ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 18

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسۡجُدُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ وَ النُّجُوۡمُ وَ الۡجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ کَثِیۡرٌ مِّنَ النَّاسِ ؕ وَ کَثِیۡرٌ حَقَّ عَلَیۡہِ الۡعَذَابُ ؕ وَ مَنۡ یُّہِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکۡرِمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿ؕٛ۱۸﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اسی کے لیے سجدہ کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے لوگ۔ اور بہت سے وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔ بے شک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اس کو عزت دینے والا نہیں۔ بےشک خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
En
کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ …:} پچھلی آیت میں جن گروہوں کا ذکر ہوا اہل ایمان کے علاوہ سب نے اللہ کے ساتھ شریک بنا رکھے ہیں۔ یہود نے عزیر علیہ السلام کو اور نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے۔ صابی ستارہ پرست، مجوس آتش پرست اور مشرکین بت پرست ہیں۔ اس آیت میں فرمایا کہ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی عبادت اور اسے سجدہ کرنے پر متفق ہے؟ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی، اس کا حق تو یہ تھا کہ اس کے سارے افراد اوروں سے زیادہ اس کی عبادت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر متفق ہوتے، مگر اس کے بہت سے افراد غیر اللہ کی عبادت کی وجہ سے عذاب الٰہی کے حق دار ٹھہرے ہیں۔
➋ { اَلَمْ تَرَ } سے مراد {أَلَمْ تَعْلَمْ} ہے، یعنی کیا تجھے معلوم نہیں؟ کیونکہ آسمانوں اور زمین میں بسنے والے تمام افراد کو اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔ مزید دیکھیے سورۂ فیل کی آیت (۱): «{ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ کی تفسیر۔ { اَلَمْ تَرَ } کے اولین مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے بعد آپ کی امت کا ہر فرد۔
➌ بعض مفسرین نے یہاں سجدے سے مراد انقیاد لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے ساری مخلوق عاجز اور بے بس ہے۔ چاہے یا نہ چاہے، اسے اس کے سامنے گردن جھکانا اور اس کے {كُنْ فَيَكُوْنُ} والے حکم کو ماننا پڑتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ {كُنْ} کہے اور کوئی اس سے منہ پھیر سکے۔ مگر یہاں سجدے کا صرف یہ معنی مراد لینا درست نہیں، کیونکہ یہ سجدہ تو ساری مخلوق کے ساتھ ساتھ ہر انسان اور جن بھی کرتا ہے، بلکہ یہاں مراد وہ سجدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بہت سے لوگ کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں پر عذاب واجب ہو چکا ہے، یعنی وہ سجدہ نہیں کرتے۔ اگر تکوینی سجدہ مراد ہو تو مومن و کافر کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم سے سرتابی کرے۔ آدمی ایک ٹانگ اٹھا سکتا ہے، ذرا دونوں اٹھا کر تو دکھائے؟ اپنی بھوک یا پیاس کو روک لے۔ پیشاب پاخانہ کی حاجت سے بے نیاز ہو کر دکھائے۔ دل کی دھڑکن، خون کی گردش، بچپن، جوانی، بڑھاپا، بیماری، ضعف، انحطاط، موت، غرض اللہ کے کسی تکوینی حکم کے مقابلے میں سجدے سے سر اٹھا کر دکھائے؟ معلوم ہوا اس سجدے سے وہ سجدہ مراد ہے جو انسان اپنی خوشی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق وہ تمام چیزیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے اپنی خوشی سے اللہ کے لیے سجدہ کرتی ہیں، جب کہ لوگوں میں سے بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے یہ سجدہ خوشی سے کرتے ہیں اور بہت سے نہیں کرتے۔ جن و انس کے علاوہ باقی ساری مخلوق دونوں طرح سے اللہ کے لیے سجدہ ریز ہے، تکوینی طور پر بھی اور اطاعت و عبادت کے لیے بھی، جبکہ انسان تکوینی طور پر اللہ کے حکم کے سامنے سجدہ ریز ہے، اطاعت و عبادت کے طور پر بہت سے انسان سجدہ کرتے ہیں، بہت سے نہیں کرتے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا تکوینی حکم کے تابع ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر عبادت کے لیے باقاعدہ سجدہ کرنا سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ پہاڑ، درخت، سورج، چاند اور ستارے تو بے جان چیزیں ہیں، وہ سجدہ کیا کریں گی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں میں احساس اور شعور رکھا ہے اور اس نے ہر چیز کو اپنے سامنے رکوع و سجود اور قیام و تسبیح کا طریقہ بھی سکھا رکھا ہے، حتیٰ کہ جب اس نے زمین و آسمان کو حکم دیا کہ خوشی یا ناخوشی سے حاضر ہو جاؤ تو دونوں نے کہا، ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۱۱) اور فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ [النور: ۴۱] کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقینا اپنی نماز (جس میں قیام اور رکوع و سجود سب کچھ ہوتا ہے) اور اپنی تسبیح جان لی ہے اور اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اور دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴۴)، احزاب (۷۲)، حشر (۲۱)، نحل (۴۸)، حم السجدہ (۲۱) اور سورۂ بقرہ (۷۴) خلاصہ یہ ہے کہ یہاں { النَّاسِ } کے سجدے سے مراد عبادت کا سجدہ ہے، جو کچھ لوگ کرتے ہیں اور کچھ لوگ نہیں کرتے اور { النَّاسِ } کے علاوہ باقی تمام چیزوں کے سجدے سے دونوں سجدے مراد ہیں، تکوینی بھی اور عبادت کا سجدہ بھی۔
➍ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار مخلوق میں سے چند کا خاص طور پر نام لے کر ذکر فرمایا کہ وہ اللہ کے لیے سجدہ کرتی ہیں۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان تمام اشیاء میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی مشرک نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش صابئین کرتے ہیں۔ عرب کے مشرکین شعریٰ اور دوسرے ستاروں کی پوجا کرتے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو ان کی عبادت سے منع فرمایا تھا۔ پہاڑوں کے پتھروں کی پوجا بت پرست کرتے ہیں، اسی طرح کئی درختوں کی بھی عبادت ہوتی ہے، جیسے کئی قبر پرست اور بت پرست اپنے اپنے دربار کے درختوں کو بھی کرنی والا سمجھتے ہیں اور ان کے پتے یا ٹہنی توڑنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ کئی جانوروں کو بھی معبود بنایا گیا ہے، جیسے ہندو گائے، سانپ، بندر اور کئی جانوروں کی پوجا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب تو اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتے اور اسے اپنا رب مانتے ہیں، پھر عقل سے کس قدر عاری ہیں وہ لوگ جو اللہ کو سجدہ کرنے کے بجائے ان کو سجدہ کرتے ہیں جو خود اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر انسان کی اور ذلت کیا ہو گی؟
➎ { وَ مَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ: يُهِنِ } پر { مَنْ } آنے کی وجہ سے نون پر جزم آ گئی، دو ساکنوں کی وجہ سے یاء گر گئی تو {يُهِنْ} ہو گیا، پھر آگے ملانے کے لیے نون کو کسرہ دے دیا۔ یعنی جسے اللہ تعالیٰ اس کے شرک و کفر کی شامت کے نتیجے میں انسانی عز و شرف سے محروم کر کے جانوروں سے بھی بدتر بنا دے (اعراف: ۱۷۹) اور جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا کرکے ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا کر دے تو اسے اس ذلت سے نکال کر کوئی عزت عطا کرنے والا نہیں، فرمایا: «{ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ [آل عمران: ۲۶] اور تو جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے۔
➏ { اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ: اِنَّ } (ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ) اپنے سے پہلے جملے کی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو عزت اور کسی کو ذلت کیوں دیتا ہے؟ فرمایا، وہ اپنی مرضی کا مالک ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۲۳) کی تفسیر۔
➐ اس آیت پر سجدہ ہے اور سورۂ حج کے اس سجدہ پر سب کا اتفاق ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 بعض مفسرین نے اس سجدے سے ان تمام چیزوں کا احکام الٰہی کے تابع ہونا مراد لیا ہے، کسی میں مجال نہیں کہ وہ حکم الٰہی سے سرتابی کرسکے۔ ان کے نزدیک وہ سجدہ اطاعت و عبادت مراد نہیں۔ جب کہ بعض مفسرین نے اسے مجاز کے بجائے حقیقت پر مبنی کیا ہے کہ ہر مخلوق اپنے اپنے انداز سے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے مثلا (من فی السموات) سے مراد فرشتے ہیں ومن فی الارض سے ہر قسم کے حیوانات، انسان، جنات، چوپائے اور پرندے اور دیگر اشیاء ہیں یہ سب اپنے اپنے انداز سے سجدہ اور تسبیح کرتی ہیں (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ) 17۔ الاسراء:44) سورة بنی اسرائیل۔ سورج چاند اور ستاروں کا بطور خاص اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ مشرکین ان کی عبادت کرتے رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تم ان کو سجدہ کرتے ہو یہ تو اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے والے ہیں اور اس کے ماتحت ہیں اس لیے تم انھیں سجدہ مت کرو اس ذات کو سجدہ کرو جو ان کا خالق ہے (حم سجدہ 37) صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا سورج جاتا ہے اور عرش کے نیچے جاکر سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر اسے (طلوع ہونے کا) حکم دیا جاتا ہے ایک وقت آئے گا کہ اسے کہا جائے گا واپس لوٹ جا یعنی جہاں سے آیا ہے وہیں چلا جا۔ (صحیح بخاری) اسی طرح صحابی کا واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے خواب میں اپنے ساتھ درخت کو سجدہ کرتے دیکھا (ترمذی) اور پہاڑوں اور درختوں کے سجدے میں ان سایوں کا دائیں بائیں پھرنا یا جھکنا بھی شامل ہے جس طرف اشارہ سورة الرعد اور النحل 47، 48 میں بھی کیا گیا ہے۔ 18۔ 2 یہ سجدہ اطاعت و عبادت ہی ہے جس کو انسانوں کی ایک بڑی تعداد کرتی ہے اور اللہ کی رضا کی مستحق قرار پاتی ہے۔ 18۔ 3 یہ وہ ہیں جو سجدہ اطاعت سے انکار کرکے کفر اختیار کرتے ہیں، ورنہ تکوینی احکام یعنی سجدہ انقیاد میں تو انھیں بھی مجال انکار نہیں۔ 18۔ 4 کفر اختیار کرنے کا نتیجہ ذلت و رسوائی اور آخرت کا دائمی عذاب ہے، جس سے بچا کر کافروں کو عزت دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد اللہ کے حضور [23] سر بسجود ہے اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اور جسے اللہ ذلیل و خوار [24] کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں اور اللہ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے [25]۔
[23] کائنات کی ہر چیز کے سجدہ ریز ہونے کا مطلب:۔
ساری کائنات میں انسان اور جن ہی مکلف مخلوق ہیں اور انھیں کو قوت ارادہ و اختیار دیا گیا ہے باقی مخلوق تکوینی طور پر اللہ کے حضور ہر وقت سجدہ ریز رہتی ہے اور ان کے سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ جس کام پر اللہ نے انھیں لگا دیا ہے یا جو خدمت ان کے ذمہ کر دی ہے اور جو قوانین ان کے لئے مقرر کر دیئے ہیں ان سے وہ سرمو تجاوز نہیں کرتے اور انسانوں میں سے بھی ایک کثیر طبقہ ایسا ہے جس نے اپنے ارادہ کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دیا ہے اور برضا و رغبت اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ تاہم انسانوں کا ایک کثیر طبقہ ایسا بھی ہے جس نے اس اختیار کا غلط استعمال کیا اور باقی تمام مخلوق کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی بجائے اللہ کے احکام کے مقابلہ میں سرکشی کی راہ اختیار کی۔ اور اس امتحان میں ناکام رہا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا تھا۔ ایسے لوگوں کو یقیناً اس سرکشی کی سزا عذاب الیم کی صورت میں بھگتنا پڑے گی۔
[24] یعنی اللہ کے سے احکام رو گردانی اور اس کے حضور سجدہ سے سرکشی کا لازمی نتیجہ ذلت اور رسوائی ہے۔ اور اللہ کے نافرمانوں کو بسا اوقات دنیا میں ہی یہ برا نتیجہ دیکھنا پڑتا ہے اور اگر دنیا میں بچ بھی جائے تو آخرت میں اسے ضروری اس نتیجہ سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اور کوئی طاقت اسے اس سزا سے بچا نہ سکے گی۔
[25] اس سورۃ حج میں دو سجدہ ہائے تلاوت ہیں۔ اس آیت نمبر 18 پر پہلا سجدہ ہے اور یہی سجدہ متفق علیہ ہے جو ہر پڑھنے والے اور سننے والے کو ادا کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی کائنات کی جملہ اشیاء کے سجدہ میں ان کے ہم آہنگ اور شریک ہو جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

چاند سورج ستارے سب سجدہ ریز ٭٭
مستحق عبادت صرف وحدہ لاشریک اللہ ہے اس کی عظمت کے سامنے ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے خواہ بخوشی خواہ بے خوشی۔ ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع میں ہے۔ چنانچہ قرآن نے سائے کا دائیں بائیں اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہونا بھی آیت «اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:48]‏‏‏‏ میں بیان فرمایا ہے۔ آسمانوں کے فرشتے، زمین کے حیوان، انسان، جنات، پرند، چرند، سب اس کے سامنے سربہ سجود ہیں اور اس کی تسبیح اور حمد کر رہے۔ سورج چاند ستارے بھی اس کے سامنے سجدے میں گرے ہوئے ہیں۔ ان تینوں چیزوں کو الگ اس لیے بیان کیا گیا کہ بعض لوگ ان کی پرستش کرتے ہیں حالانکہ وہ خود اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اسی لیے فرمایا ’ سورج چاند کو سجدے نہ کرو اسے سجدے کرو جو ان کا خالق ہے ‘۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا { جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ } آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ کو علم ہے اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر اس سے اجازت طلب کرتا ہے وقت آ رہا ہے کہ اس سے ایک دن کہہ دیا جائے گا کہ جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3199]‏‏‏‏
سنن ابی داؤد، نسائی، ابن ماجہ، اور مسند احمد میں گرہن کی حدیث میں ہے کہ { سورج چاند اللہ کی مخلوق ہے وہ کسی کی موت پیدائش سے گرہن میں نہیں آتے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی میں سے جس کس پر تجلی ڈالتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1193،قال الشيخ الألباني:منکر]‏‏‏‏
ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج چاند اور کل ستارے غروب ہو کر سجدے میں جاتے ہیں اور اللہ سے اجازت مانگ کر داہنی طرف سے لوٹ کر پھر اپنے مطلع میں پہنچتے ہیں۔ پہاڑوں اور درختوں کا سجدے میں ان کے سائے کا دائیں بائیں پڑنا ہے۔
{ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ میں جب سجدے میں گیا تو وہ درخت بھی سجدے میں گیا اور میں نے سنا کہ وہ اپنے سجدے میں یہ پڑھ رہا تھا۔ دعا «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَتَقَبَّلْهَا منی منّي كَمَا تَقَبّلْتَها مِنْ عَبْدِكَ دَاوُودَ» ۔ یعنی اے اللہ اس سجدے کی وجہ سے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ اور میرے گناہ معاف فرما اور میرے لیے اسے ذخیرہ آخرت کر اور اسے قبول فرما جسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد علیہ السلام کا سجدہ قبول فرمایا تھا۔‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی۔ سجدہ کیا اور یہی دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس سجدے میں پڑھی جسے میں سن رہا تھا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:579،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
تمام حیوانات بھی اسے سجدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنے جانور کی پیٹھ کو اپنا منبر نہ بنا لیا کرو بہت سی سواریاں اپنے سوار سے زیادہ اچھی ہوتی ہیں اور زیادہ ذکر اللہ کرنے والی ہوتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:440/3:حسن ضعیف]‏‏‏‏
اکثر انسان بھی اپنی خوشی سے عبادت الٰہی بجا لاتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں ہاں وہ بھی ہیں جو اس سے محروم ہیں تکبر کرتے ہیں۔ سرکشی کرتے ہیں اللہ جسے ذلیل کرے اسے عزیز کون کر سکتا ہے؟ رب فاعل خودمختار ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا یہاں ایک شخص ہے جو اللہ کے ارادوں اور اس کی مشیت کو نہیں مانتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا اے شخض بتا تیری پیدائش اللہ تعالیٰ نے تیری چاہت کے مطابق کی یا اپنی؟ اس نے کہا اپنی چاہت کے مطابق۔ فرمایا یہ بھی بتا کہ جب تو چاہتا ہے مریض ہو جاتا ہے یا جب اللہ چاہتا ہے؟ اس نے کہا جب وہ چاہتا ہے۔ پوچھا پھر تجھے شفاء تیری چاہت سے ہوتی ہے یا اللہ کے ارادے سے؟ جواب دیا اللہ کے ارادے سے۔ فرمایا اچھا یہ بھی بتاکہ اب وہ جہاں چاہے گا تجھے لے جائے گا یا جہاں تو چاہے گا؟ کہا جہاں وہ چاہے۔ فرمایا پھر کیا بات باقی رہ گئی؟ سن اگر تو اس کے خلاف جواب دیتا تو واللہ میں تیرا سراڑا دیتا۔‏‏‏‏
مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب انسان سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ ہٹ کر رونے لگتا ہے کہ افسوس ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا اس نے سجدہ کر لیا جنتی ہو گیا میں نے انکار کر دیا جہنمی بن گیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:81]‏‏‏‏
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ { یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الحج کو اور تمام سورتوں پر یہ فضیلت ملی کہ اس میں دو آیتیں سجدے کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اور جو ان دونوں پر سجدہ نہ کرے اسے چاہے کہ اسے پڑھے ہی نہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1402،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حدیث قوی نہیں، لیکن امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول قابل غور ہے کیونکہ اس کے راوی ابن لہیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی سماعت کی اس میں تصریح کر دی ہے اور ان پر بڑی جرح وتدلیس کی ہے جو اس سے اٹھ جاتی ہے۔
ابوداؤد میں فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { سورۃ الحج کو قرآن کی اور سورتوں پر یہ فضیلت دی گئی ہے اس میں دو سجدے ہیں }۔ ۱؎ [المراسیل لا بی داؤد:78/13:ضعیف]‏‏‏‏ امام ابوداؤد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سند سے تو یہ حدیث مستند نہیں لیکن اور سند سے یہ مسند بھی بیان کی گئی ہے مگر صحیح نہیں۔ مروی ہے کہ { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حدیبہ میں اس سورت کی تلاوت کی اور دوبار سجدہ کیا اور فرمایا اسے ان سجدوں سے فضیلت دی گئی }۔ [ابوبکر بن عدی]‏‏‏‏
{ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، تین مفصل میں دو سورۃ الحج میں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1057،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
یہ سب روایتیں اس بات کو پوری طرح مضبوط کر دیتی ہیں۔