وَ مِنَ الشَّیٰطِیۡنِ مَنۡ یَّغُوۡصُوۡنَ لَہٗ وَ یَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَ کُنَّا لَہُمۡ حٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾
اور کئی شیطان جو اس کے لیے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے۔
اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے
اسی طرح سے بہت سے شیاطین بھی ہم نے اس کے تابع کیے تھے جو اس کے فرمان سے غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی بہت سے کام کرتے تھے، ان کے نگہبان ہم ہی تھے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 82) ➊ { وَ مِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ:} اللہ تعالیٰ نے ہوا کے علاوہ کئی شیطان جن بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیے۔ گویا عناصر اربعہ میں سے ہوا کے علاوہ آگ سے بنی ہوئی کچھ مخلوق بھی ان کے تابع فرمان کر دی گئی، پھر اس مخلوق کے ذریعے سے غوطہ خوری کے ساتھ بہت سے سمندری منافع حاصل کرنے کی استطاعت بخشی اور انھی کے ذریعے سے مٹی اور اس سے نکلنے والے پتھر وغیرہ سے ہر وہ چیز بنانا ان کی دسترس میں کر دیا جو وہ بنانا چاہتے تھے۔ گویا تسخیر عناصر کی عجیب نعمت انھیں عطا فرمائی گئی۔ (بقاعی) بعض منحرف مفسرین کا کہنا ہے کہ شیاطین کا لفظ جن و انس دونوں پر آ جاتا ہے، جیسا کہ سورۂ انعام (۱۱۲) میں {” شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ “} کا ذکر ہے، اس لیے دراصل یہ سرکش اور قوی قسم کے دیہاتی لوگ تھے، جن سے سلیمان علیہ السلام غوطہ خوری اور عمارات کی تعمیر کا کام لیتے تھے۔ مگر سورۂ سبا میں صراحت ہے: «{ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ وَ مَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ (12) يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَ تَمَاثِيْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ }» [سبا: ۱۲، ۱۳] ”اور جنوں میں سے کچھ وہ تھے جو اس کے سامنے اس کے رب کے اذن سے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے کجی کرتا ہم اسے بھڑکتی آگ کا کچھ عذاب چکھاتے تھے۔ وہ اس کے لیے بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا، بڑی بڑی عمارتیں، مجسّمے اور حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔ اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔“ سورۂ سبا (۱۴) ہی میں ذکر ہے کہ ان جنوں کے متعلق بعض لوگوں کا عقیدہ تھا کہ وہ غیب دان ہیں مگر جنوں کو سلیمان علیہ السلام کی وفات کا علم اس وقت تک نہ ہوا جب تک دیمک نے ان کی لاٹھی کو کھا نہیں لیا، پھر جب سلیمان علیہ السلام گرے تو جنوں کی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلیل عذاب (عمارتیں وغیرہ بنانے کے کام) میں نہ رہتے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غوطہ خوری اور دوسرے دشوار کاموں کے لیے جنوں میں سے کچھ شیاطین کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کیا تھا، ورنہ دیہاتی سرکش اور قوی انسان تو سلیمان علیہ السلام سے پہلے بھی عمارتیں بناتے تھے اور اب بھی بناتے ہیں، پھر سلیمان علیہ السلام کی وہ بے مثال سلطنت کیا ہوئی جس جیسی سلطنت ان کے بعد کسی کے لائق ہی نہیں ہے۔
➋ { وَ يَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ:} اس کی تفصیل کچھ پچھلے فائدے میں گزری ہے، کچھ سورۂ سبا (۱۲ تا ۱۴) میں آئے گی۔
➌ { وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِيْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی قدرت سے سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا اور خود ان کی حفاظت فرمائی کہ نہ وہ بھاگ سکتے تھے، نہ ان کی نافرمانی کر سکتے تھے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتے تھے اور نہ کوئی چیز یا کوئی کام خراب کر سکتے تھے، کیونکہ جو ان کے حکم سے ذرا بھی سرتابی کرتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بھڑکتی ہوئی آگ سے سزا دی جاتی، فرمایا: «{ وَ مَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ }» [سبا: ۱۲] ”اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے کجی کرتا ہم اسے بھڑکتی آگ کا کچھ عذاب چکھاتے تھے۔“ اور جو زیادہ ہی سرکشی دکھانے والے تھے انھیں بیڑیوں میں اکٹھے جکڑنے کا بندوبست موجود تھا، فرمایا: «{ وَ اٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ }» [صٓ: ۳۸] ”اور کچھ اوروں کو بھی (تابع کر دیا) جو بیڑیوں میں اکٹھے جکڑے ہوئے تھے۔“ ظاہر ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا، ورنہ انسان کی کیا بساط کہ اتنی خوفناک قوتوں کو قابو میں رکھ سکے۔
➍ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلیمان علیہ السلام کے تابع جو جن کیے گئے تھے وہ کافر تھے، کیونکہ شیطان کا کفر معلوم ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتے تو خود ہی اللہ کے پیغمبر کے تابع ہو جاتے، پھر ان کی خاص حفاظت کی ضرورت نہ تھی۔
➎ سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اگر کوئی شخص کوئی جن پکڑ لے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃِ فطر کی حفاظت کرتے ہوئے تین دفعہ شیطان کو پکڑا تھا، تو اللہ کی طرف سے اس کے لیے ان کے نقصان سے حفاظت کا کوئی ذمہ نہیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سرکش جن کو پکڑ کر چھوڑ دیا تھا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں: [إِنَّ عِفْرِيْتًا مِّنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلاَتِيْ فَأَمْكَنَنِيَ اللّٰهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبُطَهُ عَلٰی سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حتَّی تَنْظُرُوْا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِيْ سُلَيْمَانَ: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [صٓ: ۳۵] فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا] ”ایک سرکش جن گزشتہ رات مجھ پر حملہ آور ہوا، تاکہ مجھ پر میری نماز قطع کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ تم سب اسے دیکھو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد آ گئی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ تو میں نے اسے دفع دور کرتے ہوئے پیچھے دھکیل دیا۔“ [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «ووھبنا لداوٗد سلیمان …» : ۳۴۲۳]
➋ { وَ يَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ:} اس کی تفصیل کچھ پچھلے فائدے میں گزری ہے، کچھ سورۂ سبا (۱۲ تا ۱۴) میں آئے گی۔
➌ { وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِيْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی قدرت سے سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا اور خود ان کی حفاظت فرمائی کہ نہ وہ بھاگ سکتے تھے، نہ ان کی نافرمانی کر سکتے تھے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتے تھے اور نہ کوئی چیز یا کوئی کام خراب کر سکتے تھے، کیونکہ جو ان کے حکم سے ذرا بھی سرتابی کرتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بھڑکتی ہوئی آگ سے سزا دی جاتی، فرمایا: «{ وَ مَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ }» [سبا: ۱۲] ”اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے کجی کرتا ہم اسے بھڑکتی آگ کا کچھ عذاب چکھاتے تھے۔“ اور جو زیادہ ہی سرکشی دکھانے والے تھے انھیں بیڑیوں میں اکٹھے جکڑنے کا بندوبست موجود تھا، فرمایا: «{ وَ اٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ }» [صٓ: ۳۸] ”اور کچھ اوروں کو بھی (تابع کر دیا) جو بیڑیوں میں اکٹھے جکڑے ہوئے تھے۔“ ظاہر ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا، ورنہ انسان کی کیا بساط کہ اتنی خوفناک قوتوں کو قابو میں رکھ سکے۔
➍ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلیمان علیہ السلام کے تابع جو جن کیے گئے تھے وہ کافر تھے، کیونکہ شیطان کا کفر معلوم ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتے تو خود ہی اللہ کے پیغمبر کے تابع ہو جاتے، پھر ان کی خاص حفاظت کی ضرورت نہ تھی۔
➎ سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اگر کوئی شخص کوئی جن پکڑ لے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃِ فطر کی حفاظت کرتے ہوئے تین دفعہ شیطان کو پکڑا تھا، تو اللہ کی طرف سے اس کے لیے ان کے نقصان سے حفاظت کا کوئی ذمہ نہیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سرکش جن کو پکڑ کر چھوڑ دیا تھا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں: [إِنَّ عِفْرِيْتًا مِّنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلاَتِيْ فَأَمْكَنَنِيَ اللّٰهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبُطَهُ عَلٰی سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حتَّی تَنْظُرُوْا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِيْ سُلَيْمَانَ: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [صٓ: ۳۵] فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا] ”ایک سرکش جن گزشتہ رات مجھ پر حملہ آور ہوا، تاکہ مجھ پر میری نماز قطع کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ تم سب اسے دیکھو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد آ گئی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ تو میں نے اسے دفع دور کرتے ہوئے پیچھے دھکیل دیا۔“ [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «ووھبنا لداوٗد سلیمان …» : ۳۴۲۳]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
82۔ 1 جنات بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع تھے جو ان کے حکم سے سمندروں میں غوتے لگاتے اور موتی اور جواہر نکال لاتے، اسی طرح دیگر عمارتی کام، جو آپ چاہتے کرتے تھے۔ 82۔ 2 یعنی جنوں کے اندر جو سرکشی اور فساد کا مادہ ہے، اس سے ہم نے سلیمان ؑ کی حفاظت کی اور وہ ان کے آگے سرتابی کی مجال نہیں رکھتے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ شیطانوں کو بھی اس کے تابع بنا دیا تھا جو اس کے لئے (سمندر میں موتی، جواہرات نکالنے کے لئے) غوطہ لگاتے [71] اور اس کے علاوہ اور بھی کئی کام کرتے تھے اور ہم ہی ان سب کے محافظ [72] تھے۔
[71] جن سے مراد دیہاتی لوگ جنوں پر حکومت:۔
جو حضرات معجزات کی تاویل کرنے کے عادی ہیں اور جب تک وہ انھیں طبعی امور کے تابع نہ بنا لیں انھیں چین نہیں آتا۔ وہ اس آیت میں شیطانوں سے مراد دیہاتی طاقتور انسان لیتے ہیں۔ حالانکہ دیہاتی طاقتور لوگ بھی انسان ہی ہوتے ہیں ان کے دیہاتی یا طاقتور ہونے سے ان کی نوع نہیں بدل جاتی۔ دنیا میں جتنی بھی فلک بوس عمارتیں ہیں یا بھاری کام ہوتے ہیں۔ یہ سب کام دیہاتی طاقتور ہی سرانجام دیتے ہیں۔ یہ شہری نازنینوں کا کام نہیں ہوتا۔ اور دیہاتی طاقتور ہر بادشاہ بلکہ ہر سرمایہ دار کو آسانی سے میسر آسکتے ہیں۔ پھر اس میں حضرت سلیمانؑ کی کیا خصوصیت رہی جن کے خادمین میں اللہ نے بطور خاص جنوں کا نام لیا ہے۔
[72] یعنی ہم نے ان شیطانوں کو سلیمانؑ کے تابع فرمان بنا رکھا تھا۔ وہ نہ ان کی حکم عدولی کر سکتے تھے اور نہ ان کے ہاں سے بھاگ سکتے تھے اور یہ سلیمانؑ کا کوئی ذاتی کمال نہ تھا۔ بلکہ شیطان ان کے تابع فرمان رہنے پر اس لئے مجبور تھے کہ ہم خود ان کے محافظ تھے۔
[72] یعنی ہم نے ان شیطانوں کو سلیمانؑ کے تابع فرمان بنا رکھا تھا۔ وہ نہ ان کی حکم عدولی کر سکتے تھے اور نہ ان کے ہاں سے بھاگ سکتے تھے اور یہ سلیمانؑ کا کوئی ذاتی کمال نہ تھا۔ بلکہ شیطان ان کے تابع فرمان رہنے پر اس لئے مجبور تھے کہ ہم خود ان کے محافظ تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
حضرت ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داؤد علیہ السلام کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد علیہ السلام کی آواز کیسی ہو گی؟
پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں ‘۔ آپ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/18:]
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [34-سبأ:11-10] ’ ہم نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں ‘۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکر گزاری کرنی چاہے۔
«غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ» ۱؎ [34-سبأ:12] ’ ہم نے زور آور ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی، ہمیں ہرچیز کا علم ہے ‘۔
آپ علیہ السلام اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ علیہ السلام پر سایہ ڈالتے۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ» ۱؎ [38-ص:36]۔ یعنی ’ ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کر لیتی ‘۔
پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں ‘۔ آپ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/18:]
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [34-سبأ:11-10] ’ ہم نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں ‘۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکر گزاری کرنی چاہے۔
«غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ» ۱؎ [34-سبأ:12] ’ ہم نے زور آور ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی، ہمیں ہرچیز کا علم ہے ‘۔
آپ علیہ السلام اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ علیہ السلام پر سایہ ڈالتے۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ» ۱؎ [38-ص:36]۔ یعنی ’ ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کر لیتی ‘۔
حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ علیہ السلام کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ علیہ السلام کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ علیہ السلام کو لے چلتی۔“
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہو جاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ علیہ السلام کو بلندی پر لے جاتی آپ علیہ السلام اس وقت سرنیچا کر لیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ علیہ السلام کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ علیہ السلام کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ علیہ السلام حکم دیتے وہیں ہوا آپ علیہ السلام کو اتار دیتی۔“
اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے قبضے میں کر دیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» ۱؎ [38-ص:37-38]، ’ ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کر دیا تھا جو معمار تھے اور غوطہٰ خور ‘۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ و نگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کر لیتے جسے چاہتے آزاد کر دیتے اسی کو فرمایا کہ ’ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے ‘۔
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہو جاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ علیہ السلام کو بلندی پر لے جاتی آپ علیہ السلام اس وقت سرنیچا کر لیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ علیہ السلام کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ علیہ السلام کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ علیہ السلام حکم دیتے وہیں ہوا آپ علیہ السلام کو اتار دیتی۔“
اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے قبضے میں کر دیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» ۱؎ [38-ص:37-38]، ’ ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کر دیا تھا جو معمار تھے اور غوطہٰ خور ‘۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ و نگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کر لیتے جسے چاہتے آزاد کر دیتے اسی کو فرمایا کہ ’ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے ‘۔