یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ اِنِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿ؕ۵۱﴾
اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھائو اور نیک عمل کرو، یقینا میں اسے جو تم کرتے ہو، خوب جاننے والا ہوں۔
En
اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل نیک کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں
En
اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 51) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ …:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو حکم دے رہے ہیں کہ حلال کھاؤ اور صالح اعمال کرتے رہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اکلِ حلال عمل صالح کے لیے مددگار ہے۔“ (ابن کثیر) ظاہر ہے حلال حاصل کرنے کے لیے محنت بھی کرنا پڑے گی۔ چنانچہ نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں اور تجارت بھی کی ہے اور آخر میں تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ ترین رزق مال غنیمت کے ساتھ غنی فرما دیا، چنانچہ فرمایا: «فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا» [الأنفال: ۶۹] ”سو اس میں سے کھاؤ جو تم نے غنیمت حاصل کی، اس حال میں کہ حلال، طیب ہے۔“ مقدام رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَّأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَ إِنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ دَاوٗدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ] [بخاري، البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ: ۲۰۷۲] ”کسی شخص نے کوئی کھانا اس کھانے سے بہتر نہیں کھایا جو وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا] [ابن ماجہ، التجارات، باب الصناعات: ۲۱۵۰، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الألباني] ”زکریا علیہ السلام نجار (ترکھان) تھے۔“ اس کی مزید تفصیل اور حرام کھانے والے کی دعا قبول نہ ہونے کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۲)۔
اس آیت میں رہبانیت کا بھی رد ہے، جو اللہ کی نعمتیں اپنے آپ پر حرام کر لیتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرے کے بعد شاید اسی لیے اس حکم کا ذکر کیا ہے کہ رہبانیت کا حکم کسی بھی رسول کو نہ تھا۔
➋ { إِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ:} اس میں حلال کھانے اور عمل صالح پر جزا کا وعدہ ہے اور اس کے خلاف پر سزا کی وعید ہے۔
اس آیت میں رہبانیت کا بھی رد ہے، جو اللہ کی نعمتیں اپنے آپ پر حرام کر لیتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرے کے بعد شاید اسی لیے اس حکم کا ذکر کیا ہے کہ رہبانیت کا حکم کسی بھی رسول کو نہ تھا۔
➋ { إِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ:} اس میں حلال کھانے اور عمل صالح پر جزا کا وعدہ ہے اور اس کے خلاف پر سزا کی وعید ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
51-1طِیِّبٰت سے مراد پاکیزہ اور لذت بخش چیزیں ہیں، بعض نے اس کا ترجمہ حلال چیزیں کیا ہے۔ دونوں ہی اپنی جگہ صحیح ہیں کیونکہ ہر پاکیزہ چیز اللہ نے حلال کردی ہے اور ہر حلال چیز پاکیزہ اور لذت بخش ہے۔ خبائث کو اللہ نے اس لئے حرام کیا ہے کہ وہ اثرات و نتائج کے لحاظ سے پاکیزہ نہیں ہیں۔ حلال روزی کے ساتھ عمل صالح کی تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ ایک دوسر کے معاون ہیں۔ اسی لئے اللہ نے تمام پیغمبروں کو ان دونوں باتوں کا حکم دیا۔ چناچہ تمام پیغمبر محنت کر کے حلال روزی کمانے اور کھانے کا اہتمام کرتے رہے، جس طرح حضرت داؤد ؑ کے بارے میں آتا ہے ' کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے ' اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں، میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند سکوں کے عوض چراتا رہا (صحیح بخاری)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ اے پیغمبروں کی جماعت [53]! پاکیزہ چیزیں [54] کھاؤ اور نیک اعمال کرو جو کچھ تم کرتے رہے ہو [55] میں اسے خوب جانتا ہوں
[53] خطاب کا یہ انداز اس لحاظ سے نہیں کہ سارے رسول کسی ایک جگہ اکٹھے کئے گئے تھے تو انھیں اس طرح مخاطب کیا گیا ہے۔ بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ چونکہ سارے رسولوں کی اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ لہٰذا بطور اختصار یہاں خطاب کا مشترکہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ نیز اس آیت میں اگرچہ خطاب رسولوں کو ہے تاہم اس کا حکم عام ہے۔ اور قرآن کریم نے بعض مقامات پر تو ﴿يٰا ايُّهَا النَّاس﴾ کہہ کر حلال اور پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے اور بعض مقامات پر اس حکم کے مخاطب ایمان لانے والے ہیں۔ [54] رسولوں کو پاکیزہ اشیاء کھانے کا حکم:۔
پاکیزہ چیزوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا کھانا شریعت نے حلال قرار دیا ہو اور انھیں حلال ذرائع سے ہی حاصل کیا گیا ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ مرغی بذات خود حلال چیز ہے مگر جب یہ چوری کی ہو تو حرام ہو جائے گی۔ اسی طرح سود یا دوسرے ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ حرام مال تصور ہو گا۔
کسب حلال کی اہمیت:۔
کسب حلال اور حرام سے اجتناب اس قدر اہم حکم ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال سے پہلے ذکر فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی کی کمائی حرام کی ہو تو اس کے نیک اعمال بھی قبول نہیں ہوتے۔ اس سلسلہ میں ہم سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 168 کے تحت آٹھ حدیثیں درج کر چکے ہیں جن کو دوبارہ دیکھ لینا مفید ہو گا۔ تاکہ اس اہم شرعی حکم کی اہمیت پوری طرح معلوم ہو جائے۔
[55] یعنی اگر کسی نے کسب حلال میں حرام کی آمیزش کی ہو تو اسے میں خوب جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہارے اعمال میں اللہ کی رضا مندی اور خلوص کا حصہ کتنا تھا۔ یہ مطلب اس لحاظ سے ہو گا جب اس خطاب کا روئے سخن عام لوگوں یا ایمانداروں کی طرف سے سمجھا جائے کیونکہ انبیاء سے کسی قسم کی نافرمانی کا انکار نہیں اور اگر اس کا روئے سخن انبیاء کی طرف سمجھا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ تم نے حق تبلیغ کس حد تک ادا کیا ہے۔
[55] یعنی اگر کسی نے کسب حلال میں حرام کی آمیزش کی ہو تو اسے میں خوب جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہارے اعمال میں اللہ کی رضا مندی اور خلوص کا حصہ کتنا تھا۔ یہ مطلب اس لحاظ سے ہو گا جب اس خطاب کا روئے سخن عام لوگوں یا ایمانداروں کی طرف سے سمجھا جائے کیونکہ انبیاء سے کسی قسم کی نافرمانی کا انکار نہیں اور اگر اس کا روئے سخن انبیاء کی طرف سمجھا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ تم نے حق تبلیغ کس حد تک ادا کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اکل حلال کی فضیلت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء علیہ السلام کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کر لیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت، مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّـهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [2-البقرة: 172] حلال چیزیں کھاؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے بُنّنے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا؟[صحیح بخاری:2262] اور حدیث میں ہے داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت کا کھایا کرتے تھے۔[صحیح بخاری:2072]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ کو سب سے زیادہ پسند روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قیام داؤد علیہ السلام کا قیام ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز تہجد پڑھتے تھے اور چھٹا حصے سوجاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے میدان جنگ میں کبھی پیٹھ نہ دکھاتے۔ [صحیح بخاری:1131]
ام عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کر دیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔“انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں“، [طبرانی کبیر:174/25:ضعیف]
اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہننا حرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ [صحیح مسلم:1015] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لیے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورۃ انبیاء میں اس کی تفسیر وتشریح ہو چکی ہے آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [المومنون آیت 52] پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔
ام عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کر دیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔“انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں“، [طبرانی کبیر:174/25:ضعیف]
اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہننا حرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ [صحیح مسلم:1015] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لیے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورۃ انبیاء میں اس کی تفسیر وتشریح ہو چکی ہے آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [المومنون آیت 52] پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔
جن امتوں کی طرف انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے تھے انہوں نے اللہ کے دین کے ٹکڑے کر دئے اور جس گمراہی پر اڑ گئے اسی پر نازاں وفرحاں ہو گئے اس لیے کہ اپنے نزدیک اسی کو ہدایت سمجھ بیٹھے۔ پس بطور ڈانٹ کے فرمایا «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [86-الطارق: 17] اور آیت «ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر: 3] انہیں ان کے بہکنے بھٹکنے میں ہی چھوڑ دیجئیے یہاں تک کہ ان کی تباہی کا وقت آ جائے۔ کھانے پینے دیجئیے، مست وبے خود ہونے دیجئیے، ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ «وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» [34-سبأ: 35] کیا یہ مغرور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد انہیں دے رہے ہیں وہ ان کی بھلائی اور نیکی کی وجہ سے ان کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو انہیں دھوکا لگا ہے یہ اس سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جیسے یہاں خوش حال ہیں وہاں بھی بےسزا رہ جائیں گے یہ محض غلط ہے جو کچھ انہیں دنیا میں ہم دے رہے ہیں وہ تو صرف ذرا سی دیر کی مہلت ہے لیکن یہ بے شعور ہیں۔ یہ لوگ اصل تک پہنچے ہی نہیں۔
جیسے فرمان ہے۔ «فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9- التوبہ: 55]، تجھے ان کے مال و اولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ» [3-آل عمران: 178] یہ ڈھیل صرف اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا» [74- المدثر: 16-11]، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لیے مہیا کر دیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے۔ «وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰىِٕكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ» [34- سبأ: 37]، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔
جیسے فرمان ہے۔ «فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9- التوبہ: 55]، تجھے ان کے مال و اولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ» [3-آل عمران: 178] یہ ڈھیل صرف اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا» [74- المدثر: 16-11]، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لیے مہیا کر دیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے۔ «وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰىِٕكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ» [34- سبأ: 37]، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق بھی تم میں اسی طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح روزیاں تقسیم فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت رکھے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہ رکھے ہاں دین صرف اسی کو دیتا ہے جس سے پوری محبت رکھتا ہو پس جسے اللہ دین دے سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایذاؤں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دھوکے بازی، ظلم وغیرہ۔ سنو جو بندہ حرام مال حاصل کر لے اس کے خرچ میں برکت نہیں ہوتی اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا جو چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کا جہنم کا توشہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہاں برائی کو بھلائی سے رفع کرتا ہے۔ خبیث خبیث کو نہیں مٹاتا۔ [مسند احمد:378/1:ضعیف]