ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 19

ہٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِیۡ رَبِّہِمۡ ۫ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَہُمۡ ثِیَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ؕ یُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُءُوۡسِہِمُ الۡحَمِیۡمُ ﴿ۚ۱۹﴾
یہ دو جھگڑنے والے ہیں، جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جاچکے ، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ En
یہ دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں۔ تو کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (اور) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا
En
یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے والے ہیں، پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے بیونت کر کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں کے اوپر سے سخت کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ { هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ:} یہاں دو جھگڑنے والوں میں ایک فریق مسلمان اور دوسرا فریق وہ پانچوں گروہ ہیں جن کا پچھلی آیت میں ایمان والوں کے بعد ذکر ہوا ہے اور جنھیں اس آیت میں کافر قرار دیا گیا ہے۔ رب تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اللہ کی توحید کے قائل ہیں اور یہ تمام لوگ توحید کے بارے میں طرح طرح کے خیالات رکھتے ہیں جو کفر ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس مخالفت کا لازمی نتیجہ مسلمانوں کی طرف سے جہاد ہے۔ پہلا غزوہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو بدو جنگ ہوئی غزوۂ بدر تھا، جس میں سب سے پہلے میدان میں نکلنے والے حمزہ بن عبد المطلب، عبیدہ بن حارث اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنھم تھے، جو اپنے قریب ترین رشتہ داروں عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کے مقابلے میں نکلے تھے۔ چنانچہ اس آیت کا اولین مصداق یہی تین صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں۔ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے: [أَنَّهٗ كَانَ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هٰذِهِ الْآيَةَ: «هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ» ‏‏‏‏ نَزَلَتْ فِيْ حَمْزَةَ وَصَاحِبَيْهِ وَعُتْبَةَ وَصَاحِبَيْهِ يَوْمَ بَرَزُوْا فِيْ يَوْمِ بَدْرٍ] [بخاري، التفسیر، باب: «‏‏‏‏ھذان خصمان …» : ۴۷۴۳۔ مسلم: ۳۰۳۳] وہ قسم کھا کر کہتے تھے کہ یہ آیت: «{ هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ ان چھ آدمیوں حمزہ اور ان کے دو ساتھی، عقبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے بارے میں اتری تھی جو بدر کے دن ایک دوسرے کے مقابلے میں نکلے تھے۔ اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پہلا شخص ہوں جو قیامت کے دن اس جھگڑے کے لیے رحمان کے سامنے دونوں زانوؤں کے بل بیٹھوں گا اور اپنا مقدمہ پیش کروں گا۔ [بخاري، التفسیر، باب: «‏‏‏‏ھٰذان خصمان اختصموا في ربھم» ‏‏‏‏: ۴۷۴۴] ان تینوں حضرات کے بعد قیامت تک آنے والے وہ تمام مجاہد بھی اس آیت میں شامل ہیں جنھوں نے توحید کی خاطر کفار سے جہاد کیا یا کریں گے۔
➋ {فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ:} یعنی کافروں کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جا چکے۔ یہاں قیامت کے دن ہونے والے کام کو ماضی کے لفظ کے ساتھ بیان فرمایا، یعنی یہ کام اتنا یقینی ہے کہ بس ہو ہی چکا۔ آگ کے یہ کپڑے قمیصوں کی صورت میں بھی ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ [إبراھیم: ۵۰] ان کی قمیصیں گندھک کی ہوں گی۔ او رنیچے اور اوپر والے بچھونوں اور لحافوں کی صورت میں بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ [الأعراف: ۴۱] ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے۔
➌ {يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ: الْحَمِيْمُ } انتہائی گرم (کھولتا ہوا) پانی۔ مزید دیکھیے سورۂ دخان(۴۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 ھذان خصمن یہ دونوں تثنیہ کے صیغے ہیں بعض نے اس سے مراد مذکورہ گمراہ فرقے اور اس کے مقابلے میں دوسرا فرقہ مسلمان کو لیا ہے۔ یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں، مسلمان تو وحدانیت اور اس کی قدرت علی البعث کے قائل ہیں، جب کہ دوسرے اللہ کے بارے میں مختلف گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔ اس ضمن میں جنگ بدر میں لڑنے والے مسلمان اور کافر بھی آجاتے ہیں، جس کے آغاز میں مسلمانوں میں ایک طرف حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت عبیدۃ ؓ تھے اور دوسری طرف ان کے مقابلے میں کافروں میں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ تھے (امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ دونوں ہی مفہوم صحیح اور آیت کے مطابق ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں [26] جھگڑا کیا۔ ان میں سے جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں [27] گے اور ان کے سروں پر اوپر سے کھولتا پانی ڈالا جائے گا۔
[26] یعنی جھگڑنے اور لڑائی کرنے والے دو فریقوں میں سے ایک فریق تو اللہ کے فرمانبرداروں اور مسلمانوں کا ہے اور دوسرا کافروں کا۔ اور اس کافروں کے فریق میں وہ سب گروہ شامل ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا یعنی یہودی، صابی، عیسائی، مجوس، مشرکین اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جن کا اس آیت میں ذکر نہیں ہے جیسے ہندو، سکھ، بدھ مت والے، اللہ کی ہستی کے منکر یعنی نیچری اور دہریے وغیرہ سب اس دوسرے فریق شامل ہیں۔ ان دونوں فریقوں میں باعث نزاع مسئلہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ہیں۔ فریق اول تو اللہ کی صفات بالکل اسی طرح تسلیم کرتا ہے جس طرح اللہ نے خود بتلائی ہیں۔ پھر وہ اللہ کا فرمانبردار اور اس کے حضور سجدہ ریز بھی رہتا ہے۔ دوسرے فریق میں ہر طرح کے لوگ شامل ہو جاتے ہیں۔ اور کبھی یہ فریق اول کے مقابلہ میں گٹھ جوڑ بھی کر لیتے ہیں۔ پھر یہ فریق صرف بحث و مناظرہ میں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بنتے بلکہ میدان جہاد و قتال میں بھی ان کی یہی صورت ہوتی ہے اور حضرت علیؓ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ آیت اتری ہی ان لوگوں کے حق میں تھی۔ جو غزوہ بدر میں مقابلہ کے فریق بنے تھے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ قیس بن عباد کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: ”قیامت کے دن میں سب سے پہلے پروردگار کے سامنے دو زانو بیٹھ کر اپنا مقدمہ پیش کروں گا“قیس کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے سلسلہ میں اتری۔ جو بدر کے دن مبارزت کے لئے نکلے تھے۔ یعنی (مسلمانوں کی طرف سے) علیؓ، حمزہؓ اور عبیدہؓ بن حارث اور (کافروں کی طرف سے) شیبہ بن عتبہ، عتبہ بن ربیعہ، اور ولید بن عتبہ۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
بدر میں دعوت مبارزت:۔
اس حدیث میں میدان بدر مبارزت کا اجمالی سا ذکر ہوا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب لشکر کفار کو اس بات کا علم ہو گیا کہ تجارتی قافلہ بخیریت مکہ پہنچ گیا ہے تو سرداران قریش میں سے ایک سنجیدہ طبقہ کی رائے یہ تھی کہ اب جنگ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جس مقصد کے لئے ہم نکلے تھے وہ حاصل ہو چکا۔ عتبہ بن ربیعہ اور حکیم بن حزام ایسے لوگوں میں سے تھے۔ اس جنگ کا ایک سبب ایک حضرمی کا قتل بھی تھا۔ جو وادی نخلہ کے واقعہ میں مسلمانوں سے قتل ہو گیا تھا۔ حکیم بن حزام، عتبہ بن ربیعہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ میرے ذہن میں ایک تجویز آئی ہے۔ اگر تم چاہو تو لوگوں کو جنگ اور خونریزی سے بچا کر بہت بڑی نیکی کما سکتے ہو۔ عتبہ نے پوچھا وہ کیا تجویز ہے؟ حکیم بن حزام (جو بعد میں اسلام لے آئے تھے اور جلیل القدر صحابی ہیں) نے کہا کہ اس حضرمی کی دیت تم خود ادا کر دو۔ تو قصاص کا اضطراب جو لوگوں میں پھیلا ہوا ہے۔ از خود ختم ہو جائے گا۔ عتبہ نے اس تجویز کو بخوشی قبول کر لیا۔ پھر یہ دونوں حضرات جنگ بندی کے سلسلہ میں ابو جہل کے پاس گئے جو ایک متکبر، سرکش اور مشتعل مزاج سردار تھا۔ اسے یہ رائے قطعاً پسند نہ آئی۔ اس نے عتبہ کو کہا کہ تم اس لئے جنگ سے فرار چاہتے ہو کہ تمہارا ایک بیٹا مسلمان ہو چکا ہے اور تم اب بزدلی دکھا رہے ہو؟ عتبہ یہ بزدلی کا طعنہ برداشت نہ کر سکا اور کہنے لگا کہ کل معلوم ہو جائے گا کہ بزدل کون ہے؟ دوسری طرف ابو جہل نے حضرمی کے قبیلہ کو مشتعل کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لشکر کفار میں جنگ کی عمومی فضا پیدا ہو گئی اور جنگ نہ ہونے کا امکان ختم ہو گیا۔ دوسرے دن جب دونوں لشکر مقابلہ پر آ گئے تو یہی عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور بیٹے ولید بن عتبہ کو لے کر نکلا اور ھل من مبارز (کوئی مقابلہ کے لئے سامنے آتا ہے؟) کا نعرہ لگایا۔ مسلمانوں کے لشکر سے تین انصاری صحابہ مقابلہ کے لئے نکلے تو عتبہ نے چیخ کو پوچھا «من انتم؟ من القوم؟» (یعنی تم کون لوگ اور کس قوم سے ہو؟) انہوں نے اپنے نام بتلائے تو عتبہ نے کہا: تم ہمارے جوڑ کے نہیں ہو ہم تم سے لڑنے نہیں آئے۔ پھر چیخ کر پکارا: محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ہماری توہین نہ کرو۔ ہم ان کاشت کاروں سے لڑنے نہیں آئے۔ ہمارے مقابلہ میں ان لوگوں کو بھیجو جو ہمارے ہمسر اور ہمارے جوڑ کے ہوں۔ اور ایک روایت میں آیا کہ اس موقع پر عتبہ کے مسلمان بیٹے اور ابو حذیفہ نے اپنے باپ کے مقابلہ پر نکلنا چاہا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں روک دیا۔ پھر حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہ بن حارثؓ مقابلہ کے لئے نکلے۔ حضرت حمزہ نے عتبہ کو جلد ہی ٹھکانے لگا دیا اور حضرت علیؓ نے شیبہ کو جہنم واصل کیا۔ لیکن حضرت ابو عبیدہ بن حارثؓ کا ولید بن عتبہ سے شدید مقابلہ ہوا۔ دونوں کا بیک وقت ایک دوسرے پر کاری وار ہوا۔ حضرت ابو عبیدہ کی ٹانگیں کٹ گئیں اور وہ گر پڑے تو حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ آگے بڑھے اور ولید کا کام تمام کر کے ابو عبیدہ کو، جو دم توڑ رہے تھے، اٹھا کر لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو وہاں پہنچ کر انہوں نے آپ سے پوچھا کہ میرے متعلق کیا ارشاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہیں یقیناً جنت ملے گی“ اس اطلاع پر ان کے چہرے پر بشاشت آگئی اور کہا: کاش آج ابو طالب زندہ ہوتے تو وہ دیکھ لیتے کہ میں نے اپنی بات سچ کر دکھائی ہے اور اپنی جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور کر دی ہے۔
[27] اہل دوزخ کا لباس، طعام اور دوسری سزائیں:۔
یعنی فریق دوم کے لئے جنہوں نے کفر اور سرکشی کی راہ اختیار کی ان کے لباس بھی کسی آتش گیر مادہ سے بنے ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ [50: 14] یہ لباس بھڑک کر ان کے جسموں سے چمٹ جائے گا اور سر کے اوپر سے کھولتا ہوا جو پانی ڈالا جائے گا وہ اس آگ کو بجھائے گا نہیں بلکہ مزید آگ کو بھڑکانے کا باعث بن جائے گا۔ اس سے ان کے چمڑے گل کر گر پڑیں گے تو فوراً نئی جلد پیدا کر دی جائے گی۔ تاکہ ان کے عذاب میں کمی واقع نہ ہو۔ پھر یہی کھولتا ہوا پانی ان کے دماغ کی راہ سے جسم کے اندر پہنچے گا جس سے سب انتڑیاں کٹ جائیں گی۔ مزید برآں انھیں لوہے کے ہنٹروں سے پیٹا بھی جائے گا جب وہ دوزخ سے نکل بھاگنے کی کوشش کریں گے تو فرشتے انھیں ہنٹر مار مار کر پھر دوزخ میں دھکیل دیں گے اور ساتھ ہی انھیں یہ بتلاتے جائیں گے کہ یہ تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہے۔ اب بھاگتے کیوں ہو اور یہ دائمی عذاب کا مزا تمہیں چکھنا ہی پڑے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مومن و کافر کی مثال ٭٭
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ { یہ آیت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مقابلے میں بدر کے دن جو دو کافر آئے تھے اور عتبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3966]‏‏‏‏
صحیح بخاری شریف میں ہے { سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قیامت کے دن میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے اپنی حجت ثابت کرنے کے لیے گھٹنوں کے بل گرجاؤں گا۔‏‏‏‏ قیس فرماتے ہیں انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے بدر کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے علی اور حمزہ رضی اللہ عنہم اور عبیدہ اور شیبہ اور عتبہ اور ولید }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4744]‏‏‏‏
اور قول ہے کہ مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب کہتے تھے ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اس لیے ہم اللہ سے بہ نسبت تمہارے زیادہ قریب ہیں۔ مسلمان کہتے تھے کہ ہماری کتاب تمہاری کتاب کا فیصلہ کرتی ہے اور ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اس لیے تم سے ہم اولیٰ ہیں پس اللہ نے اسلام کو غالب کیا اور یہ آیت اتری۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد اس سے سچا ماننے والے اور جھٹلانے والے ہیں۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت میں مومن و کافر کی مثال ہے جو قیامت میں مختلف تھے۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد جنت دوزخ کا قول ہے دوزخ کی مانگ تھی کہ مجھے سزا کی چیز بنا، اور جنت کی آرزو تھی کہ مجھے رحمت بنا۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ان تمام اقوال میں شامل ہے اور بدر کا واقعہ بھی اس کے ضمن میں آسکتا ہے مومن اللہ کے دین کا غلبہ چاہتے تھے اور کفار نور ایمان کے بجھانے حق کو پست کرنے اور باطل کے ابھارنے کی فکر میں تھے۔
ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اس کو مختار بتلاتے ہیں اور یہ ہے بھی بہت اچھا چنانچہ اس کے بعد ہی ہے کہ کفار کے لیے آگ کے ٹکڑے الگ الگ مقرر کر دئے جائیں گے۔ یہ تانبے کی صورت ہوں گے جو بہت ہی حرارت پہنچاتا ہے پھر اوپر سے گرم ابلتے ہوئے پانی کا تریڑا ڈالا جائے گا۔ جس سے ان کے آنتیں اور چربی گھل جائے گی اور کھال بھی جھلس کر جھڑجائے گی۔
ترمذی میں ہے کہ { اس گرم آگ جیسے پانی سے ان کی آنتیں وغیرہ پیٹ سے نکل کر پیروں پر گر پڑیں گی۔ پھر جیسے تھے ویسے ہو جائیں گے پھر یہی ہو گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2582،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
عبداللہ بن سری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں فرشتہ اس ڈولچے کو اس کے کڑوں سے تھام کر لائے گا اس کے منہ میں ڈالنا چاہے گا یہ گھبرا کر منہ پھیر لے گا۔ تو فرشتہ اس کے ماتھے پر لوہے کا ہتھوڑا مارے گا جس سے اس کا سر پھٹ جائے گا وہیں سے اس گرم آگ پانی کو ڈالے گا جو سیدھا پیٹ میں پہنچے گا۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان ہتھوڑوں میں جن سے دوزخیوں کی ٹھکائی ہو گی اگر ایک زمین پر لا کر رکھ دیا جائے تو تمام انسان اور جنات مل کر بھی اسے اٹھا نہیں سکتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/3:ضعیف]‏‏‏‏
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے جہنمی اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے پھر جیسے تھے ویسے ہی کر دئے جائیں گے اگر عساق کا جو جہنمیوں کی غذا ہے ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو کے مارے ہلاک ہو جائیں } }۔ [مسند احمد:83/3:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے لگتے ہی ایک ایک عضو بدن جھڑ جائے گا اور ہائے وائے کا غل مچ جائے گا جب کبھی وہاں سے نکل جانا چاہیں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے۔
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جہنم کی آگ سخت سیاہ بہت اندھیرے والی ہے اس کے شعلے بھی روشن نہیں نہ اس کے انگارے روشنی والے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏‏‏‏
زید رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے جہنمی اس میں سانس بھی نہ لے سکیں گے۔‏‏‏‏
فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں واللہ انہیں چھوٹنے کی تو آس ہی نہیں رہے گی پیروں میں بوجھل بیڑیاں ہیں ہاتھوں میں مضبوط ہتھکڑیاں ہیں آگ کے شعلے انہیں اس قدر اونچا کر دیتے ہیں کہ گویا باہر نکل جائیں گے لیکن پھر فرشتوں کے ہاتھوں سے گرز کھا کر تہ میں اتر جاتے ہیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب جلنے کا مزہ چکھو۔‏‏‏‏
جیسے فرمان ہے «وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِالَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» ۱؎ [32-السجدة:20]‏‏‏‏ ’ ان سے کہا جائے گا اس آگ کا عذاب برداشت کرو جسے آج تک جھٹلاتے رہے ‘۔ زبانی بھی اور اپنے اعمال سے بھی۔