(آیت 30) ➊ { اِنَّفِيْذٰلِكَلَاٰيٰتٍ:} نوح علیہ السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے حاصل ہونے والی عبرتوں کی طرف توجہ دلائی کہ یقینا اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اس میں نوح علیہ السلام کے اولو العزم پیغمبر ہونے کی کئی نشانیاں ہیں، یعنی مدت دراز تک ان کا بے مثال صبر، قوم کے ایمان نہ لانے کی اطلاع پر ان پر بددعا کا قبول ہونا، ان کے دشمنوں کا غرق ہونا، اللہ تعالیٰ کا ان کی رسالت کی تصدیق کرنا اور ان کی تعریف کرنا وغیرہ۔ نوح علیہ السلام کی قوم جیسی رسولوں کو جھٹلانے والی دیگر قوموں کے لیے بھی کئی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اللہ کی عظیم قدرت کی بھی بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اتنا عظیم طوفان جس سے پہاڑ بھی نہ بچا سکیں اور اس میں نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو محفوظ رکھ کر بابرکت طریقے سے اتار کر بابرکت جگہ دینا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کامل علم و حکمت کی بھی بہت سی نشانیاں ہیں کہ اس نے کس طرح زمین کو مکمل طور پر شرک سے پاک کرنا طے کر رکھا تھا اور اتنے تباہ کن طوفان میں بھی اس نے انسانی ضروریات اور جانوروں کی بقا کا انتظام طے کر رکھا تھا اور کیا۔ (ابن عاشور) ➋ { وَاِنْكُنَّالَمُبْتَلِيْنَ: ”وَ“} اصل میں {”إِنَّ“} ہے، جس کا اسم {”نَا“} محذوف ہے۔ دلیل {”لَمُبْتَلِيْنَ“} پر آنے والا لام ہے۔ {”كَانَ“} استمرار کے لیے ہے، یعنی بلاشبہ یقینا ہم ہمیشہ سے آزمانے والے ہیں۔ ہم نے نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کی آزمائش کی، اسی طرح ہم ہر پیغمبر اور اس کی امت کی آزمائش کرتے چلے آئے ہیں اور اب بھی آزمائش کرتے رہتے ہیں۔ اس میں ہماری حکمت کھرے کھوٹے کو ظاہر کرنا، آزمائش میں کامیاب ہونے والوں کو نوازنا اور ناکام رہنے والوں کے ساتھ ان کے حسب حال سلوک کرنا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30-1یعنی اس سرگزشت نوح ؑ میں اہل ایمان کو نجات اور کافروں کو ہلاک کردیا گیا، نشانیاں ہیں اس امر پر کہ انبیاء جو کچھ اللہ کی طرف سے لے کر آتے ہیں، ان میں وہ سچے ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر اور کشمکش حق و باطل میں ہر بات سے آگاہ ہے اور وقت آنے پر اس کا نوٹس لیتا ہے اور اہل باطل کی پھر اس طرح گرفت کرتا ہے کہ اس کے شکنجے سے کوئی نکل نہیں سکتا۔ 30-2اور ہم انبیاء و رسل کے ذریعے سے یہ آزمائش کرتے رہے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ اس واقعہ میں کئی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی [35] رہتے ہیں۔
[35] یعنی حضرت نوحؑ کے قصہ میں کئی ایسی باتیں ہیں جن سے ایک غور کرنے والا انسان سبق حاصل کر سکتا ہے۔ اور جب ہم کوئی نبی بھیجتے ہیں تو اس وقت قوم کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ نبی اور اس کے پیروکاروں کا بھی کہ وہ کس حد تک صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں اور جھٹلانے والوں کا بھی کہ وہ کس حد تک سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ پھر جو اس امتحان میں کامیاب ہوں انھیں انعامات سے نوازتے بھی ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں اور معاندین کو قرار واقعی سزا بھی دیتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعد میں آنے والی قوم میں سے کون ان نشانیوں کو سن کر عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے اور کون نہیں کرتا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔