(آیت 115){ اَفَحَسِبْتُمْاَنَّمَاخَلَقْنٰكُمْعَبَثًا …:} یعنی پھر کیا تم نے سمجھ رکھا تھا کہ ہم اس دنیا میں عیش کرنے اور مزے لوٹنے ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ (دیکھیے قیامہ: ۳۶) تم نے دیکھا کہ اس دنیا میں نہ ظالموں کو ان کے ظلم کا پورا بدلا ملتا ہے، نہ اپنے خیال میں نیک اعمال کرنے والوں کو ان کی نیکی کا بدلا ملتا ہے اور نہ کوئی انسان دوبارہ زندہ ہو کر آیا جو تمھیں بتاتا کہ اچھے اعمال والوں کو ان کی جزا اور ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ملی ہے۔ لہٰذا تم نے یقین کر لیا کہ یہی دنیا ہی دنیا ہے، جس قدر ہو سکے یہاں عیش و عشرت کا سامان جمع کر لو۔ اس کے سوا زندگی کا کوئی مقصد نہیں، نہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے، نہ کسی کے سامنے پیش ہونا ہے، حالانکہ اگر تم اس کائنات کے نظامِ عدل میں ذرا بھی غور کرتے، یا رسول کی بات پر یقین کرتے تو تمھیں معلوم ہو جاتا کہ اس کائنات اور اس میں انسان کو محض کھیل تماشے کے طور پر اور بے مقصد نہیں بنایا گیا، بلکہ ہر کام کا ایک نتیجہ ہے، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمھارے اچھے اور برے اعمال کا کوئی نتیجہ نہ نکلے اور چونکہ دنیا کی زندگی اعمال کا نتیجہ بھگتنے کے لیے بہت تھوڑی ہے، اس لیے مرنے کے بعد ہم نے ہمیشہ کی زندگی رکھی ہے، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
115۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار ہی پیدا کر دیا اور تم ہمارے ہاں [107] لوٹ کر نہ آؤ گے؟“
[107] اعمال کے نتائج بھگتنے کے لیے ایک طویل مدت (آخرت) کی ضرورت:۔
یعنی تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم اس دنیا میں عیش و آرام کرنے اور مزے لوٹنے کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ اسی دنیا میں نہ ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ملتا ہے نہ اپنے خیال کے مطابق نیک اعمال کرنے والوں کو ان کی نیکی کا بدلہ ملتا ہے اور نہ ہی کوئی انسان دوبارہ زندہ ہو کر واپس آیا ہے۔ جو یہ خبر دے کہ ظالموں کو اس کے ظلم کی سزا ملی ہے۔ لہٰذا تم نے یقین کر لیا کہ یہی دنیا ہی دنیا ہے جیسے ہی بن پڑے یہاں عیش و عشرت کا سامان اکٹھا کر لو حالانکہ اگر تم اس کائنات کے نظام عدل میں ذرا بھی غور کرتے تو تمہیں معلوم ہو جاتا کہ یہ کائنات اور اس میں انسان کو محض ایک کھیل تماشہ کے طور پر نہیں بنایا گیا لیکن ہر سبب ایک نتیجہ پیدا کر رہا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ تمہارے اچھے اور برے اعمال کا کوئی نتیجہ مرتب نہ ہو۔ اور چونکہ دنیا کی زندگی اعمال کے نتیجہ بھگتنے کے لحاظ سے بہت قلیل ہے۔ لہٰذا مرنے کے بعد اب طویل زندگی کا قیام ضروری ہوا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیا جا سکیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔