ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 78

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۸﴾
اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔ En
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ (لیکن) تم کم شکرگزاری کرتے ہو
En
وه اللہ ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کئے، مگر تم بہت (ہی) کم شکر کرتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 78) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ …:} اس سے پہلے کفار کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا، اب انھیں مخاطب کرکے احسانات یاد دلائے۔ یہ غائب سے مخاطب کی طرف التفات ہے، کیونکہ بعض اوقات وعید کا اثر نہیں ہوتا، ہاں! کسی احسان کی خوشگوار یاد دل کو مائل کر دیتی ہے۔
➋ { وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ …:} یعنی وہ لوگ نہ اپنے رب کے لیے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کی، حالانکہ رب صرف وہ ہے، کوئی اور نہیں۔ جس نے کسی پہلے نمونے کے بغیر تمھارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا فرمائے، جو سننے، دیکھنے اور سمجھنے کے مرکز ہیں۔ ان تینوں چیزوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جسم کی تمام نعمتیں ان کے تابع ہیں، یہ نہ ہوں تو کچھ بھی نہیں۔
➌ { قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ:} یہ بات کہ تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو، کئی طرح سمجھی جا سکتی ہے۔ مثلاً سوچو، کوئی آدمی اگر تمھیں یہ تینوں نعمتیں دے اور تم اس کا بدلا دینا چاہو تو کیا دے سکتے ہو؟ یا اس طرح سوچو کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ تینوں نعمتیں تم سے چھین لے تو تمھارا کیا حال ہو گا؟ اب جو اس نے یہ سب کچھ تمھیں دے رکھا ہے تو ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے تم اس کی کس قدر فرماں برداری کر رہے ہو؟ اس سے بڑی ناشکری کیا ہو ـگی کہ اپنا خالق و مالک مانتے ہوئے اس اکیلے کی عبادت کے بجائے تم نے اس کے شریک بنا رکھے ہیں، جنھوں نے کچھ پیدا ہی نہیں کیا اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بجائے تم اسے جھٹلا رہے ہو؟ ان حواس کی شکر گزاری تو یہ ہے کہ ان کے ذریعے سے صحیح راستے کی طرف رہنمائی حاصل کرو، ورنہ ان کے ذریعے سے جسمانی اور مادی خواہش تو دوسرے حیوانات بھی پوری کر رہے ہیں۔ تمھارا حق یہ ہے کہ کائنات میں توحید کے جو دلائل پائے جاتے ہیں ان حواس کے ذریعے سے ان دلائل کو آنکھوں سے دیکھو، کانوں سے سنو اور دل سے سمجھو اور توحیدِ الٰہی پر دل و جان سے ایمان رکھو۔
➍ { قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ } کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم شکر کرتے ہی نہیں، کیونکہ عرب {قَلِيْلٌ} کو نہ ہونے کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ ابوکبیر ہذلی نے {تَأَبَّطَ شَرًّا} کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے:
{قَلِيْلُ التَّشَكِّيْ لِلْمُهِمِّ يُصِيْبُهُ
كَثِيْرُ الْهَوٰي شَتَّي النَّوٰي وَ الْمَسَالِكِ}
وہ پیش آنے والی مہمات کی شکایت بہت کم کرنے والا ہے، بہت سے مقاصد والا، مختلف نیتوں اور راستوں والا ہے۔ شکایت بہت کم کرنے والا سے مراد یہ ہے کہ وہ شکایت کرتا ہی نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

78-1یعنی عقل و فہم اور سننے کی صلاحتیں عطا کیں تاکہ ان کے ذریعے سے وہ حق کو پہچانیں، سنیں اور اسے قبول کریں۔ یہی ان نعمتوں کا شکر ہے۔ مگر یہ شکر کرنے والے یعنی حق کو اپنانے والے کم ہی ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

78۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل [79] عطا کئے (تاکہ تم سنو، دیکھو اور غور کرو) مگر تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔
[79] یعنی اللہ نے تمہیں آنکھیں، کان اور دل اس لیے نہیں دیئے تھے کہ تم ان سے اتنا ہی کام لو جتنا جانور لیتے ہیں۔ دیکھو تو صرف وہ چیز دیکھو جس سے تمہیں دنیوی فائدہ نظر آتا ہو۔ اور سنو تو بھی ایسی ہی بات سنو اور سوچو تو صرف اپنے کاروبار اور روزگار کی بات سوچو یا یہ فکر کرو کہ کون کون سے وسائل سے تمہاری آمدنی کے ذرائع میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آخر اللہ نے تمہیں جانوروں سے کچھ زائد قوتیں بھی عطا فرمائی ہیں ان سے تم نے کیا کام لیا؟ اللہ نے تمہیں آنکھیں اس لئے دی تھیں کہ اپنی دنیوی ضرورتیں ہی پوری کرو مگر کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو بھی دیکھو۔ منزل من اللہ آیات کو اپنے کانوں سے غور سے سنو۔ پھر ان تمام نشانیوں میں غور و فکر کر کے معرفت الٰہی حاصل کرو۔ اور اس کا شکر بجا لاؤ۔ جانوروں کی طرح ان قوتوں کو محض دنیوی مفادات میں کھپا دینا جہاں ایک طرف اللہ کی ناشکری پر دلالت کرتا ہے وہاں اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تم اپنے آپ کو جانوروں سے بھی بد تر مخلوق ثابت کر رہے ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔