ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 7

وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ لَّا رَیۡبَ فِیۡہَا ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ یَبۡعَثُ مَنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۷﴾
اور (اس لیے) کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور (اس لیے) کہ اللہ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ En
اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں۔ اور یہ کہ خدا سب لوگوں کو جو قبروں میں ہیں جلا اٹھائے گا
En
اور یہ کہ قیامت قطعاً آنے والی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوباره زنده فرمائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 6 میں تا آیت 8 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور قیامت یقیناً آنے والی ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ضرور ان لوگوں کو زندہ [7] کر کے اٹھائے گا جو قبروں میں پڑے ہیں۔
[7] ان آیات میں چند در چند حقائق بیان ہوئے ہیں جو یہ ہیں:
(1) اللہ تعالیٰ کی ہستی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ وہ علیم و خبیر ہستی ہے۔ کائنات میں جملہ تصرفات اسی کی حکمت اور قدرت کے تحت واقع ہو رہے ہیں۔
(2) وہ مردہ اشیاء سے زندہ اشیا کو پیدا کر سکتا ہے۔ پھر زندہ اشیاء کو مردہ اشیاء میں تبدیل کرتا ہے اور پھر انھیں زندگی بخش سکتا ہے مثلاً انسان کو اس نے ایک مشت خاک سے پیدا کیا ہے۔ پھر انسان کا نطفہ بھی بے جان اشیاء سے بنتا ہے۔ جس میں زندگی پیدا ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں انسان کا جسم اور اس کی غذائیں جن مادوں سے مرکب ہیں وہ سب بے جان مادے ہیں۔ مثلاً انسانی جسم اور اس کی غذائیں سب کچھ نمکیات لوہا، چونا، کوئلہ اور چند گیسوں سے مرکب ہے۔ انھیں ہی ترکیب دے کر اللہ نے جیتے جاگتے انسان پیدا کر دیئے۔ پھر مرنے کے بعد یہی انسانی جسم مٹی میں تحلیل ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ انھیں بے جان مادوں سے انسان کو نئے سرے سے پیدا کر دے۔
(3)
صفات الٰہی سے اخروی زندگی پر دلائل:۔
تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اگر اسے اسی قدرت حاصل نہ ہو گی تو وہ ہرگز ایسے کام نہیں کر سکتا تھا۔ پھر ان کاموں میں اس کی حکمت کو بھی خاصا دخل ہے۔ مثلاً اس نے اگر نطفہ کے جراثیم میں انسان بننے کی استعداد رکھی ہے تو اس کے ساتھ ہی ساتھ پیدا ہونے والے بچہ میں اپنے والدین کی شکل، عقل اور قوت جسمانی کا بھی عکس موجود ہوتا ہے۔ اور ان باتوں میں نومولود کی اپنے والدین سے کافی حد تک مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔ گویا مادہ کے علاوہ والدین کی پوشیدہ قوتیں بھی جنس میں منتقل ہو جاتی ہیں اور ان کا ظہور بچہ کے بالغ ہونے پر ہوتا ہے۔
(4) اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کائنات میں بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت ارادہ و اختیار اور قوت تمیز و عقل اس لئے عطا کی ہے کہ آیا وہ اس کائنات میں اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہتا ہے یا نافرمان اور باغی بن کر زندگی گزارتا ہے۔ انسان کی اپنی یہ حالت ہے کہ جب وہ کسی کو کوئی ذمہ داری سونپتا ہے یا اجرت پر کوئی مزدور یا غلام رکھتا ہے تو اس کا محاسبہ بھی کرتا ہے لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کا بھی محاسبہ کرے کہ کون شخص اس کا حکم بجا لاتا ہے اور کون اس کی حکم عدولی کرتا ہے۔ اسی محاسبہ کے لئے اخروی زندگی کا قیام ضروری ہے اور یہی عقل و حکمت اور عدل کا تقاضا ہے اور دنیا کی مختصر سی زندگی چونکہ اعمال کی جزا و سزا کے لئے بالکل ناکافی ہے۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی قیامت اور روز جزا کا قیام ضروری ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔