وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۚ۱۲﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا۔
En
اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے
En
یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 12) ➊ {وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ: ” سُلٰلَةٍ “ ”سَلَّ يَسُلُّ“} کوئی چیز نرمی کے ساتھ کھینچتے ہوئے نکالنا۔ {”سَلَلْتُ السَّيْفَ“} ”میں نے میان سے تلوار نکالی۔“ {”اَلسُّلَالَةُ“} بمعنی {” اَلشَّيْءُ الْمَسْلُوْلُ“} یعنی کسی چیز کا خلاصہ۔ {”فُعَالَةٌ“} کے وزن میں قلت کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسے {”قُلَامَةٌ“} قلم کا تراشہ اور {” صُبَابَةٌ “} تھوڑا سا گرا ہوا پانی۔
➋ ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے والے مومنوں کے فردوس کے وارث ہونے کا ذکر فرمایا، تو ظاہر ہے کہ یہ قیامت کے دن ہی ہو گا، اس لیے قیامت اور موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا ذکر فرمایا، پھر کائنات میں اس سے بھی بڑی مخلوقات آسمان و زمین اور ان میں موجود نعمتوں کا ذکر دلیل کے طور پر فرمایا کہ جس نے یہ سب کچھ پہلی دفعہ پیدا کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ پھر اللہ کی توحید اور دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کے منکروں کے انجام بد سے ڈرایا، چنانچہ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم کے انکار اور ان پر آنے والے عذاب کا ذکر فرمایا۔ واللہ اعلم (نظم الدرر للبقاعی)
➌ {مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ: ” طِيْنٍ “} کی تنوین تحقیر کے لیے ہے اور {” سُلٰلَةٍ “} میں بھی قلت کا مفہوم موجود ہے، یعنی یہ انسان جسے تم چلتے پھرتے اور ہنستے مسکراتے دیکھتے ہو اس کی ابتدا حقیر مٹی کے تھوڑے سے خلاصے کے ساتھ ہوئی۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيْعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ وَ بَيْنَ ذٰلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ] [أبو داوٗد، السنۃ، باب في القدر: ۴۶۹۳] ”اللہ عزو جل نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا ہے، جسے اس نے تمام روئے زمین سے جمع فرمایا تھا۔ چنانچہ آدم کی اولاد اس مٹی کے لحاظ سے ہوئی ہے، کئی سرخ ہیں اور کئی سفید، کئی سیاہ ہیں اور کئی ان کے بین بین۔ کئی نرم خو ہیں اور کئی سخت طبیعت۔ کئی بری طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور کئی اچھی اور عمدہ طبیعت والے۔“ اس آیت میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے۔
➋ ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے والے مومنوں کے فردوس کے وارث ہونے کا ذکر فرمایا، تو ظاہر ہے کہ یہ قیامت کے دن ہی ہو گا، اس لیے قیامت اور موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا ذکر فرمایا، پھر کائنات میں اس سے بھی بڑی مخلوقات آسمان و زمین اور ان میں موجود نعمتوں کا ذکر دلیل کے طور پر فرمایا کہ جس نے یہ سب کچھ پہلی دفعہ پیدا کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ پھر اللہ کی توحید اور دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کے منکروں کے انجام بد سے ڈرایا، چنانچہ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم کے انکار اور ان پر آنے والے عذاب کا ذکر فرمایا۔ واللہ اعلم (نظم الدرر للبقاعی)
➌ {مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ: ” طِيْنٍ “} کی تنوین تحقیر کے لیے ہے اور {” سُلٰلَةٍ “} میں بھی قلت کا مفہوم موجود ہے، یعنی یہ انسان جسے تم چلتے پھرتے اور ہنستے مسکراتے دیکھتے ہو اس کی ابتدا حقیر مٹی کے تھوڑے سے خلاصے کے ساتھ ہوئی۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيْعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ وَ بَيْنَ ذٰلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ] [أبو داوٗد، السنۃ، باب في القدر: ۴۶۹۳] ”اللہ عزو جل نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا ہے، جسے اس نے تمام روئے زمین سے جمع فرمایا تھا۔ چنانچہ آدم کی اولاد اس مٹی کے لحاظ سے ہوئی ہے، کئی سرخ ہیں اور کئی سفید، کئی سیاہ ہیں اور کئی ان کے بین بین۔ کئی نرم خو ہیں اور کئی سخت طبیعت۔ کئی بری طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور کئی اچھی اور عمدہ طبیعت والے۔“ اس آیت میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12-1مٹی سے پیدا کرنے کا مطلب، ابو البشر حضرت آدم ؑ کی مٹی سے پیدائش ہے یا انسان جو خوراک بھی کھاتا ہے وہ سب مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہیں، اس اعتبار سے اس نطفے کی اصل، جو خلقت انسانی کا باعث بنتا ہے، مٹی ہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست [11] سے پیدا کیا۔
[11] انسان کی پیدائش اور مٹی کے جوہر کا مفہوم:۔
﴿سلاَلَةٌ﴾ بمعنی خلاصہ، نچوڑ، ست، جوہر، کسی بھی چیز سے نکالا ہوا کارآمد حصہ (مفردات القرآن) اور انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ حضرت آدمؑ کا پتلا مٹی سے بنایا گیا۔ پہلے یہ خشک مٹی تھی۔ پھر اس میں پانی ملایا گیا تو یہ گارا بن گیا۔ پھر اس کا خمیر اٹھایا گیا جس میں بدبو پیدا ہو گئی۔ پھر اسے گوندھ کر اس کا چپک دار اور لیس دار حصہ لیا گیا اور اسے خشک کر لیا گیا۔ پھر اسے حرارت پہنچائی گئی حتیٰ کہ وہ ٹن کی طرح بجنے لگا۔ جبکہ مٹی کے برتن اور ان کی مختلف شکلیں بنائیں اور آگ میں پکائی جاتی ہیں۔ اور ان میں مٹی کا صرف چپک دار اور کار آمد حصہ ہی استعمال ہوتا ہے۔ اسی مٹی سے آدمؑ کا پتلا تیار ہوا جس میں اللہ نے اپنی روح سے پھونکا تو جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا۔ پھر آئندہ آدم کی نسل توالد و تناسل اور نطفہ سے چلی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے نطفہ بذات خود انسان کے جسم میں انھیں غذاؤں سے بنتا ہے جو زمین سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے نطفہ بھی بالآخر زمین ہی کا جوہر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انسان کی پیدائش مرحلہ وار ٭٭
اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتداء بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر آدم علیہ السلام کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ» [30-الروم: 20] اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کر کے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ [مسند احمد:400/4:صحیح]
«ثم جعلنہ» ۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے «ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ» [32- السجدة: 8]۔ اور آیت میں ہے «أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ» [77- المرسلات: 22-20]۔ پس انسان کے لیے ایک مدت معین تک اس کی ماں کا رحم ہی ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پھر نطفے کی جو ایک اچھلنے والا پانی ہے جو مرد کی پیٹ سے عورت کے سینے سے نکلتا ہے شکل بدل کر سرخ رنگ کی بوٹی کی شکل میں بدل جاتا ہے پھر اسے گوشت کے ایک ٹکڑے کی صورت میں بدل دیا جاتا ہے جس میں کوئی شکل اور کوئی خط نہیں ہوتا۔ پھر ان میں ہڈیاں بنادیں سر ہاتھ پاؤں ہڈی رگ پٹھے وغیرہ بنائے اور پیٹھ کی ہڈی بنائی۔
«ثم جعلنہ» ۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے «ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ» [32- السجدة: 8]۔ اور آیت میں ہے «أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ» [77- المرسلات: 22-20]۔ پس انسان کے لیے ایک مدت معین تک اس کی ماں کا رحم ہی ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پھر نطفے کی جو ایک اچھلنے والا پانی ہے جو مرد کی پیٹ سے عورت کے سینے سے نکلتا ہے شکل بدل کر سرخ رنگ کی بوٹی کی شکل میں بدل جاتا ہے پھر اسے گوشت کے ایک ٹکڑے کی صورت میں بدل دیا جاتا ہے جس میں کوئی شکل اور کوئی خط نہیں ہوتا۔ پھر ان میں ہڈیاں بنادیں سر ہاتھ پاؤں ہڈی رگ پٹھے وغیرہ بنائے اور پیٹھ کی ہڈی بنائی۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترکیب دی جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:4814] پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے اور ایک جاندار انسان بن جائے۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے۔ وہ بابرکت اللہ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہنیے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑپن آتا ہے پھر بوڑھا ہو جاتا ہے پھر بالکل ہی بڈھا ہو جاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہو جاتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صادق ومصدوق نبی کریم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الٰہی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی، اجل، عمل، اور نیک یا بد، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آ جاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہو جاتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے باتیں بیان کر رہے تھے کہ ایک یہودی آ گیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آ کر بیٹھ کر پوچھتا ہے کہ بتاؤ انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے۔[مسند احمد:465/1:ضعیف و منقطع]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب نطفے کو رحم میں چالیس دن گزر جاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ یہ نیک ہو گا یا بد؟ مرد ہو گا یا عورت؟ جو جواب ملتا ہے وہ لکھ لیتا ہے اور عمل، عمر، اور نرمی گرمی سب کچھ لکھ لیتا ہے پھر دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اس میں پھر کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں رہتی۔[صحیح مسلم:2644]
حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے جو عرض کرتا ہے اے اللہ اب نطفہ ہے، اے اللہ اب لوتھڑا ہے، اے اللہ اب گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب جناب باری تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پوچھتا ہے اے اللہ مرد ہو یا عورت، شکی ہو یا سعید؟ رزق کیا ہے؟ اجل کیا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔[صحیح بخاری:6595]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب نطفے کو رحم میں چالیس دن گزر جاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ یہ نیک ہو گا یا بد؟ مرد ہو گا یا عورت؟ جو جواب ملتا ہے وہ لکھ لیتا ہے اور عمل، عمر، اور نرمی گرمی سب کچھ لکھ لیتا ہے پھر دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اس میں پھر کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں رہتی۔[صحیح مسلم:2644]
حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے جو عرض کرتا ہے اے اللہ اب نطفہ ہے، اے اللہ اب لوتھڑا ہے، اے اللہ اب گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب جناب باری تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پوچھتا ہے اے اللہ مرد ہو یا عورت، شکی ہو یا سعید؟ رزق کیا ہے؟ اجل کیا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔[صحیح بخاری:6595]
ان سب باتوں اور اتنی کامل قدرتوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ سب سے اچھی پیدائش کرنے والا اللہ برکتوں والا ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنے رب کی موافقت چار باتوں میں کی ہے جب یہ آیت اتری کہ ہم نے انسان کو بجتی مٹی سے پیدا کیا ہے تو بےساختہ میری زبان سے فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ نکلا اور وہی پھر اترا۔ [مسند طیالسی،41:ضعیف]
سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی آیتیں لکھوا رہے تھے اور «ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ» تک لکھوا چکے تو معاذ رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ کہا «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [23- المؤمنون: 14] اسے سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے تو معاذ رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیسے ہنسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آیت کے خاتمے پر بھی یہی ہے۔ [طبرانی اوسط:11187:ضعیف] اس حدیث کی سند کا ایک راوی جابر جعفی ہے جو بہت ہی ضعیف ہے اور یہ روایت بالکل منکر ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کاتب وحی مدینے میں تھے نہ کہ مکے میں معاذ رضی اللہ عنہما کے اسلام کا واقعہ بھی مدینے کا واقعہ ہے اور یہ آیت مکے میں نازل ہوئی ہے پس مندرجہ بالا روایت بالکل منکر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس پہلی پیدائش کے بعد تم مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن دوسری دفعہ پیدا کئے جاؤ گے، پھر حساب کتاب ہو گا خیر و شر کا بدلہ ملے گا۔
سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی آیتیں لکھوا رہے تھے اور «ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ» تک لکھوا چکے تو معاذ رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ کہا «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [23- المؤمنون: 14] اسے سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے تو معاذ رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیسے ہنسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آیت کے خاتمے پر بھی یہی ہے۔ [طبرانی اوسط:11187:ضعیف] اس حدیث کی سند کا ایک راوی جابر جعفی ہے جو بہت ہی ضعیف ہے اور یہ روایت بالکل منکر ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کاتب وحی مدینے میں تھے نہ کہ مکے میں معاذ رضی اللہ عنہما کے اسلام کا واقعہ بھی مدینے کا واقعہ ہے اور یہ آیت مکے میں نازل ہوئی ہے پس مندرجہ بالا روایت بالکل منکر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس پہلی پیدائش کے بعد تم مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن دوسری دفعہ پیدا کئے جاؤ گے، پھر حساب کتاب ہو گا خیر و شر کا بدلہ ملے گا۔