ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 7

فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾
پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ En
اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں
En
جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ …:} یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی بھی طریقے سے شہوت پوری کرنے والے ہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔ اس آیت سے اپنی منکوحہ عورتوں اور اپنی لونڈیوں کے سوا کسی بھی عورت سے جماع حد سے بڑھنا ٹھہرا۔ چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَ سَآءَ سَبِيْلًا» ‏‏‏‏ [بنی إسرائیل: ۳۲] اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔ اسی طرح قوم لوط کا عمل، کسی جانور سے بدفعلی اور ہاتھ یا کسی اور طریقے سے ایسا فعل بھی حد سے تجاوز ہے۔ اگرچہ تجاوز کے درجوں میں فرق ہے، مگر مومن کو کسی طرح بھی اللہ کی حدود سے تجاوز درست نہیں۔
تنبیہ: ہاتھ سے منی نکالنا اگرچہ ایک قبیح اور مروّت کے خلاف فعل ہے اور حد سے بڑھنا ہے، مگر اس کی وعید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں، مثلاً روایت: [نَاكِحُ الْيَدِ مَلْعُوْنٌ] ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔ اور یہ روایت کہ سات آدمی ہیں جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور انھیں آگ میں سب سے پہلے داخل کرے گا، ان میں سے پہلا {نَاكِحُ الْيَدِ} (ہاتھ سے نکاح کرنے والا) ہے اور یہ روایت کہ قیامت کے دن یہ فعل کرنے والوں کے ہاتھ حمل کی حالت میں ہوں گے، وغیرہ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7-1اس سے معلوم ہوا کہ متعہ کی اسلام میں قطعًا اجازت نہیں اور جنسی خواہش کی تسکین کے لئے صرف دو ہی جائز طریقے ہیں۔ بیوی سے مباشرت کر کے یا لونڈی سے ہم بستری کر کے۔ بلکہ اب صرف بیوی ہی اس کام کے لئے رہ گئی ہے کیونکہ اصطلاحی لونڈی کا وجود فی الحال ختم ہے جب کبھی حالات نے دوبارہ وجود پذیر کیا تو بیوی ہی کی طرح اس سے مباشرت جائز ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ البتہ ان کے سوا جو کچھ اور ذریعہ چاہے تو ایسے ہی لوگ حد [7] سے بڑھنے والے ہیں۔
[7] شہوانی خواہش کی تین ممکنہ صورتیں اور راہ اعتدال:۔
شہوانی خواہشات کے سلسلہ میں تین ہی صورتیں ممکن تھیں۔ ایک یہ کہ انسان ایسی خواہشات کو کلیتاً ترک کر دے۔ دوسری یہ کہ ان خواہشات کی تکمیل میں انسان کلیتاً آزاد ہو اور تیسری یہ کہ کوئی معتدل روش اختیار کی جائے۔ اسلام نے ان میں سے معتدل روش کو اختیار کیا ہے۔
جائز نکاح اور ملک یمین کے علاوہ باقی سب صورتیں حرام ہیں:۔
یعنی ان خواہشات کی تکمیل کا راستہ کھول تو دیا۔ لیکن صرف جائز نکاح یا ملک یمین کی صورت میں۔ باقی دونوں انتہا پسندانہ عورتوں کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ نہ رہبانیت کی ترک خواہش کو پسند فرمایا اور نہ اس سلسلہ میں شتر بے مہار قسم کی آزادی کو۔ اس آیت میں اسی بے لگام آزادی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس میں زنا، لواطت یا لونڈے بازی، عورتوں کی ہم جنسی، جلق یا مشت زنی غرضیکہ شہوت رانی کی جتنی بھی صورت مندرجہ بالا دو صورتوں کے علاوہ ممکن ہیں سب ناجائز قرار پاتی ہیں۔ واضح ہے کہ جائز نکاح سے مراد ایسا نکاح ہے جو عورت کو بسانے کے لئے کیا جائے۔ عورت کی رضا کو مقدم سمجھا جائے۔ عورت کا نکاح اس کا ولی کرے، نکاح کا اعلان ہو اور کم از کم دو گواہ موجود ہوں اور حق مہر مقرر کیا جائے۔ ان شرائط کو پوری نہ کرنے والا نکاح مثلاً نکاح متعہ، نکاح حلالہ یا نکاح شعار جائز نہیں۔ دور نبوی میں اور بھی کئی قسم کے نکاح رائج تھے۔ جو یہ شرائط پوری نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا وہ از خود باطل قرار پا گئے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں لوگ چار طرح پر نکاح کیا کرتے تھے۔ ایک تو وہی معروف نکاح ہے۔ جیسے آج کل بھی لوگ کرتے ہیں یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کو نکاح کے لئے کہتا اور وہ اپنی کسی رشتہ دار عورت (مثلاً بہن، بھتیجی، بھانجی وغیرہ) یا بیٹی کا مہر ٹھہرا کر نکاح کر دیتا۔ (اسی قسم کے نکاح کو اسلام نے بحال رکھا ہے) دوسری صورت یہ تھی کہ جب کسی کی بیوی حیض سے پاک ہو جاتی تو شوہر اپنی بیوی سے کہتا کہ تو فلاں شخص کو اپنے پاس بلا لے اور اس سے لپٹ جا۔ (یعنی اس سے ہمبستری کر) جب عورت اس مرد سے صحبت کر چکتی تو اس کا خاوند اس سے اس وقت تک علیحدہ رہتا جب تک کہ اس غیر مرد کا حمل نمایاں نہ ہو جاتا۔ اور جب حمل واضح ہو جاتا تو اس کے اس کا خاوند اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا۔ اور شوہر اپنی بیوی سے یہ کام اس لئے کرتا تھا کہ بچہ شریف اور عمدہ پیدا ہو (تاکہ وہ شوہر کی ناموری کا باعث ہو) ایسے نکاح کو نکاح استبضاع کہا کرتے تھے۔ نکاح کی تیسری صورت یہ تھی کہ ایک عورت کے شوہر کئی مرد ہوتے تھے لیکن یہ دس سے کم ہی ہوتے تھے۔ اور وہ سب اس عورت سے صحبت کیا کرتے۔ پھر جب اسے حمل قرار پا جاتا تو وہ وضع حمل کے چند دن بعد ان سب شوہروں کو بلا بھیجتی اور اس کی دعوت پر ان سب کو آنا پڑتا تھا۔ جب وہ اس کے ہاں اکٹھے ہو جاتے تو وہ ان سے کہتی۔ جو کچھ تم کرتے رہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ اب میرے ہاں جو بچہ پیدا ہوا ہے یہ تم سے فلاں کا بچہ ہے۔ اس معاملہ میں اس عورت کو پورا اختیار ہوتا کہ جس کا وہ چاہتی نام لے لیتی اور وہ بچہ اسی کا ہو جاتا اور کسی کو اس کے فیصلہ سے انکار کی مجال نہ ہوتی۔ (کیونکہ قومی رسم ہی یہی تھی) اور چوتھی صورت یہ تھی کہ کسی عورت کے پاس بہت سے آدمی آتے جاتے رہتے اور وہ ہر ایک سے صحبت کرا لیتی کسی سے بھی انکار نہ کرتی اور وہ کنجریاں تھیں جن کے دروازے پر پہچان کے لئے جھنڈا لگا دیتے۔ اب جس شخص کا جی چاہتا وہ اس سے صحبت کر سکتا تھا پھر جب اسے حمل ٹھہر جاتا اور بچہ جنتی تو اس کے ہاں جانے والے سب مرد اس عورت کے ہاں اکٹھے ہو جاتے اور کسی قیافہ شناس کو اپنے پاس بلاتے۔ قیافہ شناس علم قیافہ کی رو سے جس مرد کو اس بچہ کا باپ بتاتا وہ بچہ اسی کا بیٹا ہو جاتا وہ ان کا باپ کہلاتا۔ اور قیافہ شناس کے فیصلہ سے کسی کو انکار کی مجال نہ ہوتی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو آپ نے جاہلیت کے سب نکاح موقوف کر دیئے۔ بس ایک ہی قسم کا نکاح باقی رکھا جو آج کل لوگ کرتے ہیں۔ [بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب من قال لانکاح الا بولی۔۔]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ سوائے اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے دوسری عورتوں سے اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں۔ یعنی حرام کاری سے بچتے ہیں۔ زنا لواطت وغیرہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ ہاں ان کی بیویاں جو اللہ نے ان پر حلال کی ہیں اور جہاد میں ملی ہوئی لونڈیاں جو ان پر حلال ہیں۔ ان کے ساتھ ملنے میں ان پر کوئی ملامت اور حرج نہیں۔ جو شخص ان کے سوا دوسرے طریقوں سے یا کسی دوسرے سے خواہش پوری کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے۔
حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے غلام کو لے لیا اور اپنی سند میں یہی آیت پیش کی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے اس معاملے کو پیش کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا اس نے غلط معنی مراد لیے۔ اس پر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما نے اس غلام کا سرمنڈوا کر جلا وطن کر دیا اور اس عورت سے فرمایا اس کے بعد تو ہر مسلمان پر حرام ہے، لیکن یہ اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11277:منقطع]‏‏‏‏ اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ امام ابن جریر نے اسے سورۃ المائدہ کی تفسیر کے شروع میں وارد کیا ہے لیکن اس کے وارد کرنے کی موزوں جگہ یہی تھی۔ اسے عام مسلمانوں پر حرام کرنے کی وجہ اس کے ارادے کے خلاف اس کے ساتھ معاملہ کرنا تھا واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے موافقین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اپنے ہاتھ سے اپنا خاص پانی نکال ڈالنا حرام ہے کیونکہ یہ بھی ان دونوں حلال صورتوں کے علاوہ ہے اور مشت زنی کرنے والا شخص بھی حد سے آگے گزرجانے والا ہے۔ امام حسن بن عرفہ نے اپنے مشہور جز میں ایک حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ انہیں عالموں کے ساتھ جمع کرے گا اور انہیں سب سے پہلے جہنم میں جانے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل کرے گا یہ اور بات ہے کہ وہ توبہ کر لیں توبہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ مہربانی سے رجوع فرماتا ہے ایک تو ہاتھ سے نکاح کرنے والا یعنی مشت زنی کرنے والا اور اغلام بازی کرنے اور کرانے والا۔ اور نشے باز شراب کا عادی اور اپنے ماں باپ کو مارنے پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ چیخ پکار کرنے لگیں اور اپنے پڑوسیوں کو ایذاء پہنچانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت بھیجنے لگے اور اپنی پڑوسن سے بدکاری کرنے والا۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5470:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ واللہ اعلم۔
اور وصف ہے کہ وہ اپنی امانتیں اور اپنے وعدے پورے کرتے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے بلکہ امانت کی ادائیگی میں سبقت کرتے ہیں وعدے پورے کرتے ہیں اس کے خلاف عادتیں منافقوں کی ہوتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ [١]‏‏‏‏ جب بات کرے، جھوٹ بولے [٢]‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے [٣]‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:7232]‏‏‏‏
پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کی ان اوقات پر حفاظت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا اللہ کے راہ میں جہاد کرنا [صحیح بخاری:527]‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وقت، رکوع، سجدہ وغیرہ کی حفاظت مراد ہے۔ ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالو۔ شروع میں بھی نماز کا بیان ہوا اور آخر میں بھی نماز کا بیان ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ نماز سب سے افضل ہے۔
حدیث شریف میں ہے سیدھے سیدھے رہو اور تم ہرگز احاطہٰ نہ کر سکو گے۔ جان لو کہ تمہارے تمام اعمال میں بہترین عمل نماز ہے۔ دیکھو وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کر سکتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:277،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ان سب صفات کو بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ یہی لوگ وارث ہیں جو جنت الفردوس کے دائمی وارث ہونگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ سے جب مانگو جنت الفردوس مانگو، وہ سب سے اعلی اور اوسط جنت ہے۔ وہیں سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اسی کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے-[صحیح بخاری:2790]‏‏‏‏
فرماتے ہیں تم میں ہر ایک کی دو دو جگہیں ہیں۔ ایک منزل جنت میں ایک جہنم میں، جب کوئی دوزخ میں گیا تو اس کی منزل کے وارث جنتی بنتے ہیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4341،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتی تو اپنی جنت کی جگہ سنوار لیتا ہے اور جہنم کی جگہ ڈھا دیتا ہے۔ اور دوزخی اس کے خلاف کرتا ہے، کفار جو عبادت کے لیے پیدا کئے گئے تھے، انہوں نے عبادت ترک کر دی تو ان کے لیے جو انعامات تھے وہ ان سے چھین کر سچے مومنوں کے حوالے کر دئیے گئے۔ اسی لیے انہیں وارث کہا گیا۔
صحیح مسلم میں ہے کچھ مسلمان پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ یہود ونصاری پر ڈال دے گا اور انہیں بخش دے گا۔ [صحیح مسلم:2767]‏‏‏‏
اور سند سے مروی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک ایک یہودی یا نصرانی دے گا کہ یہ تیرا فدیہ ہے، جہنم سے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے جب یہ حدیث سنی تو راوی حدیث ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو قسم دی انہوں نے تین مرتبہ قسم کھا کر حدیث کو دوہرا دیا۔ اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا» [19- مريم: 63]‏‏‏‏، اسی جیسی آیت یہ بھی «وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [43- الزخرف: 72]‏‏‏‏، فردوس رومی زبان میں باغ کو کہتے ہیں بعض سلف کہتے کہ اس باغ کو جس میں انگور کی بیلیں ہوں «واللہ اعلم» ۔