لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَاۤ اِلَی الۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ ﴿٪۳۳﴾
تمھارے لیے ان میں ایک مقرر وقت تک کئی فائدے ہیں، پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ اس قدیم گھر کی طرف ہے۔
En
ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) تک پہنچانا (اور ذبح ہونا) ہے
En
ان میں تمہارے لئے ایک مقرر وقت تک فائده ہے پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ خانہ کعبہ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 33) ➊ {لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} فائدوں سے مراد ان کی سواری کرنا، ان کا دودھ پینا، ان سے نسل اور اون حاصل کرنا ہے، اسی طرح ان کے گوبر وغیرہ کو ایندھن یا کھاد کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ مشرکین جس طرح قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اسی طرح قربانی کے جانوروں سے اون، دودھ یا سواری وغیرہ کا فائدہ اٹھانا بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں سے اس وقت تک فائدہ اٹھانا جائز ہے جب تک انھیں قربانی کے لیے نامزد نہ کیا جائے، اس کے بعد سواری یا دودھ یا اون کا فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ”شعائر الله“ سے فائدہ اٹھانا بطور احسان ذکر فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ قربانی کے لیے نامزد ہونے کے بعد ہی جانور ”شعائر اللہ“ میں شامل ہوتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی رَجُلاً يَسُوْقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ] [بخاري، الحج، باب رکوب البدن: ۱۶۸۹۔ مسلم،: ۱۳۲۳] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک بدنہ (قربانی کے لیے مکہ جانے والا اونٹ) ہانک کر لے جاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: ”یہ بدنہ ہے۔“ فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: ”یہ بدنہ ہے۔“ فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ، افسوس ہو تم پر۔“ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِرْكَبْهَا بِالْمَعْرُوْفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتّٰی تَجِدَ ظَهْرًا] [مسلم، الحج، باب جواز رکوب البدنۃ …: ۱۳۲۴] ”اس پر اس طرح سوار ہو جاؤ کہ اسے تکلیف نہ دو، جب تمھیں اس کی ضرورت پڑ جائے، یہاں تک کہ تمھیں کوئی اور سواری مل جائے۔“
ابن کثیر نے شعبہ عن زہیر بن ابی ثابت الاعمی عن مغیرہ بن حذف کی سند سے علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو بدنہ ہانک کر لے جاتے ہوئے دیکھا، جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، فرمایا: ”اس کا دودھ صرف اتنا پیو جو اس کے بچے سے زائد ہو اور جب یوم النحرہو تو اسے اور اس کے بچے کو ذبح کر دو۔“ یہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، مجھے مغیرہ بن حذف کے حالات نہیں ملے اور متن میں بچے کو ذبح کرنے کی بات غریب (انوکھی) ہے۔
➋ {ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ: ” مَحِلُّهَاۤ “} اترنے کی جگہ۔ حلال ہونے کی جگہ سے مراد یہ ہے کہ جہاں آخر قربانی کے جانوروں کو پہنچنا ہے اور نحر یا ذبح ہونا ہے وہ بیت عتیق (کعبہ) ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ هَدْيًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ }» [المائدۃ: ۹۵] یعنی قربانی کا ایسا جانور جو کعبہ تک پہنچنے والا ہو۔ ان دونوں آیتوں میں کعبہ سے مراد حرم کعبہ ہے، کیونکہ عین کعبہ میں تو قربانی نہیں کی جاتی، قربانی تو اس کے باہر کی جاتی ہے، چنانچہ پورے مکہ یا منیٰ میں جہاں بھی قربانی کی جائے درست ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيْقٌ وَ مَنْحَرٌ] [أبوداوٗد، المناسک، باب الصلاۃ بجمع: ۱۹۳۷] ”عرفہ پورا وقوف کی جگہ ہے، منیٰ پورا نحر کی جگہ ہے اور مزدلفہ پورا وقوف کی جگہ ہے اور مکہ کی تمام سڑکیں راستہ ہیں اور نحر کی جگہ ہیں۔ “ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ {” مَحِلُّهَاۤ “ } میں {”هَا“ } ضمیر سے مراد سارے شعائر ہوں، تو مطلب یہ ہو گا کہ آخر ان تمام مناسک کا خاتمہ بیت اللہ کے طواف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ معنی زیادہ مناسب ہے، ورنہ خصوصیت کے ساتھ ”بیت عتیق“ کہنے کا فائدہ واضح نہیں رہے گا۔ (قرطبی)
ابن کثیر نے شعبہ عن زہیر بن ابی ثابت الاعمی عن مغیرہ بن حذف کی سند سے علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو بدنہ ہانک کر لے جاتے ہوئے دیکھا، جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، فرمایا: ”اس کا دودھ صرف اتنا پیو جو اس کے بچے سے زائد ہو اور جب یوم النحرہو تو اسے اور اس کے بچے کو ذبح کر دو۔“ یہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، مجھے مغیرہ بن حذف کے حالات نہیں ملے اور متن میں بچے کو ذبح کرنے کی بات غریب (انوکھی) ہے۔
➋ {ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ: ” مَحِلُّهَاۤ “} اترنے کی جگہ۔ حلال ہونے کی جگہ سے مراد یہ ہے کہ جہاں آخر قربانی کے جانوروں کو پہنچنا ہے اور نحر یا ذبح ہونا ہے وہ بیت عتیق (کعبہ) ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ هَدْيًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ }» [المائدۃ: ۹۵] یعنی قربانی کا ایسا جانور جو کعبہ تک پہنچنے والا ہو۔ ان دونوں آیتوں میں کعبہ سے مراد حرم کعبہ ہے، کیونکہ عین کعبہ میں تو قربانی نہیں کی جاتی، قربانی تو اس کے باہر کی جاتی ہے، چنانچہ پورے مکہ یا منیٰ میں جہاں بھی قربانی کی جائے درست ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيْقٌ وَ مَنْحَرٌ] [أبوداوٗد، المناسک، باب الصلاۃ بجمع: ۱۹۳۷] ”عرفہ پورا وقوف کی جگہ ہے، منیٰ پورا نحر کی جگہ ہے اور مزدلفہ پورا وقوف کی جگہ ہے اور مکہ کی تمام سڑکیں راستہ ہیں اور نحر کی جگہ ہیں۔ “ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ {” مَحِلُّهَاۤ “ } میں {”هَا“ } ضمیر سے مراد سارے شعائر ہوں، تو مطلب یہ ہو گا کہ آخر ان تمام مناسک کا خاتمہ بیت اللہ کے طواف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ معنی زیادہ مناسب ہے، ورنہ خصوصیت کے ساتھ ”بیت عتیق“ کہنے کا فائدہ واضح نہیں رہے گا۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
33۔ 1 وہ فائدہ، سواری، دودھ، مذید نسل اور اون وغیرہ کا حصول ہے۔ وقت مقرر مراد (ذبح کرنا) ہے یعنی ذبح نہ ہونے تک تمہیں ان سے مذکورہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور سے، جب تک وہ ذبح نہ ہوجائے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ صحیح حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ایک آدمی ایک قربانی کا جانور اپنے ساتھ ہانکے لے جا رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اس پر سوار ہوجا، اس نے کہا یہ حج کی قربانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس پر سوار ہوجا۔ (صحیح بخاری) 33۔ 2 حلال ہونے سے مراد جہاں ان کا ذبح کرنا حلال ہوتا ہے۔ یعنی یہ جانور، مناسک حج کی ادائیگی کے بعد، بیت اللہ اور حرم مکی میں پہنچتے ہیں اور وہاں اللہ کے نام پر ذبح کر دئیے جاتے ہیں، پس مذکورہ فوائد کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے ہی حرم کے لئے قربانی دی جاتی ہے، تو حرم میں پہنچتے ہی ذبح کردیئے جاتے ہیں اور فقراء مکہ میں ان کا گوشت تقسیم کردیا جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ تمہیں ان (قربانی کے جانوروں) سے ایک مقررہ [51] وقت تک فائدہ اٹھانے کا حق ہے پھر ان (کے ذبح کرنے) کی جگہ اسی قدیمی گھر (بیت اللہ) کے پاس ہے۔
[51] قربانی کے جانور سے فائدہ اٹھانا:۔
یہ مقر رہ وقت وہ وقت ہے جب قربانی کا جانور حرم کی حدود میں یا مذبح میں پہنچ جائے۔ اس سے ان قربانی کے جانوروں سے یہی کئی طرح کے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔ مثلاً بوقت ضرورت ان پر سوار ہونا، ان کا دودھ دوہنا، ان کی اون حاصل کرنا ان سے نسل چلانا وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر 29 کے تحت درج شدہ حدیث نمبر 17 سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ہانکنے والے ایک شخص کو اس پر سوار ہو جانے کا تاکید سے حکم دیا تھا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کے جانوروں سے فائدہ حاصل کرنا تعظیم کے منافی نہیں بلکہ تعظیم کا تعلق دل سے ہے۔ دل میں ان اشیاء کی محبت اور قدر ضرور ہونی چاہئے۔ نیز قربانی کے جانوروں سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرنا مشرکوں کا کام تھا کہ جس جانور کو کسی بت کے نام منسوب کرتے تو اس سے کچھ فائدہ حاصل کرنے کو گناہ سمجھتے تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی۔ بعض مفسرین نے مقر رہ وقت سے مراد یہ لی ہے کہ جب تک جانور کو اللہ کے نام منسوب نہ کر دیا جائے یا ہَدی نہ بنا دیا جائے۔ یہ مراد اس لئے درست نہیں کہ اللہ کے نام منسوب کرنے سے تو فوائد حاصل نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر اس آیت میں اجازت کس چیز کی دی جا رہی ہے نیز محولہ بالا حدیث بھی اس اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قربانی کے جانور اور حجاج ٭٭
اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ ’ احکام الٰہی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:9/10]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1861،] پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے اپنی قربانی میں ذبح کئے }۔ [صحیح بخاری:5565]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا بڑا سینگ والا چت کبرا ذبح کیا جس کے منہ پر آنکھوں کے پاس اور پیروں پر سیاہ رنگ تھا }۔ [سنن ابوداود:2796،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے صحیح کہتے ہیں۔
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے بہت موٹے تازے چکنے چتکبرے خصی ذبح کئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3122،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے لیے جانور خریدتے وقت اس کی آنکھوں کو اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا کریں۔ اور آگے سے کٹے ہوئے کان والے پیچھے سے کٹے ہوئے کان والے لمبائی میں چرے ہوئے کان والے یا سوراخ دار کان والے کی قربانی نہ کریں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] اسے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ صحیح کہتے ہیں۔
اسی طرح { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2805،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی شرح میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب کہ آدھا یا آدھے سے زیادہ کان یا سینگ نہ ہو۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں اگر اوپر سے کسی جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عربی میں «قصماً» کہتے اور جب نیچے کا حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے «عضب» کہتے۔ اور حدیث میں لفظ «عضب» ہے اور کان کا کچھ حصہ کٹ گیا ہو تو اسے بھی عربی میں «عضب» کہتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔ سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:9/10]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1861،] پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے چتکبرے بڑے بڑے سینگوں والے اپنی قربانی میں ذبح کئے }۔ [صحیح بخاری:5565]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا بڑا سینگ والا چت کبرا ذبح کیا جس کے منہ پر آنکھوں کے پاس اور پیروں پر سیاہ رنگ تھا }۔ [سنن ابوداود:2796،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے صحیح کہتے ہیں۔
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے بہت موٹے تازے چکنے چتکبرے خصی ذبح کئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3122،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے لیے جانور خریدتے وقت اس کی آنکھوں کو اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا کریں۔ اور آگے سے کٹے ہوئے کان والے پیچھے سے کٹے ہوئے کان والے لمبائی میں چرے ہوئے کان والے یا سوراخ دار کان والے کی قربانی نہ کریں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح] اسے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ صحیح کہتے ہیں۔
اسی طرح { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2805،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی شرح میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب کہ آدھا یا آدھے سے زیادہ کان یا سینگ نہ ہو۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں اگر اوپر سے کسی جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عربی میں «قصماً» کہتے اور جب نیچے کا حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے «عضب» کہتے۔ اور حدیث میں لفظ «عضب» ہے اور کان کا کچھ حصہ کٹ گیا ہو تو اسے بھی عربی میں «عضب» کہتے ہیں۔
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایسے جانور کی قربانی گو جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جائز ہی نہیں۔ (بظاہر یہی قول مطابق حدیث ہے) امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر سینگ سے خون جاری ہے تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ { چار قسم کے عیب دار جانور قربانی میں جائز نہیں کانا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور وہ بیمار جانور جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو اور وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور وہ دبلا پتلا مریل جانور جو گودے کے بغیر کا ہو گیا ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2802،قال الشيخ الألباني:صحیح] اسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں۔
یہ عیوب وہ ہیں جن سے جانور گھٹ جاتا ہے۔ اس کا گوشت ناقص ہو جاتا ہے اور بکریاں چرتی چگتی رہتی ہیں اور یہ بوجہ اپنی کمزوری کے چارہ پورہ نہیں پاتا اسی لیے اس حدیث کے مطابق امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اس کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں بیمار جانور کے بارے میں جس کی بیماری خطرناک درجے کی نہ ہو بہت کم ہو امام صاحب کے دونوں قول ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ { چار قسم کے عیب دار جانور قربانی میں جائز نہیں کانا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور وہ بیمار جانور جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو اور وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور وہ دبلا پتلا مریل جانور جو گودے کے بغیر کا ہو گیا ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2802،قال الشيخ الألباني:صحیح] اسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں۔
یہ عیوب وہ ہیں جن سے جانور گھٹ جاتا ہے۔ اس کا گوشت ناقص ہو جاتا ہے اور بکریاں چرتی چگتی رہتی ہیں اور یہ بوجہ اپنی کمزوری کے چارہ پورہ نہیں پاتا اسی لیے اس حدیث کے مطابق امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اس کی قربانی ناجائز ہے۔ ہاں بیمار جانور کے بارے میں جس کی بیماری خطرناک درجے کی نہ ہو بہت کم ہو امام صاحب کے دونوں قول ہیں۔
ابو داؤد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا بالکل سینگ کٹے جانور سینگ ٹوٹے جانور اور کانے جانور سے اور بالکل کمزور جانور سے جو ہمیشہ ہی ریوڑ کے پیچھے رہ جاتا ہو بوجہ کمزوری کے یا بوجہ زیادہ عمر کے اور لنگڑے جانور سے } ۱؎ [سنن ابوداود:2803،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پس ان کل عیوب والے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے۔
ہاں اگر قربانی کے لیے صحیح سالم بےعیب جانور مقرر کر دینے کے بعد اتفاقاً اس میں کوئی ایسی بات آ جائے مثلا لولا لنگڑا وغیرہ ہو جائے تو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس کے خلاف ہیں۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر ایک بھیڑیئے نے حملہ کیا اور اس کی ران کا بوٹا توڑ لیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اسی جانور کی قربانی کر سکتے ہو } }۔ ۱؎ [مسند احمد:32/3:ضعیف]
پس خریدتے وقت جانور کا فربہ ہونا تیار ہونا بےعیب ہونا چاہیئے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { آنکھ کان دیکھ لیا کرو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک نہایت عمدہ اونٹ قربانی کے لیے نامزد کیا لوگوں نے اس کی قیمت تین سو اشرفی لگائیں تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اسے بیچ دوں اور اس کی قیمت سے اور جانور بہت سے خرید لوں اور انہیں راہ للہ قربان کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ { اسی کوفی سبیل اللہ ذبح کرو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1756،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قربانی کے اونٹ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ محمد بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عرفات میں ٹھہرنا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سر منڈوانا اور قربانی کے اونٹ یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان سب سے بڑھ کر بیت اللہ شریف ہے۔
ہاں اگر قربانی کے لیے صحیح سالم بےعیب جانور مقرر کر دینے کے بعد اتفاقاً اس میں کوئی ایسی بات آ جائے مثلا لولا لنگڑا وغیرہ ہو جائے تو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس کے خلاف ہیں۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر ایک بھیڑیئے نے حملہ کیا اور اس کی ران کا بوٹا توڑ لیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اسی جانور کی قربانی کر سکتے ہو } }۔ ۱؎ [مسند احمد:32/3:ضعیف]
پس خریدتے وقت جانور کا فربہ ہونا تیار ہونا بےعیب ہونا چاہیئے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { آنکھ کان دیکھ لیا کرو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک نہایت عمدہ اونٹ قربانی کے لیے نامزد کیا لوگوں نے اس کی قیمت تین سو اشرفی لگائیں تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اسے بیچ دوں اور اس کی قیمت سے اور جانور بہت سے خرید لوں اور انہیں راہ للہ قربان کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ { اسی کوفی سبیل اللہ ذبح کرو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1756،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قربانی کے اونٹ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ محمد بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عرفات میں ٹھہرنا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سر منڈوانا اور قربانی کے اونٹ یہ سب شعائر اللہ ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان سب سے بڑھ کر بیت اللہ شریف ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ ان جانوروں کے بالوں میں، اون میں تمہارے لیے فوائد ہیں ان پر تم سوار ہوتے ہو ان کی کھالیں تمہارے لیے کار آمد ہیں۔ یہ سب ایک مقررہ وقت تک۔ یعنی جب تک اسے راہ للہ نامزد نہیں کیا۔ ان کا دودھ پیو ان سے نسلیں حاصل کرو جب قربانی کے لیے مقرر کر دیا پھر وہ اللہ کی چیز ہو گیا ‘۔
بزرگ کہتے ہیں اگر ضرورت ہو تو اب بھی سواری کی اجازت ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ایک شخص کو اپنی قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ }۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے قربانی کی نیت کا کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار فرمایا { افسوس بیٹھ کیوں نہیں جاتا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1690]
صحیح مسلم شریف میں ہے { جب ضرورت اور حاجت ہو تو سوار ہو جایا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1324]
ایک شخص کی قربانی کی اونٹنی نے بچہ دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ اس کو دودھ پیٹ بھر کر پی لینے دے پھر اگر بچ رہے تو خیر تو اپنے کام میں لا اور قربانی والے دن اسے اور اس بچے کو دونوں کو بنام اللہ ذبح کر دے۔
پھر فرماتا ہے ’ ان کی قربان گاہ بیت اللہ شریف ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «هَدْيًا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ» ۱؎ [5-المائدۃ:95] اور آیت میں «وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ» ۱؎ [48-الفتح:25] بیت العتیق کے معنی اس سے پہلے ابھی ابھی بیان ہو چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے والا احرام سے حلال ہو جاتا ہے۔ دلیل میں یہی آیت «لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» ۱؎ [22-الحج:33] تلاوت فرمائی۔
بزرگ کہتے ہیں اگر ضرورت ہو تو اب بھی سواری کی اجازت ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ایک شخص کو اپنی قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ }۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے قربانی کی نیت کا کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار فرمایا { افسوس بیٹھ کیوں نہیں جاتا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1690]
صحیح مسلم شریف میں ہے { جب ضرورت اور حاجت ہو تو سوار ہو جایا کرو }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1324]
ایک شخص کی قربانی کی اونٹنی نے بچہ دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ اس کو دودھ پیٹ بھر کر پی لینے دے پھر اگر بچ رہے تو خیر تو اپنے کام میں لا اور قربانی والے دن اسے اور اس بچے کو دونوں کو بنام اللہ ذبح کر دے۔
پھر فرماتا ہے ’ ان کی قربان گاہ بیت اللہ شریف ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «هَدْيًا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ» ۱؎ [5-المائدۃ:95] اور آیت میں «وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ» ۱؎ [48-الفتح:25] بیت العتیق کے معنی اس سے پہلے ابھی ابھی بیان ہو چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے والا احرام سے حلال ہو جاتا ہے۔ دلیل میں یہی آیت «لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» ۱؎ [22-الحج:33] تلاوت فرمائی۔