ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 14

وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمۡ فِیۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِیۡہِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۚۖ۱۴﴾
اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا اس بات کی وجہ سے جس میں تم مشغول ہوئے، تم پر بہت بڑا عذاب پہنچتا۔ En
اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا
En
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتا تو یقیناً تم نے جس بات کے چرچے شروع کر رکھے تھے اس بارے میں تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) {وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ …:} یعنی اگر دنیا میں تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا کہ اس نے تمھیں دنیا میں بے شمار نعمتیں دی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ گناہ پر فوراً مؤاخذہ کے بجائے وہ مہلت دیتا ہے اور اگر آخرت میں اس کا فضل نہ ہوتا کہ وہ توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے، تو تم جس کام (بہتان) میں مشغول ہوئے تھے اس کی وجہ سے تمھیں بہت بڑا عذاب ا ٓلیتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی زحمت [18] نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے اس کی پاداش میں تمہیں بہت بڑا عذاب آلیتا۔
[18] اللہ کا فضل اور رحمت یہ تھی کہ اس نے مسلمانوں کو بالعموم اور اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بالخصوص ان حالات میں صبر و استقامت کی توفیق بخشی۔ ورنہ منافقوں نے جس طرح مسلمانوں پر یہ زبردست وار کیا تھا۔ اگر مسلمان بھی جوابی کارروائی پر اٹھ کھڑے ہوتے تو حالات کوئی سنگین صورت اختیار کر سکتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کا فصل نہ ہوتا تو عذاب آ جاتا ٭٭
فرمان ہے کہ ’ اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا ‘۔
یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے مسطع حسان، حمنہ رضی اللہ عنہم۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے، کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔
یہ بھی یاد رہے کہ جس بدی پر جو وعید ہے وہ اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب توبہ نہ ہو اور اس کے مقابلہ میں اس جیسی یا اس سے بڑی نیکی نہ ہو۔ جب کہ تم اس بات کو پھیلا رہے تھے، اس سے سن کر اس سے کہی اور اس نے سن کر دوسرے سے کہی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:کتاب التفسیر سورۃ النور]‏‏‏‏
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قرأت میں «إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ» ہے یعنی ’ جب کہ تم اس جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4752]‏‏‏‏
پہلی قرأت جمہور کی ہے، اور یہ قرأت ان کی ہے جنہیں اس آیت کا زیادہ علم تھا، اور تم وہ بات زبان سے نکالتے تھے، جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ تم گو اس کلام کو ہلکا سمجھتے رہے، لیکن دراصل اللہ کے نزدیک وہ بڑا بھاری کلام تھا۔ کسی مسلمان عورت کی نسبت ایسی تہمت جرم عظیم ہے۔ پھر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے اوپر ایسا کلمہ، سمجھ لو کہ کتنا بڑا کبیرا گناہ ہوا؟ اسی لیے رب کی غیرت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر خاتم الانبیاء سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی ثابت فرمائی۔
ہر نبی علیہ السلام کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بے حیائی سے دور رکھا ہے پس کیسے ممکن تھا کہ کہ تمام نبیوں کی بیویوں سے افضل اور ان کی سردار۔ تمام نبیوں سے افضل اور تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اس میں آلودہ ہوں۔ «حَاشَا وَكَلَّا» ۔ پس تم گو اس کلام کو بے وقعت سمجھو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ { انسان بعض مرتبہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ کر گزرتا ہے، جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6477]‏‏‏‏