ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 3

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾
اور وہی جو لغو کاموں سے منہ موڑنے والے ہیں۔ En
اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں
En
جو لغویات سے منھ موڑ لیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3){ وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ:لغو} ہر وہ بات یا کام جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ اس میں شرک اور ہر گناہ، بلکہ ہر بے فائدہ اور بے مقصد قول و فعل آ جاتا ہے۔ یعنی کوئی لغو بات یا کام خود کرنا تو دور کی بات ہے، وہ کوئی لغو کام ہوتا ہوا دیکھتے یا سنتے بھی نہیں، بلکہ ان کی عادت ہی لغو سے منہ موڑے رکھنا ہے۔ { يُعْرِضُوْنَ} کے بجائے { مُعْرِضُوْنَ } (اسم فاعل) کا مطلب ہے کہ لغو سے اعراض ان کی عادت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيْهِ] [ترمذي، الزھد، باب حدیث من حسن إسلام المرء …: ۲۳۱۷،عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ]آدمی کے اسلام کے حسن میں سے اس کا ان چیزوں کو چھوڑ دینا ہے جو اس کے مقصد کی نہیں ہیں۔ عباد الرحمان کی صفت بیان فرمائی: «وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا» ‏‏‏‏ [الفرقان: ۷۲] اور جب بے ہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔ جنت کی ایک خوبی یہ ہو گی: «‏‏‏‏لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًا» ‏‏‏‏ [الواقعۃ: ۲۵] وہ اس میں نہ بے ہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3-1لَغْو ہر وہ کام اور ہر وہ بات جس کا کوئی فائدہ نہ ہو یا اس میں دینی یا دنیاوی نقصانات ہوں، ان سے پرہیز مطلب ہے ان کی طرف خیال بھی نہ کیا جائے۔ چہ جائیکہ انھیں اختیار یا ان کا ارتکاب کیا جائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اور جو بیہودہ [3] باتوں سے دور رہتے ہیں
[3] لغو کا مفہوم:۔
لغو سے مراد فضول اور بیکار مشغلے اور کھیل بھی ہو سکتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ اگر تفریح طبع کے لئے یا جسمانی کسرت کے طور پر کوئی کھیل کھیلتے ہیں تو ایسے کھیل نہیں کھیلتے جن میں محض وقت کا ضیاع ہو بلکہ ایسے کھیل کھیلتے ہیں جن سے کوئی دینی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہو۔ جیسے جہاد کی غرض سے تیراکی، نیزہ بازی، تیر اندازی، اور نشانہ بازی وغیرہ۔ اور لغو سے مراد بیہودہ اور فضول باتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ جیسے فضول گپیں، غیبت، بکواس، تمسخر، فحش گفتگو اور فحش قسم کے گانے وغیرہ۔ ان باتوں سے وہ صرف خود ہی پرہیز نہیں کرتے بلکہ جہاں ایسی سوسائٹی ہو وہاں سے وہ اٹھ کر چلے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ رہنا قطعاً گوارا نہیں کرتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔