وَ لِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ عَاصِفَۃً تَجۡرِیۡ بِاَمۡرِہٖۤ اِلَی الۡاَرۡضِ الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا ؕ وَ کُنَّا بِکُلِّ شَیۡءٍ عٰلِمِیۡنَ ﴿۸۱﴾
اور سلیمان کے لیے ہوا (مسخر کر دی) جو تندوتیز تھی، اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے تھے۔
اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں
ہم نے تند وتیز ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کر دیا جو اس کے فرمان کے مطابق اس زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی، اور ہم ہر چیز سے باخبر اور دانا ہیں
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 81) ➊ { وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً:} اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا تو اس نے نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو چھوڑ کر ان کی ساری قوم کو غرق کر دیا۔ آگ کو حکم دیا تو وہ ابراہیم علیہ السلام پر برد و سلام بن گئی۔ داؤد علیہ السلام کے ساتھ تسبیح کے لیے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا، فرمایا: «{ وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَ الطَّيْرَ }» [الأنبیاء: ۷۹] مگر پانی یا آگ کو نوح یا ابراہیم علیھما السلام کے تابع فرمان نہیں کیا، نہ پہاڑوں یا پرندوں کو داؤد علیہ السلام کے حکم کا پابند کیا، مگر سلیمان علیہ السلام کا خاصہ یہ ہے کہ ہوا ان کے حکم کے تابع کر دی گئی، فرمایا: «{ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ }» کہ وہ اس کے حکم سے چلتی تھی۔
➋ {” عَاصِفَةً “} کا معنی ہے {”شَدِيْدَةُ الْهُبُوْبِ“} بہت سخت تیز چلنے والی ہوا۔ سورۂ ص میں فرمایا: «{ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَيْثُ اَصَابَ }» [صٓ: ۳۶] ”تو ہم نے اس کے لیے ہوا کو تابع کر دیا، جو اس کے حکم سے بہت نرم چلتی تھی، جہاں کا وہ ارادہ کرتا تھا۔“ اور سورۂ سبا میں فرمایا: «{ وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ }» [سبا: ۱۲] ”اور (ہم نے) ہوا کو سلیمان کے (تابع کر دیا) پہلے پہر اس کا چلنا ایک ماہ کا تھا اور پچھلے پہر اس کا چلنا بھی ایک ماہ کا۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ ایک جگہ اس کو تند و تیز بتایا، دوسری جگہ نہایت نرم؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس ہوا میں دونوں خوبیاں موجود ہوتی تھیں، تند و تیز اتنی کہ صبح کے وقت چند گھنٹوں میں ایک ماہ کا سفر طے کر لیتی، اسی طرح پچھلے پہر بھی چند گھنٹوں میں اتنا ہی سفر طے کر لیتی اور نرم اور ہموار اتنی کہ سلیمان علیہ السلام اور ان کے ہمراہیوں کو کوئی تکلیف یا جھٹکا محسوس نہ ہوتا۔
➌ { تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا:} قرآن مجید میں ارضِ مبارک شام کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل۔ اس آیت میں سلیمان علیہ السلام کے اپنے کسی بھی سفر سے ان کے دار الحکومت شام کی طرف واپسی کا ذکر ہے، کیونکہ بعض اوقات آدمی سفر میں جاتے ہوئے بہت دور پہنچ جاتا ہے اور واپسی اس کے لیے مشکل ہوتی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہوا سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ارض مبارک کی طرف چلتی تھی۔ رہا سلیمان علیہ السلام کا دوسرے مقامات کی طرف جانا، تو اس کا ذکر سورۂ ص (۳۶) میں ہے کہ ہوا ان کے حکم سے اسی طرف چل پڑتی تھی جہاں ان کا ارادہ ہوتا، جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا ہے۔
➍ ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے لیے مسخر کرنے سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسرین نے اس سے ہوا کا ان کے بحری بیڑوں کے موافق چلنا مراد لیا ہے، کیونکہ اس زمانے میں بحری جہازوں کا چلنا موافق ہوا پر موقوف تھا۔ یہ حضرات بائبل کا حوالہ دیتے ہیں۔ بعض تابعین نے کہا کہ سلیمان علیہ السلام اور ان کی افواج لکڑی کے بہت لمبے چوڑے چبوترے پر بیٹھ جاتے تو سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ہوا انھیں اٹھا کر ان کی منزل مقصود کی طرف چل پڑتی۔ بعض نے اس طرح کے ایک مربع میل قالین کا ذکر کیا ہے۔ ظاہر ہے ان میں سے کوئی صاحب بھی موقع پر موجود نہیں تھا اور نہ انھوں نے اپنی معلومات کا کوئی ذریعہ بیان کیا ہے۔ رہی بائبل، تو اس کی حیثیت مقدمے میں تفصیل سے بیان ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ ص میں ذکر فرمایا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے دعا کی تھی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [صٓ: ۳۵] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ اس دعا کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ہوا ان کے تابع کر دی کہ ان کے حکم سے وہ جہاں کا ارادہ کرتے چل پڑتی تھی۔ آج کل انسان مہینوں کا سفر گھنٹوں میں ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے کر رہا ہے، اگر سمندری سفر کی تیزی ہی مراد ہو تو یہ وہ سلطنت تو ہر گز نہیں جو سلیمان علیہ السلام کے بعد کسی کے لائق ہی نہیں۔ کیونکہ ہوائی جہاز سمندر ہی نہیں خشکی کو بھی عبور کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ تقریباً ہر ملک میں موجود ہیں۔ اس لیے ماننا پڑے گا کہ ان کے لیے ہوا کی وہ تسخیر ہوائی جہازوں اور اس قسم کے آلات کی محتاج نہ تھی، بلکہ وہ اس سے بہت اعلیٰ چیز تھی جس کی بدولت وہ ہوا کے ذریعے سے سمندروں اور خشکی پر مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے ہوئے جہاں چاہتے چلے جاتے تھے۔ اس کی تفصیل اگر انسان کی سمجھ میں آ سکتی یا اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ بیان فرما دیتا، ہمیں اتنا ہی کافی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا۔
➎ { وَ كُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عٰلِمِيْنَ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تند و تیز ہوا نہایت نرمی سے چلتی ہوئی سلیمان علیہ السلام کو لے کر مہینوں کا سفر پہروں میں طے کر لے؟ فرمایا، ہم ہمیشہ سے ہر چیز کا علم رکھتے ہیں اور ہمارے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔
➋ {” عَاصِفَةً “} کا معنی ہے {”شَدِيْدَةُ الْهُبُوْبِ“} بہت سخت تیز چلنے والی ہوا۔ سورۂ ص میں فرمایا: «{ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَيْثُ اَصَابَ }» [صٓ: ۳۶] ”تو ہم نے اس کے لیے ہوا کو تابع کر دیا، جو اس کے حکم سے بہت نرم چلتی تھی، جہاں کا وہ ارادہ کرتا تھا۔“ اور سورۂ سبا میں فرمایا: «{ وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ }» [سبا: ۱۲] ”اور (ہم نے) ہوا کو سلیمان کے (تابع کر دیا) پہلے پہر اس کا چلنا ایک ماہ کا تھا اور پچھلے پہر اس کا چلنا بھی ایک ماہ کا۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ ایک جگہ اس کو تند و تیز بتایا، دوسری جگہ نہایت نرم؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس ہوا میں دونوں خوبیاں موجود ہوتی تھیں، تند و تیز اتنی کہ صبح کے وقت چند گھنٹوں میں ایک ماہ کا سفر طے کر لیتی، اسی طرح پچھلے پہر بھی چند گھنٹوں میں اتنا ہی سفر طے کر لیتی اور نرم اور ہموار اتنی کہ سلیمان علیہ السلام اور ان کے ہمراہیوں کو کوئی تکلیف یا جھٹکا محسوس نہ ہوتا۔
➌ { تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا:} قرآن مجید میں ارضِ مبارک شام کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل۔ اس آیت میں سلیمان علیہ السلام کے اپنے کسی بھی سفر سے ان کے دار الحکومت شام کی طرف واپسی کا ذکر ہے، کیونکہ بعض اوقات آدمی سفر میں جاتے ہوئے بہت دور پہنچ جاتا ہے اور واپسی اس کے لیے مشکل ہوتی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہوا سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ارض مبارک کی طرف چلتی تھی۔ رہا سلیمان علیہ السلام کا دوسرے مقامات کی طرف جانا، تو اس کا ذکر سورۂ ص (۳۶) میں ہے کہ ہوا ان کے حکم سے اسی طرف چل پڑتی تھی جہاں ان کا ارادہ ہوتا، جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا ہے۔
➍ ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے لیے مسخر کرنے سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسرین نے اس سے ہوا کا ان کے بحری بیڑوں کے موافق چلنا مراد لیا ہے، کیونکہ اس زمانے میں بحری جہازوں کا چلنا موافق ہوا پر موقوف تھا۔ یہ حضرات بائبل کا حوالہ دیتے ہیں۔ بعض تابعین نے کہا کہ سلیمان علیہ السلام اور ان کی افواج لکڑی کے بہت لمبے چوڑے چبوترے پر بیٹھ جاتے تو سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ہوا انھیں اٹھا کر ان کی منزل مقصود کی طرف چل پڑتی۔ بعض نے اس طرح کے ایک مربع میل قالین کا ذکر کیا ہے۔ ظاہر ہے ان میں سے کوئی صاحب بھی موقع پر موجود نہیں تھا اور نہ انھوں نے اپنی معلومات کا کوئی ذریعہ بیان کیا ہے۔ رہی بائبل، تو اس کی حیثیت مقدمے میں تفصیل سے بیان ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ ص میں ذکر فرمایا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے دعا کی تھی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [صٓ: ۳۵] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ اس دعا کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ہوا ان کے تابع کر دی کہ ان کے حکم سے وہ جہاں کا ارادہ کرتے چل پڑتی تھی۔ آج کل انسان مہینوں کا سفر گھنٹوں میں ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے کر رہا ہے، اگر سمندری سفر کی تیزی ہی مراد ہو تو یہ وہ سلطنت تو ہر گز نہیں جو سلیمان علیہ السلام کے بعد کسی کے لائق ہی نہیں۔ کیونکہ ہوائی جہاز سمندر ہی نہیں خشکی کو بھی عبور کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ تقریباً ہر ملک میں موجود ہیں۔ اس لیے ماننا پڑے گا کہ ان کے لیے ہوا کی وہ تسخیر ہوائی جہازوں اور اس قسم کے آلات کی محتاج نہ تھی، بلکہ وہ اس سے بہت اعلیٰ چیز تھی جس کی بدولت وہ ہوا کے ذریعے سے سمندروں اور خشکی پر مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے ہوئے جہاں چاہتے چلے جاتے تھے۔ اس کی تفصیل اگر انسان کی سمجھ میں آ سکتی یا اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ بیان فرما دیتا، ہمیں اتنا ہی کافی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا۔
➎ { وَ كُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عٰلِمِيْنَ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تند و تیز ہوا نہایت نرمی سے چلتی ہوئی سلیمان علیہ السلام کو لے کر مہینوں کا سفر پہروں میں طے کر لے؟ فرمایا، ہم ہمیشہ سے ہر چیز کا علم رکھتے ہیں اور ہمارے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
81۔ 1 یعنی جس طرح پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد ؑ کے لئے مسخر کردیئے تھے، اسی طرح ہوا حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردی گئی تھی۔ وہ اپنے وزرا سلطنت سمیت تخت پر بیٹھ جاتے تھے اور جہاں چاہتے، مہینوں کی مسافت، لمحوں اور ساعتوں میں طے کرکے وہاں پہنچ جاتے، ہوا آپ کے تخت کو اڑا کرلے جاتی۔ بابرکت زمین سے مراد شام کا علاقہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ نیز ہم نے سلیمان کے لئے تند و تیز ہوا کو مسخر کر دیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین [69] کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور ہم ہر چیز کو خوب [70] جانتے ہیں۔
[69] سیدنا سلیمانؑ کے لیے ہوا کی تسخیر:۔
پہلے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانؑ کے فیصلے کا ذکر ہوا۔ بعد میں ان پر انعامات کا۔ حضرت سلیمانؑ کو ایک معجزہ تو یہ عطا ہوا کہ تند و تیز ہوا ان کے لئے مسخر کر دی گئی تھی۔ وہ ہوا کو جس طرح کا حکم دیتے وہ آپ کے تابع فرمان رہتی اور اس طرح آپ ایک ماہ کا سفر صرف چند گھنٹوں یعنی 3 سے 6 گھنٹوں کے درمیان کر لیا کرتے تھے۔ قرآن کریم کی تصریحات سے یہی کچھ ثابت ہے اور اس کی ایک توجیہ، جو عام طور پر مشہور ہے، یہ کی گئی ہے کہ آپ نے ایک بہت بڑا تخت بنو ایا تھا۔ جب آپ چاہتے اس پر خود بھی آپ کے اعیان سلطنت بھی بیٹھ جاتے اور بھی جسے چاہتے اس پر بٹھا لیتے، پھر ہوا کو حکم دیتے تو وہ اس تخت کو اٹھا لیتی اور جب یہ تخت زمین سے خاصا بلند ہو جاتا تو آپ اس شام کا سفر کیا کرتے تھے اور جہاں آپ کو اترنا ہوتا تو آپ ہوا کو حکم دیتے تو وہ نرمی سے چلنے لگتی اور جہاں آپ چاہتے وہاں اتر جاتے تھے۔ اس طرح جو کام آج کے ہوائی جہاز پٹرول کے ذریعہ کرتے ہیں۔ حضرت سلیمانؑ یہی کام ہوا سے لے لیا کرتے تھے۔ اور اس کی رفتار بھی تقریباً وہی ہوتی تھی جو آج کل ہوائی جہازوں کی ہے۔ اس دور میں یہ ایک معجزہ تھا مگر آج کے دور میں ایک عادی اور معمولی چیز بن چکا ہے اور اس سفر کی دوسری توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ حضرت داؤدؑ کو تو اللہ تعالیٰ نے لوہے کی ڈھلائی کا کام سکھلایا تھا۔ جبکہ سلیمانؑ کو لوہے کے علاوہ تانبے کی ڈھلائی کا فن بھی سکھلا دیا تھا اور آپ کے دور میں یہ کام آپ کی نگرانی میں وسیع پیمانہ پر ہوتا تھا۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَاَسَلْنَا لَهٗ عَيْنَ الْقِطْرِ﴾ [12: 34] (یعنی ہم نے سلیمانؑ کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کے چشمے بہا دیئے تھے) جس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کے دور میں لوہے اور تانبے کی مصنوعات نے خاص ترقی کی تھی اور آپ ان کی وسیع پیمانہ پر تجارت کیا کرتے تھے۔ آپ کے بحری بیڑے یمن سے شام اور شام سے یمن آتے جاتے تھے۔ اور چونکہ ہوا آپ کے تابع فرمان تھی لہٰذا یہ بیڑے برق رفتاری سے سفر کرتے اور ایک ماہ کا سفر چند گھنٹوں میں طے کر لیتے تھے۔
[70] یعنی ہم یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ کون کس بات کا اہل ہے اور یہ بھی کسی چیز مثلاً ہوا سے ہی کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔
[70] یعنی ہم یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ کون کس بات کا اہل ہے اور یہ بھی کسی چیز مثلاً ہوا سے ہی کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
حضرت ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داؤد علیہ السلام کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد علیہ السلام کی آواز کیسی ہو گی؟
پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں ‘۔ آپ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/18:]
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [34-سبأ:11-10] ’ ہم نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں ‘۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکر گزاری کرنی چاہے۔
«غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ» ۱؎ [34-سبأ:12] ’ ہم نے زور آور ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی، ہمیں ہرچیز کا علم ہے ‘۔
آپ علیہ السلام اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ علیہ السلام پر سایہ ڈالتے۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ» ۱؎ [38-ص:36]۔ یعنی ’ ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کر لیتی ‘۔
پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں ‘۔ آپ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/18:]
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [34-سبأ:11-10] ’ ہم نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں ‘۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکر گزاری کرنی چاہے۔
«غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ» ۱؎ [34-سبأ:12] ’ ہم نے زور آور ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی، ہمیں ہرچیز کا علم ہے ‘۔
آپ علیہ السلام اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ علیہ السلام پر سایہ ڈالتے۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ» ۱؎ [38-ص:36]۔ یعنی ’ ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کر لیتی ‘۔
حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ علیہ السلام کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ علیہ السلام کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ علیہ السلام کو لے چلتی۔“
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہو جاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ علیہ السلام کو بلندی پر لے جاتی آپ علیہ السلام اس وقت سرنیچا کر لیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ علیہ السلام کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ علیہ السلام کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ علیہ السلام حکم دیتے وہیں ہوا آپ علیہ السلام کو اتار دیتی۔“
اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے قبضے میں کر دیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» ۱؎ [38-ص:37-38]، ’ ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کر دیا تھا جو معمار تھے اور غوطہٰ خور ‘۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ و نگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کر لیتے جسے چاہتے آزاد کر دیتے اسی کو فرمایا کہ ’ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے ‘۔
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہو جاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ علیہ السلام کو بلندی پر لے جاتی آپ علیہ السلام اس وقت سرنیچا کر لیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ علیہ السلام کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ علیہ السلام کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ علیہ السلام حکم دیتے وہیں ہوا آپ علیہ السلام کو اتار دیتی۔“
اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے قبضے میں کر دیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» ۱؎ [38-ص:37-38]، ’ ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کر دیا تھا جو معمار تھے اور غوطہٰ خور ‘۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ و نگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کر لیتے جسے چاہتے آزاد کر دیتے اسی کو فرمایا کہ ’ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے ‘۔