كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَ الْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [المائدۃ: ۴۵] اور اس میں ہم نے ان پر لکھ دیا کہ جان کے بدلے جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں میں برابر بدلا ہے، پھر جو اس (قصاص) کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ مائدہ کی آیت (۴۸) میں قرآن کو پہلی کتابوں پر { مُهَيْمِنًا } فرمانے سے ایک مقصد یہ بھی ظاہر ہے کہ شادی شدہ زانی کے رجم اور نفس اور اعضا کے قصاص کا مسئلہ اب قرآن کے زیر حفاظت ہے۔
⓫ قرآن کی وہ آیت جس میں رجم کا صریح حکم تھا اور جس کی تلاوت منسوخ اور حکم باقی ہے، اس کا ذکر امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر نہایت شدّ و مد سے فرمایا، جب آپ کو فکر ہوئی کہ کچھ لوگ قرآن میں رجم کا صریح لفظ نہیں دیکھیں گے تو اس کا انکار کر دیں گے (جیسا کہ خارجیوں نے اور ہمارے زمانے کے کچھ آزاد خیال لوگوں نے کیا ہے) تو اس کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور اپنے عمل کا حوالہ بھی دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خطبہ مروی ہے، جو انھوں نے اپنے آخری حج سے واپس آ کر مدینہ میں دیا۔ اس میں مذکور ہے کہ انھوں نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِالْحَقِّ، وَ أَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَكَانَ مِمَّا أَنْزَلَ اللّٰهُ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَ عَقَلْنَاهَا وَ وَعَيْنَاهَا، رَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ رَجَمْنَا بَعْدَهُ، فَأَخْشَی إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَّقُوْلَ قَائِلٌ، وَاللّٰهِ! مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ، فَيَضِلُّوْا بِتَرْكِ فَرِيْضَةٍ أَنْزَلَهَا اللّٰهُ، وَالرَّجْمُ فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ حَقٌّ عَلٰی مَنْ زَنٰی إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَبَلُ، أَوِ الْاِعْتِرَافُ] [بخاري، الحدود، باب رجم الحبلٰی من الزنا إذا أحصنت: ۶۸۳۰] اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل فرمایا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، سمجھا اور یاد کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ میں ڈرتا ہوں کہ اگر لوگوں پر لمبا زمانہ گزر گیا تو کوئی کہنے والا کہے کہ اللہ کی قسم! ہم اللہ کی کتاب میں رجم کو نہیں پاتے، تو وہ اس فریضہ کو ترک کرنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ رجم اللہ کی کتاب میں حق ہے اس شخص پر جو شادی شدہ ہو، مرد ہو یا عورت، جب دلیل قائم ہو جائے، یا حمل ہو یا اعتراف ہو۔
⓬ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث میں رجم کا حکم منقول ہے، جیسا کہ زیر تفسیر آیت کے فائدہ (۱) میں گزرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ماعز اسلمی اور غامدیہ کو رجم کرنا تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں مذکور ہے، اسی طرح یہود کو رجم کرنا فائدہ (۳) اور فائدہ (۱۰) میں گزرا ہے۔ اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رجم کو اللہ کی کتاب کا فیصلہ قرار دے کر اس پر عمل کرنا صحیح بخاری میں مروی ہے، ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنھما نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: [أَنْشُدُكَ اللّٰهَ إِلَّا مَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللّٰهِ] میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہر حال میں ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔ تو وہ شخص کھڑا ہو گیا جس سے اس کا جھگڑا تھا اور وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا۔ اس نے کہا: آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ فرمائیں اور مجھے (بات کرنے کی) اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا تو اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، میں نے اس کے بدلے سو بکریاں اور ایک خادم دے کر اس کی جان چھڑائی۔ پھر میں نے کچھ اہل علم آدمیوں سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس کی بیوی پر رجم ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللّٰهِ جَلَّ ذِكْرُهُ، الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَی ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَ تَغْرِيْبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ! عَلَی امْرَأَةِ هٰذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا] [بخاري، الحدود، باب الاعتراف بالزنا: ۶۸۲۷، ۶۸۲۸] اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ضرور تمھارے درمیان اللہ جل ذکرہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ وہ سو بکریاں اور خادم تمھیں واپس ہوں گے اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور اے انیس! صبح اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ اعتراف کر لے، تو اسے رجم کر دو۔ وہ صبح اس کے پاس گئے، اس نے اعتراف کر لیا تو انھوں نے اسے رجم کر دیا۔
⓭ امت مسلمہ میں کچھ لوگوں نے رجم کا انکار کیا۔ بعض نے کوڑوں اور رجم بلکہ تمام حدود ہی کو وحشیانہ سزائیں قرار دے کر ان کا انکار کر دیا۔ ایسے لوگوں کو امت مسلمہ بدترین منافق ہی کے طور پر پہچانتی ہے کہ جب وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو وحشیانہ قرار دیتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اسلام کا لبادہ انھوں نے مسلمانوں میں شامل رہ کر کفر کی نمائندگی کے لیے اوڑھ رکھا ہے۔ اس لیے ان کے نفاق کا علم عام ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اسلام کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے، بلکہ مسلمان ہمیشہ اس انتظار میں ہیں اور دعائیں کرتے ہیں کہ کب وہ مبارک وقت آئے گا جب عہد نبوی اور خلافت راشدہ کی طرح اللہ کی حدود قائم ہوں گی اور معاشرے میں امن و امان اور عفت و پاک دامنی کا دور دورہ ہو گا۔
⓮ اللہ کی حدود کو اصل نقصان ان لوگوں نے پہنچایا اور انھی کے ہم نواؤوں کے برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے اللہ کی حدود معطل ہوئیں، جنھوں نے اگرچہ حدود اللہ کا انکار نہیں کیا، نہ کنوارے زانی کے لیے کوڑوں کی حد کا اور نہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی حد کا، مگر انھوں نے ایسے حیلے ایجاد کر لیے جن سے کسی زانی پر (کنوارا ہو یا شادی شدہ) حد نافذ کرنا تقریباً ناممکن ہے اور لطف یہ کہ ان لوگوں کے موجودہ ہم نوا ان فقہی قوانین کو اللہ کا حکم قرار دینے پر اور انھیں بطور اسلام ملک میں نافذ کرنے پر مُصِر ہیں۔ ہم ان میں سے چند شقیں یہاں نقل کرتے ہیں: (1) اجرت پر لائی ہوئی عورت سے زنا کرے تو اس پر حد نہیں۔ (2) دار الحرب اور دار البغی میں زنا کرے تو اس پر حد نہیں۔ (3) جن عورتوں سے نکاح حرام ہے (ماں، بہن، بیٹی، خالہ، پھوپھی، بھانجی اور بھتیجی وغیرہ) ان سے نکاح کرکے زنا کرے تو اس پر حد نہیں، خواہ اسے معلوم ہو کہ یہ حرام ہے۔ (4) جس حکمران کے اوپر کوئی حکمران نہ ہو وہ زنا کرے تو اس پرحد نہیں۔ (5) اگر زانی دعویٰ کر دے کہ وہ اس کی بیوی ہے تو حد ساقط ہو جائے گی، خواہ وہ کسی اور کی بیوی ہو اور وہ کوئی دلیل بھی پیش نہ کرے۔ یہ ہیں ان کے چند حیلے، تو فرمائیے! وہ کون سا زانی ہو گا جو جھوٹا دعویٰ کرکے حد سے جان نہیں بچائے گا؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

2-1بدکاری کی ابتدائی سزا جو اسلام میں عبوری طور پر بتائی گئی تھی، وہ سورة النساء آیت۔15میں گزر چکی ہے، اس میں کہا گیا تھا کہ اس کے لئے جب تک مستقل سزا مقرر نہ کی جائے، ان بدکار عورتوں کو گھروں میں بند رکھو، پھر جب سورة نور کی یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا تھا، اس کے مطابق بدکار مرد و عورت کی مستقل سزا مقرر کردی گئی ہے، وہ تم مجھ سے سیکھ لو، اور وہ ہے کنوارے (غیر شادی شدہ) مرد اور عورت کے لئے سو سو کوڑے اور شادی شدہ مرد اور عورت کو سو سو کوڑے اور سنگساری کے ذریعے مار دینا۔ (صحیح مسلم) پھر آپ نے شادی شدہ زانیوں کے لئے سزا صرف رجم (سنگساری) ہے۔ 2-2اس کا مطلب یہ ہے کہ ترس کھا کر سزا دینے سے گریز مت کرو، ورنہ طبعی طور پر ترس کا آنا، ایمان کے منافی نہیں، منجملہ خواص طبائع انسانی میں سے ہے۔ 2-3تاکہ سزا کا اصل مقصد کہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں، زیادہ وسیع پیمانے پر حاصل ہو سکے۔ بدقسمتی سے آج کل برسر عام سزا کو انسانی حقوق کے خلاف باور کرایا جا رہا ہے۔ یہ سراسر جہالت، احکام الٰہی سے بغاوت اور بزم خویش اللہ سے بھی زیادہ انسانوں کا ہمدرد اور خیرخواہ بننا ہے۔ درآنحالیکہ اللہ سے زیادہ رؤف رحیم کوئی نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

اس آیت کی تفسیر یہاں ملاحظہ کریں۔
سورہ نور آیت نمبر ترجمہ و تفسیر از مولانا عبدالرحمان کیلانی
🔗 Link: https://tohed.com/7db361

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مسئلہ رجم ٭٭
اس بیان سے کہ ’ ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے ‘، اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔
«فَرَضْنٰھَا» کے معنی مجاہد و قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بیان کئے ہیں کہ حلال و حرام، امر و نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔‏‏‏‏
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کر دیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔‏‏‏‏
پھر زناکاری کی شرعی سزا فرمائی، زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی حالت میں نکاح شرعی کے ساتھ کسی عورت سے ملا ہو۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اسے ایک سال کی جلا وطنی بھی دی جائے گی۔ ہاں امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ جلا وطنی امام کی رائے پر ہے اگر وہ چاہے دے چاہے نہ دے۔
جمہور کی دلیل تو بخاری مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { دو اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا وہ اس کی بیوی سے زنا کربیٹھا، میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دی۔ پھر میں نے علماء سے دریافت کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے پر شرعی سزا سو کوڑوں کی ہے اور ایک سال کی جلا وطنی اور اس کی بیوی پر رجم یعنی سنگ ساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! میں تم میں اللہ کی کتاب کا صحیح فیصلہ کرتا ہوں۔ لونڈی اور بکریاں تو تجھے واپس دلوا دی جائیں گی اور تیرے بچے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اے انیس تو اس کی بیوی کا بیان لے۔ (‏‏‏‏یہ انیس رضی اللہ عنہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص تھے)۔ اگر وہ اپنی سیاہ کاری کا اقرار کرے تو تو اسے سنگسار کر دینا }۔ چنانچہ اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا اور انہیں رجم کر دیا گیا رضی اللہ عنہا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2314]‏‏‏‏
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنوارے پر سو کوڑوں کے ساتھ ہی سال بھر تک کی جلا وطنی بھی ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ رجم کر دیا جائے گا۔
چنانچہ موطا مالک میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک خطبہ میں حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ لوگو! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب اللہ میں رجم کرنے کے حکم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے تلاوت کی، یاد کیا، اس پر عمل بھی کیا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے، ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضے کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا، چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے،اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہو۔ جب کہ اس کے زنا پر شرعی دلیل ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔‏‏‏‏ ۱؎ [موطا:823/2]‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں اس سے ہی مطول ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2462]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ رجم یعنی سنگساری کا مسئلہ ہم قرآن میں نہیں پاتے، قرآن میں صرف کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ یاد رکھو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے، قرآن میں جو نہ تھا، عمر (‏‏‏‏رضی اللہ عنہ) نے لکھ دیا تو میں آیت رجم کو اسی طرح لکھ دیتا، جس طرح نازل ہوئی تھی۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:29/1:صحیح]‏‏‏‏ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں رجم کا ذکر کیا اور فرمایا رجم ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حدوں میں سے ایک حد ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ اگر لوگوں کے اس کہنے کا کھٹکا نہ ہوتا کہ عمر (‏‏‏‏رضی اللہ عنہ) نے کتاب اللہ میں زیادتی کی جو اس میں نہ تھی تو میں کتاب اللہ کے ایک طرف آیت رجم لکھ دیتا۔ عمر بن خطاب عبداللہ بن عوف اور فلاں اور فلاں کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ یاد رکھو تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو رجم کو اور شفاعت کو اور عذاب قبر کو جھٹلائیں گے، اور اس بات کو بھی کہ کچھ لوگ جہنم سے اس کے بعد نکالے جائیں گے کہ وہ کوئلے ہوں گے۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:23/1:اسنادہ ضعیف]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ امیرالمونین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، رجم کے حکم کے انکار کرنے کی ہلاکت سے بچنا۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:36/1:صحیح]‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے لائے ہیں اور اسے صحیح کہا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1431،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ لوگ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم قرآن میں آیت رجم پڑھتے تھے کہ شادی شدہ مرد یا عورت جب زنا کاری کریں تو انہیں ضرور رجم کردو مروان نے کہا کہ تم نے پھر اس آیت کو قرآن میں کیوں نہ لکھا؟ فرمایا سنو! ہم میں جب اس کا ذکر چلا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہاری تشفی کر دیتا ہوں، { ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ذکر کیا اور رجم کا بیان کیا۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم رجم کی آیت لکھ لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { اب تو میں اسے لکھ نہیں سکتا، یا اسی کے مثل } }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:7145:]‏‏‏‏ یہ روایت نسائی میں بھی ہے۔
پس ان سب احادیث سے ثابت ہوا کہ رجم کی آیت پہلے لکھی ہوئی تھی پھر تلاوت میں منسوخ ہو گئی اور حکم باقی رہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی بیوی کے رجم کا حکم دیا، جس نے اپنے ملازم سے بدکاری کرائی تھی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور ایک غامدیہ عورت کو رجم کرایا۔ ان سب واقعات میں یہ مذکور نہیں کہ رجم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوڑے بھی لگوائے ہوں۔ بلکہ ان سب صحیح اور صاف احادیث میں صرف رجم کا ذکر ہے کسی میں بھی کوڑوں کا بیان نہیں۔
اسی لیے جمہور علماء اسلام کا یہی مذہب ہے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے اسے کوڑے مارنے چاہئیں، پھر رجم کرنا چاہیئے تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہو جائے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سراجہ لائی گئی جو شادی شدہ عورت تھی اور زناکاری میں آئی تھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن تو اسے کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن سنگسار کرا دیا، اور فرمایا کہ کتاب اللہ پر عمل کر کے میں نے کوڑے پٹوائے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کر کے سنگسار کرایا۔‏‏‏‏
مسند احمد، سنن اربعہ اور مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری بات لے لو، میری بات لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے راستہ نکال دیا۔ کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کر لے تو سو کوڑے اور سال بھر کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ کرے تو رجم }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1690]‏‏‏‏
پھر فرمایا ’ اللہ کے حکم کے ماتحت اس حد کے جاری کرنے میں تمہیں ان پر ترس اور رحم نہ کھانا چاہیئے ‘۔ دل کا رحم اور چیز ہے اور وہ تو ضرور ہوگا لیکن حد کے جاری کرنے میں امام کا سزا میں کمی کرنا اور سستی کرنا بری چیز ہے۔ جب امام یعنی سلطان کے پاس کوئی ایسا واقعہ جس میں حد ہو، پہنچ جائے، تو اسے چاہیئے کہ حد جاری کرے اور اسے نہ چھوڑے۔
حدیث میں ہے { آپس میں حدود سے درگزر کرو، جو بات مجھ تک پہنچی اور اس میں حد ہو تو وہ تو واجب اور ضروری ہوگئی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4376،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ { حد کا زمین میں قائم ہونا، زمین والوں کیلئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4909،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
یہ بھی قول ہے کہ ترس کھا کر، مار کو نرم نہ کر دو بلکہ درمیانہ طور پر کوڑے لگاؤ، یہ بھی نہ ہو کہ ہڈی توڑ دو۔ تہمت لگانے والے کی حد کے جاری کرنے کے وقت اس کے جسم پر کپڑے ہونے چاہئیں۔ ہاں زانی پر حد کے جاری کرنے کے وقت کپڑے نہ ہوں۔ یہ قول حماد بن ابوسلیمان رحمتہ اللہ کا ہے۔ اسے بیان فرما کر آپ رحمہ اللہ نے یہی جملہ آیت «وَّ لَا تَاۡخُذۡکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لۡیَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ» ۱؎ [24-النور:2]‏‏‏‏، پڑھا تو سعید بن ابی عروبہ نے پوچھا یہ حکم میں ہے؟ کہا ہاں حکم میں ہے اور کوڑوں میں یعنی حد کے قائم کرنے میں اور سخت چوٹ مارنے میں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے جب زنا کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے پیروں پر اور کمر پر کوڑے مارے تو نافعہ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت کیا کہ اللہ کی حد کے جاری کرنے میں تمہیں ترس نہ آنا چاہیئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تیرے نزدیک میں نے اس پر کوئی ترس کھایا ہے؟ سنو اللہ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم نہیں دیا نہ یہ فرمایا ہے کہ اس کے سر پر کوڑے مارے جائیں۔ میں نے اسے طاقت سے کوڑے لگائے ہیں اور پوری سزا دی ہے۔‏‏‏‏
پھر فرمایا اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت پر ایمان ہے تو تمہیں اس حکم کی بجا آوری کرنی چاہیئے اور زانیوں پر حدیں قائم کرنے میں پہلو تہی نہ کرنی چاہیئے۔ اور انہیں ضرب بھی شدید مارنی چاہیئے لیکن ہڈی توڑنے والی نہیں تاکہ وہ اپنے اس گناہ سے باز رہیں اور ان کی یہ سزا دوسروں کیلئے بھی عبرت بنے۔ رجم بری چیز نہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بکری کو زبح کرتا ہوں لیکن میرا دل دکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس رحم پر بھی تجھے اجر ملے گا } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:26:صحیح]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے ’ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا مجمع ہونا چاہیئے تاکہ سب کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اور زانی کی رسوائی بھی ہو تاکہ اور لوگ اس سے رک جائیں ‘۔ اسے اعلانیہ سزا دی جائے، مخفی طور پر مار پیٹ کر نہ چھوڑا جائے۔ ایک شخص اور اس سے زیادہ بھی ہوجائیں تو جماعت ہوگئی اور آیت پر عمل ہوگیا اسی کو لے کر امام محمد کا مذھب ہے کہ ایک شخص بھی طائفہ ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ دو ہونے چاہئیں۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں چار ہوں۔ زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں تین یا تین سے زیادہ۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں چار اور اس سے زیادہ کیونکہ زنا میں چار سے کم گواہ نہیں ہیں، چار ہوں یا اس سے زیادہ۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ ربیعہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں پانچ ہوں۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک دس۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک جماعت ہو تاکہ نصیحت، عبرت اور سزا ہو۔ نصرت بن علقمہ رحمتہ اللہ کے نزدیک جماعت کی موجودگی کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے جن پر حد جاری کی جا رہی ہے دعا مغفرت و رحمت کریں۔