(آیت 17){ يَعِظُكُمُاللّٰهُاَنْتَعُوْدُوْالِمِثْلِهٖۤ …:”يَعِظُكُمْ“} کے ضمن میں {”يَنْهَاكُمْ“} کا معنی موجود ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے منع کرتا ہے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو، یعنی یہ کام ایمان کے منافی ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو آئندہ کبھی ایسی [21] حرکت نہ کرنا۔
[20] بد ظنی سے اجتناب اور حسن ظن کی تاکید:۔
اس آیت میں ایک بڑا قیمتی اخلاقی ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر ایک شخص کو دوسرے کے متعلق حسن ظن ہی رکھنا چاہئے۔ تاکہ اس کے خلاف بد ظنی کی کوئی یقینی وجہ امین کے علم میں نہ آجائے۔ یہ اصول قطعاً غلط ہے کہ ہر ایک کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جائے تاآنکہ اس کی امانت و دیانت کا کوئی یقینی ثبوت ہاتھ نہ آجائے۔ اور یہاں تو معاملہ اور بھی زیادہ سخت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ پر محض بد ظنی کی بنا پر بہتان لگانا پھر اسے ہوا دینا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ بلکہ اتنا سنگین جرم تھا کہ اس کی بنا پر تم پر عذاب نازل ہو سکتا تھا۔ یہ اللہ کی رحمت اور مہربانی ہی تھی کہ اس نے تمہیں ایسے عذاب سے محفوظ رکھا۔ [21] یعنی آئندہ منافقوں کی ایسی معاندانہ چالوں سے ہشیار اور چوکس رہنا چاہئے۔ نیز پیغمبر اسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کی عظمت شان کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پہلے تحقیق کرو پھر بولو ٭٭
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ ’ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نکلنا چاہیئے، برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہیئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایسا وسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہیئے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرما لیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں }۔ ۱؎[صحیح بخاری:2528] تمہیں چاہیئے تھا کہ ایسے بے ہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بے ادبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کورا ہو تو وہ تو بے ادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔