ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 28

لِّیَشۡہَدُوۡا مَنَافِعَ لَہُمۡ وَ یَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ۚ فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡبَآئِسَ الۡفَقِیۡرَ ﴿۫۲۸﴾
تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں اور چند معلوم دنوں میں ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں، سو ان میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ۔ En
تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لئے حاضر ہوں۔ اور (قربانی کے) ایام معلوم میں چہار پایاں مویشی (کے ذبح کے وقت) جو خدا نے ان کو دیئے ہیں ان پر خدا کا نام لیں۔ اس میں سے تم خود بھی کھاؤ اور فقیر درماندہ کو بھی کھلاؤ
En
اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقرره دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں اور چوپایوں پر جو پالتو ہیں۔ پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) ➊ {لِيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ:} یعنی لوگ پیدل اور سوار ہو کر حج کے لیے آئیں گے، تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں۔ حج کا اصل مقصد تو عبادت کے ذریعے سے دینی اور اخروی فوائد حاصل کرنا ہے، لیکن ضمناً اس میں بہت سے دنیوی اور ملی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ کے دینی و دنیوی فوائد دونوں ذکر فرمائے ہیں، چنانچہ فرمایا: [تَابِعُوْا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيْرُ خَبَثَ الْحَدِيْدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ] [ترمذي، الحج، باب ما جاء في ثواب الحج والعمرۃ: ۸۱۰، عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ] حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو، کیونکہ یہ فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ دینی فوائد میں بہت بڑا فائدہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْعُمْرَةُ إِلَی الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ] [بخاري، الحج، باب وجوب العمرۃ و فضلھا: ۱۷۷۳۔ مسلم: ۱۳۴۹] عمرہ سے لے کر عمرہ، دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔ گناہوں کی معافی بھی بہت بڑا نفع ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ] [بخاري، الحج، باب فضل الحج المبرور: ۱۵۲۱، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ۔ مسلم:1350] جو شخص حج کرے، نہ کوئی شہوانی فعل کرے اور نہ کوئی نافرمانی کرے تو واپس اس طرح (گناہوں سے پاک ہو کر) جائے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: [أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهٗ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهٗ] [مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ …:۱۲۱] کیا تمھیں یہ بات معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتی ہے اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے۔
حج کے فوائد میں سے سب سے بڑا فائدہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا جمع ہونا اور اس بات کا مظاہرہ ہے کہ ہم سب ایک امت ہیں، کالے، گورے، سرخ اور زرد کسی کو کسی پر رنگ یا زبان کی وجہ سے برتری حاصل نہیں، سب بھائی بھائی ہیں۔ اس موقع پر سب کا ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہونا اور مشکل میں گرفتار اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے سوچنا اور اس کا بندوبست کرنا ہے۔ ان فوائد میں سے ایک فائدہ اس موقع پر تجارت، صنعت، مزدوری وغیرہ کے ذریعے سے حلال روزی کمانا بھی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ [البقرۃ: ۱۹۸] تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا کوئی فضل تلاش کرو۔ یہ مسلمانوں کی بین الاقوامی مصنوعات اورپیداوار سے آگاہی اور تمام دنیا کی باہمی تجارت منظم کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسی طرح اس موقع پر دنیا بھر کے علماء سے ملاقات اور دین و دنیا کے علوم میں اضافہ بھی حج کے فوائد میں سے بہت بڑا فائدہ ہے۔ پھر اس سفر کے دوران دنیا کے مختلف علاقوں اور لوگوں کے حالات سے واقفیت بھی بہت بڑا علم ہے جو حج کی برکات میں سے عظیم برکت ہے۔ خلاصہ یہ کہ حج مسلمانوں کے بے شمار سیاسی، اقتصادی، معاشی اور تمدنی فوائد کا جامع ہے۔
➋ {وَ يَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْۤ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ …:} قرآن مجید کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ چوپاؤں پر اللہ تعالیٰ کا نام لینے سے مراد انھیں {بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ} پڑھ کر ذبح کرنا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۸ تا ۱۲۱) یہاں حج کا ایک مقصد یہ بیان فرمایا کہ حج کرنے والے حضرات چند معلوم دنوں میں ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی نعمت بھی یاد دلائی ہے۔ یہ { اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ } (چند معلوم دن) کون سے ہیں؟ بعض بڑے بڑے جلیل القدر حضرات نے اس سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دن اور سورۂ بقرہ (۲۰۳) میں { اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ } سے مراد ایام تشریق لیے ہیں؟ مگر بقول مفسر امین شنقیطی صاحب اضواء البیان: ان حضرات کی جلالت قدر کے باوجود ان کا موقف درست نہیں، بلکہ درست بات ان حضرات کی ہے جو اس سے یوم النحر (دس ذوالحجہ) اور اس کے بعد والے دو یا تین دن مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ اس آیت میں چند معلوم دنوں میں قربانی کا ذکر ہے، جب کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں صرف ایک دن (دس ذوالحجہ) کو قربانی ہوتی ہے (حالانکہ { مَعْلُوْمٰتٍ } کم از کم تین ہونے چاہییں)۔ خلاصہ یہ کہ ان { اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ } سے مراد وہ دن ہیں جن میں قربانی کی جاتی ہے اور وہ یوم النحراور اس کے بعد دو دن یا تین دن ہیں۔ یوم النحر کے بعد پورے ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳) یعنی چار دن میں قربانی کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: [كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيْقِ ذَبْحٌ] ایام تشریق سارے ذبح کے دن ہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے { مَنَاسِكُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ } میں فرمایا کہ اسے احمد نے روایت کیا اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے اور یہ میرے نزدیک اپنے مجموع طرق کے ساتھ قوی ہے، اسی لیے میں نے اسے سلسلہ صحیحہ (۲۴۷۶) میں درج کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان چار دنوں میں اللہ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت پالتو جانوروں کو اس کے نام پر قربان کرنا حج کے مقاصد میں سے ایک بہت بڑا مقصد ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: [أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ الْعَجُّ وَ الثَّجُّ] [ترمذي، الحج، باب ما جاء في فضل التلبیۃ والنحر: ۸۲۷] حج کی کون سی چیز افضل ہے؟ فرمایا: (لبیک کے ساتھ) آواز بلند کرنا اور خون بہانا (قربانی کرنا)۔
➌ { فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا …:} اس سے پہلے حج کرنے والوں کا ذکر غائب کے صیغوں کے ساتھ ہے، اب انھیں مخاطب کر لیا ہے کہ چوپائے جو میں نے تمھیں عطا کیے اور تم نے میرے نام پر قربان کیے، اب میری اس نعمت کا تقاضا ہے کہ خود بھی کھاؤ اور تنگ دست فقیر کو بھی کھلاؤ۔ { الْبَآىِٕسَ } کا معنی ہے جو مالی طور پر تنگدست ہو۔ فقیر بھی وہی ہے، صرف فقیر کی بدحالی پر رحم کو ابھارنے کے لیے { الْفَقِيْرَ } سے پہلے { الْبَآىِٕسَ } ذکر فرمایا، کیونکہ فقیر کا لفظ تو عام استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ غنی کو نہیں کھلا سکتے، بلکہ یہ فقراء کو کھلانے کی تاکید کے لیے ہے، اغنیاء کو کھلانے کا ذکر آیت (۳۶) میں آ رہا ہے۔ خود کھانے کا حکم اس لیے دیا کہ مشرکین اپنی قربانی میں سے نہیں کھاتے تھے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ خود کھانے کا حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب یا رخصت کے لیے ہے، یعنی تمھیں خود بھی کھانے کی اجازت ہے، ضروری نہیں کہ کھاؤ۔ بہرحال امر کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہو سکے تو اپنی قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [أَنَّ الْبُدْنَ الَّتِيْ نَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مِئَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ بِيَدِهٖ ثَلاَثًا وَّ سِتِّيْنَ وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِيْ قِدْرٍ ثُمَّ شَرِبَا مِنْ مَرْقِهَا] [مسند أحمد: 331/3، ح: ۱۴۵۶۱] وہ اونٹ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر کیے ایک سو اونٹ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے تریسٹھ (۶۳) اونٹ نحر کیے اور باقی علی رضی اللہ عنہ نے کیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا لینے کا حکم دیا جو ایک دیگ میں ڈالے گئے، پھر دونوں نے اس کا کچھ شوربا پیا۔ شعیب ارناؤوط نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 یہ فائدے دینی بھی ہیں کہ نماز، طواف اور مناسک حج وعمرہ کے ذریعے سے اللہ کی مغفرت و رضا حاصل کی جائے اور دنیاوی بھی کہ تجارت اور کاروبار سے مال و اسباب دنیا میسر آجائے۔ 28۔ 2 بہیمۃ الانعام پالتو جانوروں سے مراد اونٹ، گائے، بکری (اور بھیڑ دنبے) ہیں۔ ان پر اللہ کا نام لینے کا مطلب ان کو ذبح کرنا جو اللہ کے نام لے کر ہی کیا جاتا ہے اور ایام معلومات سے مراد، ذبح کے ایام ' ایام تشریق ہیں، جو یوم (10 ذولالحجہ) اور تین دن اس کے بعد ہیں۔ یعنی 11، 12 اور 13 ذوالحجہ تک قربانی کی جاسکتی ہے۔ عام طور پر ایام معلومات سے عشرہ ذوالحجہ اور ایام معدودات سے ایام تشریق مراد لئے جاتے ہیں۔ تاہم یہاں ' معلومات ' جس سیاق میں آیا ہے، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایام تشریق مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ تاکہ لوگ وہ فائدے [37] مشاہدہ کریں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں اور جو جانور ہم نے انھیں عطا کئے ہیں ان پر مقررہ دنوں میں اللہ کا نام لیں [38] (ذبح کریں) پھر انھیں خود بھی کھائیں [39] اور تنگ دست محتاج [40] کو بھی کھلائیں۔
[37] حج کے فوائد و برکات:۔
یہ فائدے صرف دینی ہی نہیں بلکہ اس اجتماع حج سے کئی قسم کے سیاسی، اقتصادی، معاشی اور تمدنی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اور تمام مسلمانوں کو ایک مرکز وجد میسر آتا ہے۔ یہ حج ہی کی برکت تھی کہ قریش مکہ کو جو بیت اللہ کے متولی تھے پورے عرب میں ایک امتیازی مقام حاصل تھا۔ اور یہ حج کی برکت تھی کہ لوٹ مار کے دور میں بھی کم از کم چار مہینے لوگ امن و امان سے سفر کر سکتے تھے۔ یہ حج ہی کی برکت تھی کہ مکہ ایک عالمی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔ اس تجارت سے اگرچہ بیرونی حضرات بھی خاصا فائدہ اٹھاتے تھے۔ تاہم سب سے زیادہ فائدہ اہل مکہ ہی کو پہنچتا تھا اور یہ حج کی برکت ہے کہ یہاں سے اٹھائی ہوئی آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جاتی تھی۔
[38] ایام معلومات سے بعض علماء نے یکم سے دس ذی الحجہ تک کے دن مراد لئے ہیں۔ مگر یہ اس صورت میں جبکہ اللہ کے ذکر کو عام سمجھا جائے اور اگر اللہ کا نام لینے کو قربانی کے جانوروں سے متعلق سمجھا جائے تو یہ بعض کے نزدیک 10 ذی الحجہ اور اس کے بعد دو دن ہیں۔ اور بعض کے نزدیک تین دن یعنی 13 ذی الحجہ کی عصر تک ان کے نزدیک قربانی کرنا جائز ہے۔ بھیمۃ الانعام سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری وغیرہ ہیں، جن کی قربانی دی جاتی ہیں اور یہ اسی صورت میں حلال ہوں گے جبکہ ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام لیا جائے۔ اگر اللہ کے سوا کسی اور کا نام بھی لیا جائے یا عمداً اللہ کا نام چھوڑ دیا جائے تو ایسے ذبح شدہ جانور کا کھانا حلال اور جائز نہ ہو گا۔ اور اگر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو قربانی جائز اور حلال ہی رہے گی جب یاد آئے اسی وقت ہی اللہ کا نام لے لیا جائے۔ اگرچہ ذبح کے وقت کی کئی دعائیں منقول ہیں۔ تاہم مختصر سے مختصر الفاظ جو قربانی کے وقت کہے جا سکتے ہیں، یہ ہیں ﴿بسم الله الله اكبر﴾
[39] وہ امور جو دور جاہلیت میں نیکی سمجھے جاتے تھے مگر اسلام نے ان کی اصلاح کی:۔
جاہلی دور میں کئی کام ایسے تھے۔ جنہیں نیکی کے کام اور معروف سمجھ کر بجا لایا جاتا تھا۔ مگر اسلام نے ان میں اصلاح کی۔ جیسے سفر حج میں حجارت نہ کرنا، پیدل روانہ ہونا، مشکل کے وقت بھی قربانی کے جانور پر سوار نہ ہونا، سفر سے واپسی پر گھر کے پچھواڑے سے داخل ہونا، ننگے ہو کر طواف کرنا، صفا و مردہ کے طواف کو اچھا نہ سمجھنا، عرفات کے قیام کو ضروری نہ سمجھنا، ایسے ہی امور میں سے ایک یہ بات تھی کہ وہ قربانی کے گوشت سے خود کچھ نہیں کھاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ کہہ کر ان کی غلط فہمی کا ازالہ فرما دیا۔
[40] قربانی کے گوشت کی تقسیم:۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ قربانی کے گوشت سے غنی قسم کے لوگ کھا ہی نہیں سکتے۔ بلکہ یہ ہے کہ محتاجوں اور فقراء و مساکین کو ضرور شامل کیا جائے۔ اور خود کھانے کا بھی یہ مطلب نہیں کہ اس میں سے ضرور ضرور کھایا جائے بلکہ یہ ہے کہ قربانی کا گوشت خود کھانے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ اور اس سلسلہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا قول یہ ہے کہ ایک حصہ خود رکھ لو۔ ایک حصہ اپنے ہمسایہ اور رشتہ داروں میں تقسیم کر دو اور ایک حصہ فقراء مساکین میں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ تینوں حصے برابر برابر ہوں۔ بلکہ حسب ضرورت اس میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے اور بہتر یہ ہے کہ اپنے لئے حصہ تیسرے سے کم رکھا جائے اور فقراء کے لئے تیسرے حصہ سے زیادہ۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دنیا اور آخرت کے فائدے ٭٭
دنیا اور آخرت کے فوائد حاصل کرنے کے لیے آئیں۔ اللہ کی رضا کے ساتھ ہی دنیاوی مفاد تجارت وغیرہ کا فائدہ اٹھائیں۔ جیسے فرمایا آیت «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّالِّيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:198]‏‏‏‏ موسم حج میں تجارت کرنا ممنوع نہیں۔ مقررہ دنوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { کسی دن کا عمل اللہ کے نزدیک ان دنوں کے عمل سے افضل نہیں۔ لوگوں نے پوچھا جہاد بھی نہیں؟ فرمایا: { جہاد بھی نہیں، بجز اس مجاہد کے عمل کے جس نے اپنی جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ہو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:969]‏‏‏‏
میں نے اس حدیث کو اس کی تمام سندوں کے ساتھ ایک مستقل کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے { کسی دن کا عمل اللہ کے نزدیک ان دنوں سے بڑا اور پیارا نہیں پس تم ان دس دنوں میں «‏‏‏‏ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » ‏‏‏‏ «اﷲُ اَکْبَرُ» اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» بکثرت پڑھا کرو }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/2:صحیح]‏‏‏‏
انہی دنوں کی قسم «وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ» ۱؎ [89-الفجر:1۔2]‏‏‏‏ کی آیت میں ہے۔
بعض سلف کہتے ہیں آیت «وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّاَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّهٖٓ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً» ۱؎ [7-الأعراف:142]‏‏‏‏ سے بھی مراد یہی دن ہیں۔
ابو داؤد میں ہے کہ { ان دنوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے رہا کرتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2452،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان دنوں بازار میں آتے اور تکبیر پکارتے، بازار والے بھی آپ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تکبیر پڑھنے لگتے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:قبل الحدیث:970]‏‏‏‏
ان ہی دس دنوں میں عرفہ کا دن ہے جس دن کے روزے کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { گزشتہ اور آئندہ دو سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1162]‏‏‏‏
ان ہی دس دنوں میں قربانی کا دن یعنی بقر عید کا دن ہے جس کا نام اسلام میں حج اکبر کا دن ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { اللہ کے نزدیک یہ سب دنوں سے افضل ہے }۔ الغرض سارے سال میں ایسی فضیلت کے دن اور نہیں۔
جیسے کہ حدیث شریف میں ہے { یہ دس دن رمضان شریف کے آخری دس دنوں سے بھی افضل ہیں}۔
کیونکہ نماز روزہ صدقہ وغیرہ جو رمضان کے اس آخری عشرے میں ہوتا ہے وہ سب ان دنوں میں بھی ہوتا ہے مزید برآں ان میں فریضہ حج ادا ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رمضان شریف کے آخری دن افضل ہیں کیونکہ انہیں میں لیلۃ القدر ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
تیسرا قول درمیانہ ہے کہ دن تو یہ افضل اور راتیں رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کی افضل ہیں۔ اس قول کے مان لینے سے مختلف دلائل میں جمع ہو جاتی ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایام معلومات کی تفسیر میں ایک دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قربانی کا دن اور اس کے بعد کے تین دن ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ سے یہی مروی ہے اور ایک روایت سے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ بقرہ عید اور اس کے بعد کے دو دن۔ اور ایام معدودات سے بقرہ عید اور اس کے بعد کے تین دن۔ اس کی اسناد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تک صحیح ہے۔
سدی رحمتہ اللہ علیہ بھی یہی کہتے ہیں، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے اور اس کی اور اس سے پہلے کے قول کی تائید فرمان باری آیت «عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ» ۱؎ [22-الحج:28]‏‏‏‏ سے ہوتی ہے کیونکہ اس سے مراد جانوروں کی قربانی کے وقت اللہ کا نام لینا ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ یہ عرفے کا دن بقرہ عید کا دن اور اس کے بعد کا ایک دن ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب یہی ہے۔
حضرت اسلم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مراد یوم نحر اور ایام تشریق ہیں «بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ» سے مراد اونٹ گائے اور بکری ہیں۔ جیسے سورۃ الانعام کی آیت «ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ قُلْ ءٰالذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَيَيْنِ اَمَّا اشْـتَمَلَتْ عَلَيْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ نَبِّـــــُٔـوْنِيْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:143]‏‏‏‏ میں مفصل موجود ہے۔
پھر فرمایا ’ اسے خود کھاؤ اور محتاجوں کو کھلاؤ ‘۔ اس سے بعض لوگوں نے دلیل لی ہے کہ قربانی کا گوشت کھانا واجب ہے۔ لیکن یہ قول غریب ہے۔ اکثر بزرگوں کا مذہب ہے کہ یہ رخصت ہے یا استحباب ہے۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قربانی کی تو حکم دیا کہ ہر اونٹ کے گوشت کا ایک ٹکڑا نکال کر پکالیا جائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گوشت کھایا اور شوربا پیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1218]‏‏‏‏
امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں اسے پسند کرتا ہوں کہ قربانی کا گوشت قربانی کرنے والا کھا لے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے۔
ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مشرک لوگ اپنی قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس کہ برخلاف مسلمانوں کو اس کے گوشت کے کھانے کی اجازت دی گئی اب جو چاہے کھائے جو چاہے نہ کھائے۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مشرک لوگ اپنی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس کے برخلاف مسلمانوں کو اس گوشت کے کھانے کی اجازت دی گئی اب جو چاہے کھائے جو چاہے نہ کھائے مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور عطا رحمتہ اللہ علیہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں کا یہ حکم آیت «وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا» ۱؎ [5-المائدة:2]‏‏‏‏ کی طرح ہے یعنی ’ جب تم احرام سے فارغ ہو جاؤ تو شکار کھیلو ‘۔
اور سورۃ الجمعہ میں فرمان ہے آیت «فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» ۱؎ [62-الجمعة:10]‏‏‏‏ ’ جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ ‘۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں حکم ہے شکار کرنے کا اور زمین میں روزی تلاش کرنے کے لیے پھیل جانے کا لیکن یہ حکم وجوبی اور فرضی نہیں اسی طرح اپنی قربانی کے گوشت کو کھانے کا حکم بھی ضروری اور واجب نہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اس قول کو پسند فرماتے ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے دو حصے کر دئیے جائیں ایک حصہ خود قربانی کرنے والے کا دوسرا حصہ فقیر فقراء کا۔ بعض کہتے ہیں تین کرنے چاہیئں تہائی اپنا تہائی ہدیہ دینے کے لیے اور تہائی صدقہ کرنے کے لیے۔
پہلے قول والے اوپر کی آیت کی سند لاتے ہیں اور دوسرے قول والے آیت «وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [22-الحج:36]‏‏‏‏ کو دلیل میں پیش کرتے ہیں اس کا پورا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آیت «الْبَائِسَ الْفَقِيرَ» سے مطلب وہ بے بس انسان ہے جو احتیاج ہونے پر بھی سوال سے بچتا ہو۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو دست سوال دارز نہ کرتا ہو، کم بینائی والا ہو۔‏‏‏‏