(آیت 90) ➊ { بَلْاَتَيْنٰهُمْبِالْحَقِّ: ”اَلْحَقُّ“} سے مراد یہاں ”سچ“ ہے، کیونکہ مقابلے میں {”لَكٰذِبُوْنَ“} آ رہا ہے۔ ”کامل“ کا مفہوم الف لام سے حاصل ہو رہا ہے، یعنی ہم ان کے پاس جھوٹے قصے کہانیاں ({اَسَاطِيْرُالْاَوَّلِيْنَ})نہیں لائے، بلکہ ایسا سچ لائے ہیں جس میں کوئی نقص نہیں۔ ➋ { وَاِنَّهُمْلَكٰذِبُوْنَ:} یعنی یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں، اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے، یا کوئی اس کا بیٹا ہے جسے خدائی اختیارات حاصل ہیں، یا وہ جو چاہے اللہ تعالیٰ سے منوا سکتا ہے اور اس بات میں جھوٹے ہیں کہ موت کے بعد زندگی ممکن نہیں ہے اور ان کا جھوٹ ان کے اعترافات سے ثابت ہے جو اوپر گزرے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
90۔ بلکہ ہم تو ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور یقیناً یہی جھوٹے [87] ہیں۔
[87] سابقہ آیات میں تین باتوں کا اعتراف کرنے سے مشرکین پر حجت قائم ہو جاتی ہے ایک طرف تو وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ہر طرح کا تصرف و اختیار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے معبودوں کا بھی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہ ایسے ہی مملوک ہیں جیسے کائنات کی دوسری اشیاء اور مخلوقات اور مملوک کبھی مالک کے اختیارات میں شریک نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ حق بات ہے جو ہم نے انھیں بتلائی ہے اور جس کا اعتراف وہ خود کر رہے ہیں۔ رہے ان کے زبانی دعوے کہ ان کے معبود بھی کچھ اختیارات رکھتے ہیں تو اپنے اقرار و اعتراف کی بنا پر بھی وہ جھوٹے قرار پاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔