ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 83

وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۳﴾
اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک میں، مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔
اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 84،83) ➊ { وَ اَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ …:} یعنی ایوب کو یاد کرو۔ داؤد اور سلیمان علیھما السلام کی آزمائش ان نعمتوں کے ساتھ ہوئی جن پر شکر واجب تھا، جبکہ ایوب علیہ السلام کی آزمائش ایسی تکالیف کے ساتھ ہوئی جن پر صبر لازم تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر اور صبر لازم و ملزوم ہیں۔ صبر وہی کر سکتا ہے جو شاکر ہو اور شکر وہی کرتا ہے جو صابر ہو۔ بے صبرا شاکر نہیں ہوتا اور ناشکرا صابر نہیں ہوتا۔ ان کا واقعہ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک یہاں سورۂ انبیاء میں اور ایک سورۂ ص (۴۱ تا ۴۴) میں۔ ایک دفعہ زیر تفسیر آیات کا ترجمہ ملاحظہ کریں، ساتھ ہی سورۂ ص کی آیات کا ترجمہ دیکھیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ اپنا پاؤں مار، یہ نہانے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے اور ہم نے اسے اس کے گھر والے عطا کر دیے اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی، ہماری طرف سے رحمت کے لیے اور عقلوں والوں کی نصیحت کے لیے۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایوب علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ اللہ کی طرف سے ان پر ایسی آزمائش آئی کہ وہ شدید اور لمبی بیماری میں مبتلا ہو گئے، ان کے اہل و عیال بھی جدائی یا فوت ہونے کی وجہ سے ان سے جدا ہو گئے۔ (ثنائی) جب کمانے والے ہی نہ رہے تو مال مویشی بھی ہلاک ہو گئے، مگر ایوب علیہ السلام نے ہر مصیبت پر صبر کیا، نہ کوئی واویلا کیا اور نہ کوئی حرف شکایت لب پر لائے۔ جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ ایک یہ کہ اے میرے رب! مجھے شیطان نے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ دوسری یہ کہ اے میرے رب! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔ اس دعا میں انھوں نے اپنی حالت زار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ارحم الراحمین ہونے کے بیان ہی کو کافی سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ انھوں نے پاؤں مارا تو ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہو گیا۔ حکم ہوا کہ اسے پیو اور اس سے غسل کرو۔ وہ مبارک پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے ان کی ساری بیماری دور ہو گئی اور وہ پوری طرح صحت مند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے گھر والے بھی عطا فرما دیے اور اتنے ہی اور عطا فرما دیے۔ بیماری کے دوران انھوں نے کسی پر ناراض ہو کر اسے کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، اب وہ سزا زیادہ سمجھ کر پریشان تھے کہ اسے اتنے کوڑے ماروں تو زیادتی ہوتی ہے، نہ ماروں تو قسم ٹوٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ مشکل بھی حل فرما دی کہ اتنے تنکوں کا مٹھا لے کر ایک دفعہ مار دو، جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی، اس سے تمھاری قسم پوری ہو جائے گی، قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہو گا۔
➋ {اَلضَّرُّ } اور {اَلضُّرُّ} میں فرق یہ ہے کہ ضاد کے فتحہ کے ساتھ {ضَرٌّ} نفع کی ضد ہے، اس سے مراد کوئی بھی نقصان ہے، مالی ہو یا جانی یا کوئی اور، جبکہ ضاد کے ضمہ کے ساتھ {ضُرٌّ} سے مراد آدمی کی جسمانی بدحالی ہے، مثلاً بیماری، لا غری یا بڑھاپا وغیرہ۔ (اعراب القرآن از درویش)
➌ ایوب علیہ السلام نے شدید تکلیف دہ بیماری اور اموال و اولاد کی ہلاکت جیسے مصائب کی آزمائش میں جس طرح صبر کیا، پھر جس طرح انھوں نے اللہ کی جناب میں اپنی حالت زار کا ذکر کرکے اس کے ارحم الراحمین ہونے کے واسطے سے دعا کی اور جسے شرف قبولیت عطا ہوا، اس سے چند اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ شدید بیماری اور مال و اہل کی تباہی کے ساتھ آزمائش اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی، اسی طرح اس پر صبر کی توفیق دینا، پھر دعا قبول فرما کر صحت سے نوازنا اور دگنے اہل و عیال عطا فرمانا، سب کچھ اللہ کی عظیم رحمت تھی۔ دوسرا یہ کہ اس میں عبادت گزار بندوں کے لیے یاد دہانی ہے کہ اگر اللہ کے بندوں کا مصائب کے ذریعے سے امتحان ہو اور وہ اس پر صبر کریں اور اللہ تعالیٰ ہی کی جناب میں اپنی فریاد پیش کریں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ملتا ہے اور آدمی کے گمان سے بھی بہت زیادہ ملتا ہے۔ یہاں { وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِيْنَ } فرمایا، جبکہ سورۂ صٓ (۴۳) میں { وَ ذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ } فرمایا، معلوم ہوا عبادت کرنے والے ہی عقل والے ہیں، جو بندگی نہیں کرتے وہ کتنے ہی ہوشیار نظر آئیں، عقل سے خالی ہیں۔ تیسرا یہ کہ آزمائش میں صبر اور اللہ تعالیٰ ہی سے بار بار رجوع اور استغاثہ و فریاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کی تعریف میں تین جملے ارشاد فرمائے: (1) «{ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا۔ (2) «{ نِعْمَ الْعَبْدُ وہ بہت اچھا بندہ تھا۔ (3) «{ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آزمائش میں کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے شاباش بھی ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحسین و آفرین ایوب علیہ السلام کے حق میں بہت ہی بڑی شہادت ہے۔
➍ دکتور محمد بن محمد ابو شہبہ رحمہ اللہ اپنی کتاب { اَلْاِسْرَائِيْلِيَاتُ وَالْمَوْضُوْعَاتُ فِيْ كُتُبِ التَّفْسِيْرِ } میں لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت فرمایا: وہب بن منبہ سے ایوب علیہ السلام کے واقعہ میں ایک لمبا قصہ روایت کیا گیا ہے، جسے ابن جریر نے اور ابن ابی حاتم نے سند کے ساتھ اس (وہب بن منبہ) سے نقل کیا ہے۔ بعد میں آنے والے کئی ایک مفسرین نے بھی اسے ذکر کیا ہے۔ اس واقعہ میں غرابت ہے، ہم نے لمبا ہونے کی وجہ سے اسے ترک کر دیا ہے۔ ابوشہبہ فرماتے ہیں: عجیب بات یہ ہے کہ روایات پر نقد کرنے والے حافظ ابن کثیر بھی ایوب علیہ السلام کے واقعہ میں انھی باتوں میں پڑ گئے ہیں جن میں دوسرے حضرات پڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے یہاں بہت سی اسرائیلیات ذکر فرمائی ہیں، جن پر کوئی تعاقب نہیں فرمایا، حالانکہ ان کے متعلق ہمارا مشاہدہ ہے کہ وہ ایسی جو بات بھی ذکر فرماتے ہیں اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئی اور اسلامی روایات میں کیسے داخل ہوئی؟ میں نہیں سمجھتا کہ وہ ان روایات کو (بلانقد) بیان کرنا جائز سمجھتے ہوں۔ چنانچہ انھوں نے ذکر کیا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ان کے سارے بدن میں جذام (کوڑھ) ہو گیا اور ان کے دل اور زبان کے سوا کوئی چیز سلامت نہ رہی، جن کے ساتھ وہ اللہ عزو جل کا ذکر کرتے تھے۔ یہاں تک کہ پاس بیٹھنے والوں کو ان سے نفرت ہو گئی اور انھیں شہر کے ایک کونے میں الگ رہائش رکھنا پڑی۔ ان کی بیوی کے سوا ان پر شفقت کرنے والا کوئی نہ رہا، جس نے ان کی آزمائش کے دوران ناقابل بیان مصیبتیں اٹھائیں، حتیٰ کہ وہ محنت مزدوری کرنے لگیں، بلکہ انھوں نے اسی وجہ سے اپنے بال بھی فروخت کر دیے۔ پھر ذکر فرماتے ہیں: بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اس آزمائش میں بہت لمبی مدت تک مبتلا رہے۔ پھر اختلاف ہے کہ انھیں اس دعا کے لیے بے قرار کرنے کا باعث کیا تھا؟ چنانچہ حسن بصری اور قتادہ نے کہا، ایوب علیہ السلام سات سال اور کچھ مہینے آزمائش میں مبتلا رہے، اس عرصے میں انھیں کوڑا پھینکنے کی جگہ میں ڈال دیا گیا اور ان کے بدن میں کیڑے پڑ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور فرمائی اور انھیں اجر عظیم عطا فرمایا اور ان کی بہت اچھی تعریف فرمائی۔ اور وہب بن منبہ نے کہا کہ آپ تین سال تکلیف میں مبتلا رہے، نہ زیادہ نہ کم۔ سدی نے کہا، ایوب علیہ السلام کا گوشت جھڑ گیا، صرف ہڈیاں اور پٹھے باقی رہ گئے۔ پھر ایک لمبا قصہ ذکر کیا، پھر ابن کثیرنے وہ واقعہ ذکر فرمایا جو ابن ابی حاتم نے اپنی سند سے عن الزہری عن انس بن مالک روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام پر ان کی آزمائش اٹھارہ برس رہی۔ دور و نزدیک کے سب لوگوں نے انھیں چھوڑ دیا۔ ان کے دوستوں بھائیوں میں سے صرف دو آدمی صبح اور شام ان کے پاس آتے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا، جانتے ہو! اللہ کی قسم! ایوب نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ ساتھی نے کہا، وہ کیا ہے؟ اس نے کہا، اٹھارہ سال ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم نہیں کیا کہ اس کی تکلیف دور کر دیتا۔ جب شام کو دونوں ان کے پاس گئے تو اس آدمی نے اس بات کا ذکر کر دیا۔ ایوب علیہ السلام نے کہا، مجھے معلوم نہیں تم کیا کہہ رہے ہو؟ ہاں یہ بات اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرتا جو جھگڑ رہے ہوتے، جس میں وہ اللہ کا ذکر کرتے تو میں گھر آ کر ان کی طرف سے کفارہ دے دیتا کہ کہیں وہ ناحق اللہ کا ذکر نہ کر رہے ہوں۔ اور وہ حاجت کے لیے باہر جایا کرتے تھے، جب فارغ ہو جاتے تو ان کی بیوی ہاتھ پکڑ کر لے آتی۔ ایک دن اس نے آنے میں دیر کی تو اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: «{ اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ [صٓ: ۴۲] اپنا پاؤں مار، یہ نہانے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایوب علیہ السلام کے قصے میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جو ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بیان کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے، پھر یہ روایت بیان کی۔ شیخ ناصر الدین البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ (سلسلہ صحیحہ: ۱۷) مگر صحیح بات یہی ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں۔ حافظ ابن حجر کے قول سے اس کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوتا، صرف دوسری روایتوں سے اس کا بہتر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اگر ان کی مراد اس حدیث کا صحیح ہونا ہو تب بھی ان کی بات محل نظر ہے۔ ابن کثیر نے { اَلْبِدَايَةُ وَالنِّهَايَةُ } میں ایوب علیہ السلام کے تذکرہ میں فرمایا: {هٰذَا غَرِيْبٌ رَفْعُهُ جِدًّا وَالْأَشْبَهُ أَنْ يَّكُوْنَ مَوْقُوْفًا} اس روایت کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہونا بہت ہی غریب ہے، زیادہ قریب یہی ہے کہ یہ صحابی کا قول ہے۔ اس روایت کی تمام سندوں میں زہری کی روایت عن کے لفظ کے ساتھ آئی ہے اور زہری کا اپنی تمام تر عظمت وجلالت کے باوجود مدلس ہونا معروف و مشہور ہے۔ اس لیے صحیحین کے سوا ان کی تدلیس والی روایت کو صحیح نہیں کہا جا سکتا۔
ایوب علیہ السلام کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک صحیح حدیث آئی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [بَيْنَمَا أَيُّوْبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِيْ فِيْ ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوْبُ! أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَی؟ قَالَ بَلٰی يَا رَبِّ! وَلَكِنْ لَا غِنَی لِيْ عَنْ بَرَكَتِكَ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏و أیوب إذ نادی ربہ…» : ۳۳۹۱]ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر غسل کر رہے تھے، غسل کے دوران ہی ان پر سونے کی ٹڈیوں کا ایک دَل (لشکر) آ گرا۔ ایوب علیہ السلام لپوں کے ساتھ اسے اپنے کپڑے میں بھرنے لگے تو انھیں ان کے رب نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تمھیں اس سے غنی نہیں کر دیا جو تم دیکھ رہے ہو؟ انھوں نے عرض کی: کیوں نہیں، تیری عزت کی قسم! لیکن میرے لیے تیری برکت سے کسی طرح بے پروائی ممکن نہیں۔
اس کے علاوہ ایوب علیہ السلام کے متعلق تمام اقوال تابعین یا صحابہ سے مروی ہیں اور سب وہب بن منبہ کے بیان ہی کا خلاصہ یا تفصیل ہیں، جو صاف ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل سے لیے گئے ہیں۔ حقیقت صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اور جس کا خلاصہ اس آیت کے فائدہ نمبر (۱) میں گزر چکا ہے۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان پر اپنے پاس سے یا ان اہلِ کتاب سے لے کر اضافہ کرے جنھوں نے انبیاء پر تہمتیں باندھیں، بلکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں بخشا اور کہہ دیا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۱) اور یہ کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ غُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا [المائدۃ: ۶۴] انھی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کی باتوں کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔
➎ ابوشہبہ فرماتے ہیں، ہمیں جو عقیدہ رکھنا واجب ہے وہ یہ ہے کہ ایوب علیہ السلام کی آزمائش یقینا ہوئی، ان پر جسم اور اہلِ مال کی شدید تکلیف آئی، جس پر انھوں نے ایسا صبر کیا کہ صبر میں ضرب المثل بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس پر ان کی تعریف فرمائی، مگر ان کی آزمائش اس حد تک نہیں پہنچی جو ان جھوٹی داستانوں میں بیان ہوئی ہے کہ انھیں جذام (کوڑھ) ہو گیا، ان کے سارے جسم پر پھوڑے بن گئے، انھیں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ ان کے جسم میں کیڑے رینگتے پھرتے تھے اور ہڈیوں اور پٹھوں کے سوا سارا گوشت جھڑ گیا تھا اور ان سے دور ہی سے بدبو آتی تھی وغیرہ۔ ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے کہیں معزز ومکرم تھے کہ انھیں کوڑے پر پھینک دیا جائے، یا وہ ایسے مرض میں مبتلا ہوں جس سے لوگ ان کی دعوت سے متنفر ہوں۔ اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہی اس قدر معیوب حالت میں ہو تو ایسی دعوت کا کیا فائدہ اور اس سے حاصل کیا ہو گا؟ پھر انبیاء ہمیشہ اپنی قوم کے اونچے نسب میں سے مبعوث کیے جاتے رہے ہیں (جیسا کہ حدیثِ ہرقل میں ہے)۔ ایوب علیہ السلام کی ایسی حالت میں ان کا قبیلہ کہاں تھا کہ ان کی حفاظت کرتا، ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرتا، بجائے اس کے کہ ان کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کرے، بلکہ اپنے سر کے بال فروخت کرتی پھرے اور ان پر ایمان لانے والے کہاں گئے، کیا سب انھیں چھوڑ گئے، کیا ایمان کا تقاضا یہی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی ساری داستانیں بے بنیاد ہیں، نہ عقل سلیم انھیں تسلیم کرتی ہے اور نہ صحیح نقل۔ ایوب علیہ السلام پر آنے والی بیماری ایسی ہر گز نہ تھی جس سے نفرت پیدا ہو، کیونکہ یہ ان کے منصب ہی کے خلاف تھا، بلکہ وہ اس قسم کی کوئی بیماری تھی جس کا جسم پر کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا، مثلاً کوئی جسمانی درد، ریوماٹزم، جوڑوں یا ہڈیوں وغیرہ کی تکلیف۔ جب اللہ کا فضل ہوا تو زمین پر پاؤں مارنے کے نتیجے میں نمودار ہونے والے چشمے کا ٹھنڈا پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے مکمل شفایاب ہو گئے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ کی بات دل کو بہت لگتی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایوب علیہ السلام کے معاملے میں کوئی بات ثابت نہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی کتاب میں دو مقامات پر بتائی ہے، ایک: «{ وَ اَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ [الأنبیاء: ۸۳] اور دوسری: «{ رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍ [صٓ: ۴۱] رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! تو آپ سے اس حدیث کے سوا ایوب علیہ السلام کے متعلق ایک حرف بھی ثابت نہیں جس میں ان پر غسل کے دوران سونے کی ٹڈیاں گرنے کا ذکر ہے۔ پھر جب اس کے سوا قرآن اور حدیث میں کوئی بات ثابت ہی نہیں تو وہ کون صاحب ہیں جنھوں نے ایوب علیہ السلام کا حال آنکھوں سے دیکھا یا کانوں سے سنا؟ رہی اسرائیلی روایات! تو وہ علماء کے نزدیک قطعی طور پر متروک ہیں، اس لیے ان کے پڑھنے سے اپنی نگاہیں بچا کر رکھو اور ان کے سننے سے اپنے کان بند رکھو۔ کیونکہ وہ تمھاری سوچ میں محض خیال کا اور دل میں صرف خرابی کا اضافہ کریں گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! كَيْفَ تَسْأَلُوْنَ أَهْلَ الْكِتَابِ؟ وَكِتَابُكُمُ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلٰی نَبِيِّهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللّٰهِ تَقْرَؤُوْنَهٗ لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللّٰهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ وَغَيَّرُوْا بِأَيْدِهِمُ الْكِتَابَ فَقَالُوْا: «{ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا [البقرة: ۷۹] أَفَلاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ؟ وَلَا وَاللّٰهِ! مَا رَأَيْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ] [بخاري، الشھادات، باب لا یسأل أھل الشرک عن الشھادۃ وغیرھا: ۲۶۸۵] اے مسلمانو کی جماعت! تم اہل کتاب سے کس طرح سوال کرتے ہو، جب کہ تمھاری کتاب، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی خبروں میں سے سب سے تازہ ہے۔ تم اسے اس حال میں پڑھتے ہو کہ اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں بتا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو لکھا تھا اہلِ کتاب نے اسے بدل دیا اور انھوں نے اپنے ہاتھوں سے اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ساتھ بہت تھوڑی قیمت حاصل کریں۔ تو کیا تمھارے پاس جو علم آیا ہے وہ تمھیں ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کرتا؟ نہیں! قسم ہے اللہ کی! ہم نے ان میں سے کسی آدمی کو کبھی تم سے اس کے متعلق سوال کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو تم پر نازل کیا گیا ہے۔ آخر میں ابوشہبہ نے آلوسی، طبری اور دوسرے علماء سے اس مفہوم کی عبارتیں نقل کی ہیں۔ ایوب علیہ السلام کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ صٓ (۴۱ تا ۴۴)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ اور یہی نعمت ہم نے ایوب کو بھی دی تھی جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا: ”مجھے بیماری لگ گئی [73] ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے“
[73] سیدنا ایوب کس دور میں مبعوث ہوئے؟ یا کس علاقہ میں مبعوث ہوئے؟ آپ نے تبلیغ کا فریضہ کتنا عرصہ سرانجام دیا؟ اور آپ کے ساتھ آپ کی قوم نے کیا سلوک کیا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کی تفصیل کتاب و سنت میں مذکور نہیں۔ قیاس سے آپ کے دور نبوت کی جو تعیین کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ حضرت یوسفؑ اور حضرت شعیبؑ کے درمیانی زمانہ میں یعنی تقریباً ڈیڑھ ہزار قبل مسیح مبعوث ہوئے تھے۔
سیدنا ایوب کی بیماری اور صبر:۔
کتاب و سنت نے حضرت ایوبؑ کی جس خصوصیت سے ہمیں متعارف کرایا ہے۔ وہ آپ کا صبر ہے۔ آپ کا ابتدائی زمانہ نہایت خوشحالی کا دور تھا۔
مال کی سب اقسام:
اولاد، بیویاں، جائیداد غرضیکہ سب کچھ وافر مقدار میں عطا ہوا تھا اور آپ کثرت اموال و اراضی میں مشہور تھے۔ اس دور میں آپ ہمیشہ اللہ کا شکر بجا لاتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسری طرح آزمانا چاہا اور آپ پر ابتلا کا دور جو آیا کہ ہر چیز ہاتھ سے نکل گئی۔ اور اپنا یہ حال تھا کہ کسی طویل بیماری میں مبتلا ہو گئے اور ایسے بیمار پڑے کہ ایک بیوی کے سوا سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بلکہ لوگوں نے اپنی بستی سے باہر نکال دیا۔ اس ابتلاء کے طویل دور میں آپ نے صبر استقامت کا ایسا بے مثال مظاہرہ کیا جو ضرب المثل بن چکا ہے۔ صحیح روایات کے مطابق آپ کے ابتلاء کا دور 12 سال ہے۔ پھر جب اللہ سے اپنی بیماری کے لئے دعا کی تو اس دعا میں شکوہ و شکایت نام کو نہیں۔ بلکہ عرض مدعا نہیں، کسی چیز کا مطالبہ نہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی انتہائی صابر، قانع اور خوددار آدمی اپنے مالک کو کوئی بات یاد کرا رہا ہو۔ کہا تو صرف اتنا کہا کہ پروردگار! میں طویل مدت سے بیمار ہوں اور تو «ارحم الراحمين» ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آزمائش اور مصائب ایوب علیہ السلام ٭٭
حضرت ابوب علیہ السلام کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال ومتاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ علیہ السلام کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ علیہ السلام کی ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے اور کوئی آپ علیہ السلام کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کر لیا۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کر کے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ { سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے }۔ ؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ایوب علیہ السلام بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے۔
یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اہل و عیال مرگئے مال فنا ہوگیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی۔ آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان فکروں سے پاک کر دیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا۔‏‏‏‏ ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:589/4:ضعیف]‏‏‏‏
آپ علیہ السلام کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی اے اللہ تو نے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور و تکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضا مندی کی طلب میں میں اپنی راحت و آرام کو ترک کر دیا کرتا۔‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ مدتوں تک آپ علیہ السلام ان بلاؤں میں مبتلا رہے۔
حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں سات سال اور کئی ماہ آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔ بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ علیہ السلام کو ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے، پھر اللہ نے آپ علیہ السلام پر رحم و کرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجر دیا اور تعریفیں کیں۔‏‏‏‏
وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ پورے تین سال آپ علیہ السلام اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑا رہ گیا۔ آپ علیہ السلام دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ علیہ السلام کے پاس تھیں۔ جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ اے نبی اللہ علیہ السلام آپ علیہ السلام اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔‏‏‏‏ آپ علیہ السلام فرمانے لگے سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت وعافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔‏‏‏‏ اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتیں پلاتیں۔
آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جاکر شیطان نے خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفاء ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ دونوں آئے ایوب علیہ السلام کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے۔
آپ علیہ السلام نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے؟ آپ علیہ السلام نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری؟
وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفاء ہو جائے گی یہ شراب ہے۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔‏‏‏‏ یہ دونوں آپ علیہ السلام کے پاس سے چلے گئے۔
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے کہا یہ آج کہاں سے لائیں؟ انہوں نے ساراواقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔‏‏‏‏
آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لیے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے یہ دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقعہ پر پہنچی۔
ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہو جائے گی پھر توبہ کر لیں۔ جب آپ ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ علیہ السلام نے فرمایا شیطان خبیث کاجادو تجھ پر چل گیا۔ میں تندرست ہو گیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔‏‏‏‏
ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت ایوب علیہ السلام کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کر دی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا۔ جسے لے کر آپ آئیں، ایوب علیہ السلام نے پوچھا یہ آج اتنا سارا اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا؟ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے کھا لیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کر دی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتا دے کہ کیسے لائی؟ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سرکے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔‏‏‏‏
حضرت نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو شیطان ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ ایوب علیہ السلام کی بیوی صاحبہ عموماً آپ علیہ السلام سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو۔ لیکن آپ علیہ السلام نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور آپ علیہ السلام کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ دعا نکل گئی۔‏‏‏‏
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لیے آئے۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے ایوب علیہ السلام کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ علیہ السلام کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔‏‏‏‏ اُسی وقت آسمان سے آپ علیہ السلام کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔
پھر فرمایا کہ پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر۔‏‏‏‏ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔
پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے کہ اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کر دے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔‏‏‏‏ چنانچہ یہ دعاقبول ہوئی۔ اور اس سے پہلے کہ آپ علیہ السلام سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہو گئیں جو آپ علیہ السلام پر اتری تھیں۔
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو۔ آپ علیہ السلام اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہو گئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لیے لے جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ ’ اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو ‘ } } اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/23:]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے جنت کا حلہ نازل فرما دیا جسے پہن کر آپ علیہ السلام یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ علیہ السلام کو نہ پہچان سکیں تو، آپ علیہ السلام سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بے کس، بے بس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں؟
تب آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں نہیں وہ بیمار ایوب (‏‏‏‏علیہ السلام) میں ہی ہوں۔‏‏‏‏ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفا دے دی اور یہ رنگ روپ بھی۔‏‏‏‏
آپ علیہ السلام کا مال آپ کو واپس دیا گیا، آپ علیہ السلام کی اولاد وہی آپ علیہ السلام کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ ’ قربانی کرو اور استغفار کرو، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کرلی تھی ‘۔
اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے؟ ۱؎ [مسند احمد:314/2:]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں وہی لوگ واپس کئے گئے۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:506/18:]‏‏‏‏ آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام رحمت تھا۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں۔ ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں لیا بتایا ہے۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ لیا یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ایوب علیہ السلام کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھیں۔ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ ’ تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں ‘ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔
پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔ ’ یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لیے نصیحت وعبرت تھی ‘، آپ علیہ السلام اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لیے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں، بے صبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں۔
ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر، اس کے امتحان پر انسان کو صبر و برداشت کرنی چاہیئے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے۔