پھر ہم نے اپنے رسول پے درپے بھیجے۔ جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو ہم نے ان کے بعض کو بعض کے پیچھے چلتا کیا اور انھیں کہانیاں بنا دیا۔ سو دوری ہو ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں لاتے۔
En
پھر ہم نے پے درپے اپنے پیغمبر بھیجتے رہے۔ جب کسی اُمت کے پاس اس کا پیغمبر آتا تھا تو وہ اسے جھٹلاتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے (ہلاک کرتے اور ان پر عذاب) لاتے رہے اور ان کے افسانے بناتے رہے۔ پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان پر لعنت
پھر ہم نے لگاتار رسول بھیجے، جب جب اس امت کے پاس اس کا رسول آیا اس نے جھٹلایا، پس ہم نے ایک دوسرے کے پیچھے لگا دیا اور انہیں افسانہ بنا دیا۔ ان لوگوں کو دوری ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے
En
(آیت 44){ ثُمَّاَرْسَلْنَارُسُلَنَاتَتْرَا …:”تَتْرَا“”دَعْوٰي“} اور {”سَلْوٰي“} ({فَعْلٰي})کے وزن پر مصدر ہے، جو {”رُسُلَنَا“} سے حال ہے۔ {”تَتْرَا“} اصل میں {”وَتَرٰي“} ہے۔ واؤ کو تاء سے بدل دیا، جس طرح {”تَقْوٰي“} میں تاء واؤ کی جگہ آئی ہے۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی {”مُتَوَاتِرِيْنَ“} یعنی پھر ہم نے اپنے کئی رسول پے در پے بھیجے، مگر ان کی قوموں نے پہلی امتوں کے انجام سے کوئی عبرت حاصل نہ کی اور ہر امت اپنے رسول کے آنے پر اسے جھٹلاتی رہی، تو ہم نے بھی یکے بعد دیگرے ان کی ہلاکت کا تانتا باندھ دیا اور انھیں ایسا نیست و نابود کیا کہ قصے کہانیوں کے سوا ان کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44-1نَتْرَا کے معنی ہیں۔ یکے بعد دیگرے، متواتر لگا تار۔ 44-2ہلاکت اور بربادی میں۔ یعنی جس طرح یکے بعد دیگرے رسول آئے، اسی طرح رسالت کے جھٹلانے پر یہ قومیں یکے بعد دیگرے، عذاب سے دو چار ہو کر ہست و نیست ہوتی رہیں۔ 44-3جس طرح اَعَاجِیْبُ،اُعْجُوبَۃً کی جمع ہے (تعجب انگیز چیز یا بات) اسی طرح اَحَاحِیْثُاُحْدُوْثَۃً کی جمع ہے بمعنی مشہور معروف مخلو قات کے واقعات اور قصص۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ پھر اس کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جب بھی کسی قوم کے پاس اس کا رسول آتا تو وہ اسے جھٹلا دیتے تو ہم ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو ہلاک کرتے رہے تا آنکہ انھیں افسانے [46] بنا دیا۔ سو ان لوگوں پر پھٹکار ہو جو ایمان نہیں لاتے۔
[46] قوم عاد اولیٰ اور عاد ثانی کے بعد، موسیٰؑ کے زمانہ تک درج ذیل انبیاء مبعوث ہوئے۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ایوب، اور حضرت شعیب علیہم السلام یہ تو وہ انبیاء ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے اور جن کا ذکر قرآن میں نہیں آیا وہ ان سے بہت زیادہ ہیں۔ بعض روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دنیا میں مبعوث ہونے والے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے 313 تا 315 بتلائی اور انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتلائی جبکہ قرآن میں صرف 27 انبیاء و رسل کا ذکر ہے۔
قوم عاد کے بعد انبیاء:۔
اب اگر تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو جہاں تک انسانی علم کی رسائی ہو سکی ہے اس کے مطابق عاد اولیٰ اور موسیٰؑ کے درمیانی مدت تقریباً چار ہزار سال پر محیط ہے۔ اس طویل عرصہ میں لاتعداد انبیاء و رسل مبعوث ہوتے رہے۔ حتیٰ کہ ان انبیاء کا ایسا تانتا بندھا ہوا تھا کہ کوئی وقت ایسا نہ تھا جب روئے زمین پر کوئی نبی موجود نہ ہو۔ بلکہ بیک وقت ایک ہی زمانے میں کئی کئی انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ ان سب سے یہی سلوک ہوتا رہا کہ انھیں جھٹلایا گیا۔ کیونکہ چودھری قسم کے لوگ قطعاً اس بات پر آمادہ نہیں ہوتے کہ وہ اپنی سرداریوں سے دستبردار ہو کر نبیوں کے مطیع فرمان بن جائیں۔ وہ دوسرے لوگوں کو بھی انبیاء کے خلاف بھڑکاتے رہے۔ ان کے اس جرم کی پاداش میں ان پر عذاب آتے رہے۔ ایک قوم مٹتی تو دوسری اس کی جگہ لیتی رہی۔ پھر اس کے مقر رہ وقت کے مطابق اسے بھی صفحہ ہستی سے نیست و نابود کیا جاتا رہا۔ حتیٰ کہ ان کے آثار بھی باقی نہ رہے، ماسوائے ان داستانوں اور افسانوں کے جو بعد کے آنے والے لوگوں میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔