ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 57

اِنَّ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَۃِ رَبِّہِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ ﴿ۙ۵۷﴾
بے شک وہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہیں۔ En
جو اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے ہیں
En
یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 57) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ:إِشْفَاقٌ } کا معنی ہے متوقع چیز کا شدید خوف اور {وَجِلٌ} بروزن {فَزِعٌ} کا معنی ہے، سخت ڈرنے والا۔ اس سے پہلے غفلت میں مبتلا ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کے ہاں کفر و فسق کے باوجود مال اور بیٹوں کی فراوانی ہوتی جاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر خوش ہے، تبھی یہ سب کچھ ہمیں دے رہا ہے۔ اب ان کے مقابلے میں مخلص و مومن بندوں کا ذکر ہے، جو کمال ایمان و عمل کے باوجود عجب اور خود پسندی سے محفوظ ہیں اور ہر وقت اس بات سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ کیا خبر اس کی جناب میں ہمارے عمل قبول ہوتے ہیں یا نہیں۔
➋ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص مومن بندوں کی چار صفات بیان فرمائی ہیں، پہلی یہ کہ وہ اپنے رب سے بہت ڈرنے والے ہیں کہ وہ ناراض نہ ہو جائے۔ واضح رہے کہ اہل ایمان کا اپنے رب سے یہ خوف اس قسم کا نہیں ہوتا جیسے کسی جابر و ظالم بے رحم سے ہوتا ہے، بلکہ وہ اسے اپنا رب یعنی ہر نعمت عطا کرنے والا سمجھ کر اس کے ساتھ انتہائی محبت کے ساتھ ساتھ اس کی ناراضی کے خطرے سے انتہائی خوف بھی رکھتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

57۔ (بھلائیاں پانے والے اور اہل وہ لوگ ہیں) جو اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مؤمن کی تعریف ٭٭
فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بے خوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے مریم علیہا السلام کا وصف بیان ہوا ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ» [66-التحريم: 12]‏‏‏‏ وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضاء اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہرکام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہرخبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بے نیاز جانتے ہیں اسے بے اولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بے نظیر اور بے کفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہو جاتی ہے؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اس آیت کی دوسری قرأت «یاتون ما اتوا» بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو؟ جواب دیا اس لیے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [23- المؤمنون: 60]‏‏‏‏ کے الفاظ کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہوں آیت «یوتون ما اتوا» ہیں یا «یاتون مااتوا» ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لیے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہو گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم خوش ہو جاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے۔ [مسند احمد:95/6:ضعیف]‏‏‏‏ اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔