ذٰلِکَ ۚ وَ مَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیۡہِ لَیَنۡصُرَنَّہُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۶۰﴾
یہ اور جو شخص اس کی مثل بدلہ لے جو اسے تکلیف دی گئی، پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور ہی اس کی مدد کرے گا، یقینا اللہ ضرور نہایت درگزر کرنے والا، بے حد بخشنے والا ہے۔
En
یہ (بات خدا کے ہاں ٹھہر چکی ہے) اور جو شخص (کسی کو) اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو خدا اس کی مدد کرے گا۔ بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے
En
بات یہی ہے، اور جس نے بدلہ لیا اسی کے برابر جو اس کے ساتھ کیا گیا تھا پھر اگر اس سے زیادتی کی جائے تو یقیناً اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد فرمائے گا۔ بیشک اللہ درگزر کرنے واﻻ بخشنے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 60) ➊ {ذٰلِكَ وَ مَنْ عَاقَبَ …: ” ذٰلِكَ “} کا لفظ دو کلاموں کے درمیان فاصلے کے لیے ہوتا ہے، یعنی یہ تو ہوا، اب اگلی بات سنو کہ جو شخص اتنا ہی بدلہ لے جتنی اسے ایذا دی گئی ہے، پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ اس کی ضرور ہی مدد کرے گا۔ اس میں جہاد کی ترغیب ہے اور {” اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا “} اور {” وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ “} کا مضمون دہرایا گیا ہے۔ عطف اس کا {” وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …“} پر ہے، جس میں ان مظلوموں کا ذکر تھا جو بدلہ نہیں لے سکے، اب ان مظلوموں کا ذکر ہے جو ظالموں کے مقابلے میں قوت استعمال کریں۔ انھیں تاکید ہے کہ وہ اتنا ہی بدلہ لیں جتنی ان پر زیادتی ہوئی ہے، اگر اتنا بدلہ لینے کے بعد پھر ان پر زیادتی کی جائے تو اللہ تعالیٰ ان کی ضرور ہی مدد کرے گا۔ مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو بے شمار ایذائیں دیں، انھیں دین سے مرتد کرنے کے لیے مسلسل عذاب سے دو چار رکھا، جو قتل سے بھی بڑھ کر تکلیف دہ تھا۔ انھیں ان کے گھروں سے نکالا، اس کے بعد بھی لڑائی کے لیے چڑھ کر آتے رہے۔ ان کی ایذا کے برابر بدلے کے لیے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (190) وَ اقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ۠ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِيْنَ» [البقرۃ: ۱۹۰، ۱۹۱] ”اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی مت کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور انھیں وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تمھیں نکالا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو، یہاں تک کہ وہ اس میں تم سے لڑیں، پھر اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو، ایسے ہی کافروں کی جزا ہے۔“ اسی طرح حکم دیا: «وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَاۤ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ (12) اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ اَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [التوبۃ: ۱۲، ۱۳] ”اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمھارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ بے شک یہ لوگ، ان کی کوئی قسمیں نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔ کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی؟کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔“
➋ { اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ:} یہاں ان صفات کے تذکرے کا مطلب یہ نہیں کہ کفار کو معاف کر دو، کیونکہ ان کے متعلق تو حکم ہے: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ» [التوبۃ: ۱۴] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔“ عفو و درگزر مسلمانوں کے باہمی معاملات میں ہے، کفار کے ساتھ نہیں، فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ» [الفتح: ۲۹] ”اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں، کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“ یہاں ان صفات کی مناسبت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اتنا ہی بدلہ لینے کا جو حکم دیا ہے کہ جتنی ایذا دی جائے، یہ اس کے عفو و مغفرت کی وجہ سے ہے کہ اس نے کفار پر بھی حد سے بڑھ کر زیادتی کی اجازت نہیں دی، جس سے وہ مظلوم ٹھہریں، کیونکہ مظلوم کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لے رکھا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ] [بخاري، المظالم، باب الاتقاء و الحذر من دعوۃ المظلوم: ۲۴۴۸، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما] ”مظلوم کی بددعا سے بچ، کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔“ دوسری مناسبت یہ ہے کہ بدلہ لینے میں سو فیصد برابری تو انسان کے بس ہی میں نہیں، اس لیے فرمایا کہ کچھ کمی بیشی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
➋ { اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ:} یہاں ان صفات کے تذکرے کا مطلب یہ نہیں کہ کفار کو معاف کر دو، کیونکہ ان کے متعلق تو حکم ہے: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ» [التوبۃ: ۱۴] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔“ عفو و درگزر مسلمانوں کے باہمی معاملات میں ہے، کفار کے ساتھ نہیں، فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ» [الفتح: ۲۹] ”اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں، کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“ یہاں ان صفات کی مناسبت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اتنا ہی بدلہ لینے کا جو حکم دیا ہے کہ جتنی ایذا دی جائے، یہ اس کے عفو و مغفرت کی وجہ سے ہے کہ اس نے کفار پر بھی حد سے بڑھ کر زیادتی کی اجازت نہیں دی، جس سے وہ مظلوم ٹھہریں، کیونکہ مظلوم کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لے رکھا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ] [بخاري، المظالم، باب الاتقاء و الحذر من دعوۃ المظلوم: ۲۴۴۸، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما] ”مظلوم کی بددعا سے بچ، کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔“ دوسری مناسبت یہ ہے کہ بدلہ لینے میں سو فیصد برابری تو انسان کے بس ہی میں نہیں، اس لیے فرمایا کہ کچھ کمی بیشی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
60۔ 1 یعنی یہ کہ مہاجرین بطور خاص شہادت یا طبعی موت پر ہم نے جو وعدہ کیا ہے، وہ ضرور پورا ہوگا۔ 60۔ 2 کسی نے اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے تو جس سے زیادتی کی گئی ہے، اسے بقدر زیادتی بدلہ لینے کا حق ہے۔ لیکن اگر بدلہ لینے کے بعد، جب کہ ظالم اور مظلوم دونوں برابر سربرا ہوچکے ہوں، ظالم، مظلوم پھر زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ اس مظلوم کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ یعنی یہ شبہ نہ ہو کہ مظلوم نے معاف کردینے کی بجائے بدلہ لے کر غلط کام کیا ہے، نہیں، بلکہ اس کی بھی اجازت اللہ ہی نے دی ہے، اس لئے آئندہ بھی اللہ کی مدد کا مستحق رہے گا۔ 60۔ 3 اس میں پھر معاف کردینے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اللہ درگزر کرنے والا ہے۔ تم بھی درگزر سے کام لو۔ ایک دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ بدلہ لینے میں۔ جو بقدر ظلم ظالم ہوگا۔ جتنا ظلم کیا جائے گا، اس کی اجازت چونکہ اللہ کی طرف سے ہے، اس لئے اس پر مؤاخذہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ معاف ہے۔ بلکہ اسے ظلم اور سیئہ بطور مشاکلت کے کہا جاتا ہے، ورنہ انتقام یا بدلہ سرے سے ظلم یا سیئہ ہی نہیں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
60۔ یہ (تو ان لوگوں کا معاملہ ہے) اور جو شخص اتنا ہی بدلہ لے جتنی اس پر سختی ہوئی تھی۔ پھر (از سر نو) اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور اس کی مدد [88] کرے گا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا [89] اور درگزر کرنے والا ہے۔
[88] مظلوم کی آہ سے بچنے کا حکم خواہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتا ہو:۔
پچھلی دو آیات میں ان مہاجر مسلمانوں کا ذکر تھا۔ جو کفار کے ظلم و تشدد سے مجبور ہو کر گھر بار چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے اور وہ ظلم کا بدلہ لے ہی نہ سکتے تھے۔ اب ان لوگوں کا ذکر ہے۔ جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوں۔ انھیں یہ ہدایت کی جا رہی ہے کہ اگر وہ بدلہ لینا چاہیں تو اتنا ہی بدلہ لیں جس قدر ان پر زیادتی ہوئی ہے۔ اور اگر بدلہ لینے میں زیادتی کریں گے تو یہ خود ظالم ٹھہریں گے اس صورت میں اللہ ان کی مدد کرے گا۔ جو مظلوم ہیں۔ کیونکہ اللہ ہمیشہ مظلوم کی مدد کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو جہاں اور بہت سی نصیحتیں ارشاد فرمائیں وہاں سب سے آخر میں اور بطور خاص جو نصیحت فرمائی وہ یہ تھی۔
«وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّهُ لَيْسَ بَيْنهَا وَبَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ» [مسلم۔ كتاب الايمان۔ باب الدعاء الي الشهادتين و شرائع الاسلام]
یعنی مظلوم کی بددعا سے بچے رہنا کیونکہ مظلوم کی پکار اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ اسی مضمون کو شیخ سعدی رحمہ اللہ نے بڑے خوبصورت انداز میں یوں بیان کیا ہے۔
بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن اجابت از در حق بہر استقبال می آید
یعنی مظلوموں کی آہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اس آہ کی قبولیت خود اسے لینے کو آگے آتی ہے۔
«وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّهُ لَيْسَ بَيْنهَا وَبَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ» [مسلم۔ كتاب الايمان۔ باب الدعاء الي الشهادتين و شرائع الاسلام]
یعنی مظلوم کی بددعا سے بچے رہنا کیونکہ مظلوم کی پکار اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ اسی مضمون کو شیخ سعدی رحمہ اللہ نے بڑے خوبصورت انداز میں یوں بیان کیا ہے۔
بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن اجابت از در حق بہر استقبال می آید
یعنی مظلوموں کی آہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اس آہ کی قبولیت خود اسے لینے کو آگے آتی ہے۔
[89] زیادتی کے برابر بدلہ لینے کا جواز یا رخصت:۔
اس آیت میں صرف زیادتی کے برابر بدلہ لینے کی اجازت دی گئی ہے اور اگر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے تو اللہ اس بات کو قطعاً پسند نہیں کرتا اور اسے ظلم شمار کیا جائے گا۔ اس اجازت کے باوجود اگر بدلہ نہ لیا جائے تو یہی بات اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ کیونکہ وہ خود بھی معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے ذاتی اور معاشرتی معاملات میں عفو و درگزر کی عادت کو اپنائیں اور ہر وقت بدلہ لینے کے درپے نہ ہوا کریں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔