ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 6

اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾
مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔ En
مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں
En
بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ { اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ …:} اس سے معلوم ہوا کہ اسلام جوگیوں، راہبوں اور بعض صوفیوں کی طرح جنسی خواہش کو سرے سے روک دینے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ بیویوں اور لونڈیوں سے جماع کو جائز قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم دیا ہے، فرمایا: «وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىِٕكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ‏‏‏‏ [النور: ۳۲] اور اپنے میں سے بے نکاح مردوں، عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے غلاموں اور اپنی لونڈیوں سے جو نیک ہیں ان کا بھی، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین صحابہ سے جن میں سے ایک نے نکاح نہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، فرمایا: [أَمَا وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُ، لٰكِنِّيْ أَصُوْمُ وَ أُفْطِرُ وَ أُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ] [بخاري، النکاح، باب الترغیب في النکاح…: ۵۰۶۳] اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے بچنے والا ہوں، لیکن (اس کے باوجود) میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، میں قیام اللیل بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں، پھر جو میری سنت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔
➋ { اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ } سے معلوم ہوا کہ شہوت پوری کرنے کے لیے مسلمان مرد کے پاس صرف دو راستے ہیں، بیوی اور لونڈی اور عورت کے لیے صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے خاوند یا لونڈی کا مالک۔ کیونکہ جب بیوی خاوند کے لیے حلال ہوئی تو خاوند بیوی کے لیے خود بخود حلال ہو گیا۔ عورت اپنے غلام سے حاجت پوری نہیں کر سکتی، کیونکہ { عَلٰۤى} کا لفظ اس سے منع کرتا ہے، جو بلندی اور اوپر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
➌ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ کسی عورت سے جماع کے جواز کے لیے نکاح ضروری ہے، یا اس کا مملوکہ ہونا۔ مالک کو مملوکہ لونڈی کے لیے نکاح کی ضرورت نہیں، اگر مالک کو اس سے جماع کے لیے نکاح ضروری ہوتا تو { عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ } ہی کافی تھا، مملوکہ لونڈیوں کا الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ سوائے اپنی بیویوں اور کنیزوں کے جو ان کے قبضہ [6] میں ہوں کیونکہ ان کے معاملہ میں ان پر کوئی ملامت نہیں۔
[6] ترک نکاح اور رہبانیت کا رد:۔
یعنی مسلمانوں کے لئے اپنے شہوانی جذبات اور خواہشات کی تکمیل کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کریں اور دوسری یہ کہ اپنی مملوک کنیزوں سے پوری کر سکتے ہیں۔ مملوک لونڈیوں کے لئے نکاح کی شرط نہیں اور اس سے تمتع کے جواز کی بنیاد نکاح نہیں بلکہ ملک ہے۔ اس آیت سے مزید دو امور کا پتہ چلتا ہے۔ ایک یہ کہ راہب سنیاسی یا بعض صوفی قسم کے لوگ شہوانی خواہش کی تکمیل کو برا سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ نکاح کو ان کی خود ساختہ ولایت کے معیار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کہ نکاح کے بعد انسان خانہ داری اور اولاد کے جھنجھٹوں میں پڑ جاتا ہے۔ اور یہ چیز رہبانیت کی ریاضت کے حصول میں آڑے آتی ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کے نظریہ کا پورا پورا رد موجود ہے۔ نیز دور نبوی میں صحابہ کرام میں بھی کچھ رہبانیت کا رجحان چل نکلا تھا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ تین آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھنے لگے۔ جب انھیں بتلایا گیا تو اسے انہوں نے کم سمجھا اور کہنے لگے کہ کہاں ہم اور ہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے پہلے اور پچھلے سب گناہ معاف کئے جا چکے ہیں۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا: میں ہمیشہ ساری رات نماز میں گزارا کروں گا“ دوسرے نے کہا: ”میں ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا اور تیسرے نے کہا میں ہمیشہ عورتوں سے کنارہ کش رہوں گا اور کبھی نکاح نہ کروں گا“ اتنے میں آپ تشریف لے آئے اور ان لوگوں سے پوچھا: ”کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی اور ایسی باتیں کی ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور پرہیزگار ہوں۔ اس کے باوجود میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں۔ رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ تو جو کوئی میری سنت کو ناپسند کرے اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں“ [بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب الترغیب فی النکاح]
عورت کا اپنے غلام سے تمتع کی ممانعت:۔
اور دوسری یہ بات کہ مرد کے لئے تو اس کی مملوکہ کنیز سے تمتع جائز ہے۔ لیکن عورت اپنے مملوک غلام سے تمتع نہیں کر سکتی۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک عورت نے اپنے غلام سے تمتع کر لیا۔ پھر دلیل میں یہ آیت پیش کی۔ آپ نے صحابہ کی مجلس شوریٰ میں یہ معاملہ پیش کیا تو سب نے بالاتفاق کہا کہ: «تَاَوَّلْتُ كِتَاب اللّٰهِ تَعَاليٰ خَيْرُ تَاوِيْلِه» (یعنی اس عورت نے اللہ کی کتاب کا غلط مفہوم اخذ کیا ہے) اور عورت کے لئے اس چیز کو حرام کرنے کی حکمت یہ ہے کہ غلام اپنی مالکہ کی خواہش شہوانی تو پوری کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا قوام نہیں بن سکتا۔ لہٰذا ایسی عورت کے لئے بہتر یہی ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔