ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 49

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ لَعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۹﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پائیں۔ En
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں
En
ہم نے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (بھی) دی کہ لوگ راه راست پر آجائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ:} موسیٰ علیہ السلام کو کتاب تورات فرعونیوں کو غرق کرنے کے بعد ملی، جیسا کہ سورۂ اعراف (۱۳۶ تا ۱۴۵) میں فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کے چالیس راتوں کے لیے طور پر اعتکاف اور دیدارِ الٰہی والے معاملے کے بعد الواح کی صورت میں کتاب عطا فرمانے کا ذکر ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات فرعون اور قبطیوں کو غرق کرنے کے بعد نازل فرمائی اور تورات نازل کرنے کے بعد کسی امت کو عام عذاب کے ساتھ ہلاک نہیں فرمایا، بلکہ ایمان والوں کو کفار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ [القصص: ۴۳] اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کر دیا، جولوگوں کے لیے دلائل اور ہدایت اور رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ اس لیے { لَعَلَّهُمْ } (تاکہ وہ) میں ضمیر {هُمْ} بنی اسرائیل ہی کے لیے قرار دی جائے گی، فرعونیوں کے لیے نہیں۔
➋ { لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ:} یعنی کتاب تو اس لیے تھی کہ بنی اسرائیل ہدایت حاصل کریں، مگر اپنے آپ میں نبی کو موجود پا کر، اس کے معجزوں کو آنکھوں سے دیکھ کر اور اس پر نازل ہونے والی کتاب کو سن کر بھی ان کے اکثر سیدھی راہ پر نہیں آئے۔ جیسا کہ قرآن میں جا بجا ان کی نافرمانی کے قصے مذکور ہیں۔ امت مسلمہ کو تنبیہ ہے کہ دیکھنا تمھارا حال بھی ان کی طرح نہ ہو جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49-1امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات، فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد دی گئی۔ اور نزول تورات کے بعد اللہ نے کسی قوم کو عذاب عام سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ مومنوں کو حکم دیا جاتا رہا کہ وہ کافروں سے جہاد کریں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (اس لئے) دی تھی کہ وہ لوگ اس سے رہنمائی [50] حاصل کریں۔
[50] منکرین سنت کا رد:۔
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ موسیٰؑ کو کتاب تورات فرعون اور اس کے سرداروں کی غرقابی کے بعد دی گئی تھی۔ دوسرے یہ کہ جو احکام موسیٰؑ پر تورات کے نازل ہونے سے پہلے دیئے گئے تھے وہ بھی موسیٰؑ اور آپ پر ایمان لانے والوں کے لئے اسی طرح قابل اتباع تھے جس طرح تورات کے احکام۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نبی پر کتاب اللہ کے علاوہ اللہ کی طرف سے اور بھی بہت کچھ نازل ہوتا ہے۔ اور اس کی اتباع بھی اسی طرح واجب ہوتی ہے جیسے کتاب اللہ کی اور اس میں ان لوگوں کا پورا رد موجود ہے جو کہتے ہیں کہ ہمیں ہدایت کے لئے صرف قرآن ہی کافی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔