(آیت 37) ➊ { اِنْهِيَاِلَّاحَيَاتُنَاالدُّنْيَا: ”هِيَ“} سے مراد {”حَيَاةٌ“} ہے، جو {”حَيَاتُنَا“} سے واضح ہو رہی ہے، یعنی مرنے کے بعد زندگی کہاں؟ زندگی ہے تو صرف یہ دنیا کی زندگی، باقی سب خیال و محال ہے۔ ➋ { نَمُوْتُوَنَحْيَا:} ”ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں“ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل ہو گئے تھے، کیونکہ وہ اس دنیا کے سوا کسی زندگی کو مانتے ہی نہ تھے۔ اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہیں ہم مرتے جاتے ہیں اور پچھلے پیدا ہوتے رہتے ہیں، دنیا کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا ہے اور جاری رہے گا۔ ➌ {وَمَانَحْنُبِمَبْعُوْثِيْنَ:} باء کی وجہ سے نفی میں تاکید پیدا ہو گئی، اس لیے ترجمہ ہے ”اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں۔“ اگرچہ ان سرداروں کی پچھلی تمام باتوں کا مطلب بھی رسول اور قیامت کو جھٹلانا تھا، پھر بھی کوئی کمی باقی تھی تو انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ صاف لفظوں میں قیامت کا انکار کرکے اور رسول کو مفتری کہہ کر پوری کر دی، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے (پیدا ہوتے) ہیں اور ہم ہرگز اٹھائے [41] نہیں جائیں گے۔
[41] آخرت کا انکار جہالت اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے:۔
آخرت سے انکار کرنے والوں کے پاس سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ چونکہ کوئی بھی مرا ہوا انسان آج تک دوبارہ زندہ ہو کر واپس نہیں آیا۔ لہٰذا ہم کیسے مان لیں کہ مرنے اور مر کر مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ گویا ان کے انکار کی اصل بنیاد ان کا اپنا تجربہ یا مشاہدہ ہوتا ہے۔ قوم عاد مشرکین مکہ کی طرح اللہ کی ہستی کے قائل تھے حالانکہ اللہ کی ہستی بھی کسی تجربہ اور مشاہدہ میں نہیں آتی۔ اور اللہ کی ہستی کے قائل ہونے کی وجہ بھی یہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی پیغمبر کی تعلیم سے متاثر ہو کر اللہ پر ایمان بالغیب لاتے ہیں۔ بلکہ اس لئے کہ فلاسفروں اور حکماء نے اللہ کی ہستی کو علت العلل (First Cause) کے طور پر تسلیم کیا ہے یعنی جس طرح ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہر چیز کے لئے صانع یا اس کے بنانے والے کا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح اس کارخانہ کائنات کا بنانے والا ہونا بھی ضروری ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ کی ہستی کو عقلی دلیل کی بنا پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ عقلی دلیل کی بنا پر بھی ایسی اشیاء کو تسلیم کرنا ضروری ہے جو مشاہدہ اور تجربہ میں نہ آئی ہوں یا نہ آسکتی ہوں۔ اور دوبارہ زندگی کے قیام پر چونکہ بہت سے عقلی دلائل موجود ہیں۔ جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی بے شمار مقامات پر ہوا ہے۔ لہٰذا جو لوگ آخرت اور دوبارہ زندگی کا انکار محض اس بنا پر کرتے ہیں کہ کوئی آدمی مر کر واپس نہیں آیا۔ یا انسان کا جسم مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے تو پھر کیسے زندہ ہو سکتا ہے، تو یہ عقلی دلائل کا انکار اور محض جہالت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔