ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 56

نُسَارِعُ لَہُمۡ فِی الۡخَیۡرٰتِ ؕ بَلۡ لَّا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۵۶﴾
(ان کے ذریعے)ہم انھیں بھلائیاں دینے میں جلدی کر رہے ہیں، بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔ En
تو (اس سے) ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں
En
وه ان کے لئے بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 55 میں تا آیت 57 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ تو ہم انھیں بھلائیاں دینے میں جلدی [59] کر رہے ہیں؟ معاملہ یوں نہیں بلکہ اصل بات کا انھیں شعور ہی نہیں
[59] کیا آسودہ حالی اللہ کی رضا مندی کی علامت ہے؟
دنیا دار اور جاہل لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ آسودہ حالی اللہ کی رضا مندی کی علامت ہوتی ہے۔ اور تنگدستی یا پریشان حالی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی۔ حالانکہ بسا اوقات معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ چودھری لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب یہی نظریہ ہوتا ہے وہ دیکھتے ہیں کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے اور ایمانداروں پر ظلم و زیادتی روا رکھنے کے باوجود ہی ان کا کچھ نہیں بگڑا تو وہ اس نظریہ پر مزید پختہ ہو جاتے ہیں۔ اب اللہ کی طرف سے ان پر ابتلاء کا دور یوں آتا ہے کہ ان پر مزید انعامات الٰہی کی بارش ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ ان انعامات کی حیثیت ایسے ہی ہوتی ہے جیسے بجھنے والا چراغ بجھنے سے پیشتر ایک دفعہ خوب روشن ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ مال و دولت اور نعمتوں کی فراوانی اللہ کی خوشنودی کے طور پر نہیں بلکہ امہال و استدراج کی بنا پر ہے۔ اور جتنی انھیں ڈھیل دی جا رہی ہے اسی قدر ان کی شقاوت کا پیمان لبریز ہو رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔