قُلۡ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیۡ مَا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿ۙ۹۳﴾
تو کہہ اے میرے رب! اگر تو کبھی مجھے ضرور ہی وہ (عذاب) دکھائے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔
En
(اے محمدﷺ) کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہو رہا ہے، اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کرکے مجھے بھی دکھادے
En
آپ دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! اگر تو مجھے وه دکھائے جس کا وعده انہیں دیا جا رہا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 94،93) ➊ { قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ: ” اِمَّا “ ”إِنْ“} کی تاکید {”مَا“} کے ساتھ کی گئی ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے اور {”تُرِيَنَّ“} میں نون ثقیلہ تاکید کے لیے ہے۔ مفسر بقاعی نے لکھا ہے: {”أَيْ إِنْ كَانَ وَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ تُرِيَنِّيْ قَبْلَ مَوْتِيْ “} اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ”اگر تو کبھی مجھے ضرور ہی وہ (عذاب) دکھائے۔“
➋ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی جناب میں اولاد یا شریک بنانے کی سخت گستاخی کی جاتی ہے تو یقینا کوئی سخت آفت آ کر رہے گی، اس لیے ہر مومن کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعا مانگے۔
➌ آیت کے اولین مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان کے ساتھ امت کا ہر فرد بھی مخاطب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں عذاب نہ لانے کا وعدہ فرمایا ہے، فرمایا: «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ» [الأنفال: ۳۳] ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے، جب کہ تو ان میں ہو اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔“ اس کے باوجود اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب سے بچنے کی دعا کا حکم دیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے عذاب سے سخت خوف زدہ رہتے تھے اور اس سے بچنے کی دعا کرتے رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے، اس کے باوجود آپ کو استغفار کا حکم دیا، فرمایا: «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ» [النصر: ۳] ”تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ سے خشیت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس میں امت کے لیے تعلیم بھی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھما فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ کے چہرے پر اس کے اثرات پہچانے جاتے۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”یا رسول اللہ! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اس امید پر کہ اس میں بارش ہو گی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نظر آتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا عَائِشَةُ! مَا يُؤْمِنِّيْ أَنْ يَّكُوْنَ فِيْهِ عَذَابٌ؟ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيْحِ وَقَدْ رَأَی قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «فلما رأوہ عارضا…» : ۴۸۲۹] ”اے عائشہ! کیا ضمانت ہے کہ اس میں کوئی عذاب نہ ہو؟ ایک قوم (عاد) پر آندھی کا عذاب آیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔“
➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی کو ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ پروردگارا! تو مجھے عفو اور عافیت عطا فرما اور اگر تو نے کچھ لوگوں کو عذاب دینے کا ارادہ کر ہی لیا ہو تو مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا نقل فرمائی ہے: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَ تَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاكِيْنِ وَ أَنْ تَغْفِرَ لِيْ وَ تَرْحَمَنِيْ وَ إِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِيْ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ، وَ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَ حُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَ حُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّكَ] ”اے اللہ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے، برائیاں چھوڑنے اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس بات کا بھی کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کرے اور جب تو کسی قوم کے فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں ڈالے بغیر قبض کر لے۔ میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور ان لوگوں کی محبت کا جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں اور ایسے عمل کی محبت کا جو تیری محبت کے قریب کر دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوْهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْهَا] [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ صٓ: ۳۲۳۵، قال الترمذي حسن صحیح و قال الألباني صحیح] ”یہ کلمات حق ہیں انھیں پڑھو، پھر انھیں اچھی طرح سیکھ لو۔“
➎ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا سکھائی تاکہ مشرکین پر عذاب آئے تو آپ اس وقت ان کے ساتھ نہ ہوں، بلکہ ان سے الگ ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی توفیق عطا فرما کر آپ کو کافروں سے الگ کر دیا اور قحط اور جنگوں کی صورت میں ان پر جو عذاب آئے آپ کو ان سے محفوظ رکھا۔
➋ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی جناب میں اولاد یا شریک بنانے کی سخت گستاخی کی جاتی ہے تو یقینا کوئی سخت آفت آ کر رہے گی، اس لیے ہر مومن کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعا مانگے۔
➌ آیت کے اولین مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان کے ساتھ امت کا ہر فرد بھی مخاطب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں عذاب نہ لانے کا وعدہ فرمایا ہے، فرمایا: «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ» [الأنفال: ۳۳] ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے، جب کہ تو ان میں ہو اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔“ اس کے باوجود اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب سے بچنے کی دعا کا حکم دیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے عذاب سے سخت خوف زدہ رہتے تھے اور اس سے بچنے کی دعا کرتے رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے، اس کے باوجود آپ کو استغفار کا حکم دیا، فرمایا: «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ» [النصر: ۳] ”تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ سے خشیت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس میں امت کے لیے تعلیم بھی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھما فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ کے چہرے پر اس کے اثرات پہچانے جاتے۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”یا رسول اللہ! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اس امید پر کہ اس میں بارش ہو گی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نظر آتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا عَائِشَةُ! مَا يُؤْمِنِّيْ أَنْ يَّكُوْنَ فِيْهِ عَذَابٌ؟ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيْحِ وَقَدْ رَأَی قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «فلما رأوہ عارضا…» : ۴۸۲۹] ”اے عائشہ! کیا ضمانت ہے کہ اس میں کوئی عذاب نہ ہو؟ ایک قوم (عاد) پر آندھی کا عذاب آیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔“
➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی کو ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ پروردگارا! تو مجھے عفو اور عافیت عطا فرما اور اگر تو نے کچھ لوگوں کو عذاب دینے کا ارادہ کر ہی لیا ہو تو مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا نقل فرمائی ہے: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَ تَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاكِيْنِ وَ أَنْ تَغْفِرَ لِيْ وَ تَرْحَمَنِيْ وَ إِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِيْ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ، وَ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَ حُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَ حُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّكَ] ”اے اللہ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے، برائیاں چھوڑنے اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس بات کا بھی کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کرے اور جب تو کسی قوم کے فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں ڈالے بغیر قبض کر لے۔ میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور ان لوگوں کی محبت کا جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں اور ایسے عمل کی محبت کا جو تیری محبت کے قریب کر دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوْهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْهَا] [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ صٓ: ۳۲۳۵، قال الترمذي حسن صحیح و قال الألباني صحیح] ”یہ کلمات حق ہیں انھیں پڑھو، پھر انھیں اچھی طرح سیکھ لو۔“
➎ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا سکھائی تاکہ مشرکین پر عذاب آئے تو آپ اس وقت ان کے ساتھ نہ ہوں، بلکہ ان سے الگ ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی توفیق عطا فرما کر آپ کو کافروں سے الگ کر دیا اور قحط اور جنگوں کی صورت میں ان پر جو عذاب آئے آپ کو ان سے محفوظ رکھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
93۔ (اے پیغمبر) آپ یہ دعا کیجئے کہ: ”پروردگار! جس عذاب کی انھیں دھمکی دی جا رہی ہے اگر وہ میری موجودگی پر آ جائے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔