فَفَہَّمۡنٰہَا سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ کُلًّا اٰتَیۡنَا حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ۫ وَّ سَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ یُسَبِّحۡنَ وَ الطَّیۡرَ ؕ وَ کُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۷۹﴾
تو ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کومسخر کر دیا، جو تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی اور ہم ہی کرنے والے تھے۔
تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے
ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔ ہاں ہر ایک کو ہم نے حکم وعلم دے رکھا تھا اور داؤد کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے جو تسبیح کرتے تھے اور پرند بھی۔ ہم کرنے والے ہی تھے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 78 میں تا آیت 80 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
79۔ 1 مفسرین نے یہ قصہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ایک شخص کی بکریاں، دوسرے شخص کے کھیت میں رات کو جا گھسیں اور اس کی کھیتی چر چگئیں۔ حضرت داؤد ؑ نے جو پیغمبر کے ساتھ حکمران بھی تھے فیصلہ دیا کہ بکریاں، کھیت والا لے لے تاکہ اس کے نقصان کی تلافی ہوجائے۔ حضرت سلیمان ؑ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور یہ فیصلہ دیا کہ بکریاں کچھ عرصے کے لئے کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھائے اور کھیتی بکری والے کے سپرد کردی جائے تاکہ وہ کھیتی کی آب پاشی اور دیکھ بھال کرکے، اسے صحیح کرے، جب وہ اس حالت میں آجائے جو بکریوں چرنے سے پہلے تھی تو کھیتی، کھیتی والے کو اور بکریاں، بکری والے کو واپس کردی جائیں۔ پہلے فیصلے کے مقابل میں دوسرا فیصلہ اس لحاظ سے بہتر تھا کہ اس میں کسی کو بھی اپنی چیز سے محروم ہونا نہیں پڑا۔ جب کہ پہلے فیصلے میں بکری والے اپنی بکریوں سے محروم کردیئے گئے تھے۔ تاہم اللہ نے حضرت داؤد ؑ کی بھی تعریف کی اور فرمایا کہ ہم نے ہر ایک کو (یعنی داؤد ؑ اور سلیمان ؑ دونوں کو) علم و حکمت سے نوازا تھا۔ بعض لوگ اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ دعویٰ صحیح نہیں۔ کسی ایک معاملے میں دو الگ الگ (متضاد) فیصلہ کرنے والے دو منصف، بیک وقت دونوں مصنفین ہوسکتے، ان میں ضرور ایک مصیب (درست فیصلہ کرنے والا) ہوگا اور دوسرا غلطی کر کے غلط فیصلہ کرنے والا، البتہ یہ الگ بات ہے کہ غلطی سے غلط فیصلہ کرنے سے گناہ گار نہیں ہوگا، بلکہ اسے ایک اجر ملے گا۔ کما فی الحدیث (فتح القدیر)۔ 79۔ 2 اس سے مراد یہ نہیں کہ پہاڑ ان کی تسبیح کی آواز سے گونج اٹھتے تھے (کیونکہ اس میں تو کوئی اعجاز ہی باقی نہیں رہتا) 79۔ 3 یعنی پرندے بھی داؤد ؑ کی سوز آواز سن کر اللہ کی تسبیح کرنے لگتے، مطلب یہ ہے کہ پرندے بھی داؤد ؑ کے لئے مسخر کردیئے گئے تھے (فتح القدیر) 79۔ 3 یعنی یہ تفہیم، ابتائے حکم اور تسخی، ان سب کے کرنے والے ہم ہی تھے، اس لئے ان میں کسی کو تعجب کرنے کی یا انکار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لئے کہ ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
79۔ اس وقت ہم نے سلیمان کو صحیح فیصلہ سمجھا دیا جبکہ ہم نے قوت فیصلہ اور علم [66] دونوں کو عطا کیا تھا اور داؤد کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر [67] کر دیا کہ وہ ان کے ہمراہ تسبیح کیا کریں اور یہ تسخیر ہم ہی کرنے والے تھے۔
[66] اب دیکھئے کہ حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ دونوں نبی ہیں۔ اور دونوں کو اللہ نے قوت فیصلہ بھی عطا کی تھی اور علم نبوت بھی۔ اس کے باوجود حضرت داؤدؑ سے فیصلہ میں اجتہادی غلطی ہو گئی۔ یعنی قاضی خواہ نہایت نیک نیتی سے فیصلہ کرے اس سے اجتہادی غلطی کا امکان ہے۔ اب اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے: حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے داؤدؑ اور سلیمانؑ دونوں کو قوت فیصلہ اور علم دیا تھا۔ پھر اللہ نے سلیمانؑ کی تو تعریف کی اور داؤدؑ پر ملامت نہیں کی اگرچہ وہ فیصلہ درست نہ تھا اور قرآن میں اللہ تعالیٰ ان دونوں پیغمبروں کا ذکر نہ کرتا تو میں سمجھتا ہوں کہ قاضی لوگ تباہ ہو جاتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے سلیمانؑ کی تو درست فیصلہ کی تعریف کی اور داؤدؑ کو (ان کی اجتہادی غلطی پر) مسدود رکھا۔ [بخاري۔ كتاب الاحكام۔ باب متي۔ يستوجب الرحل القضاء] (2) اجتہاد اگر درست ہو تو مجتہد کے لیے دوہرا اجر ہے اور غلطی ہو جائے تو بھی ایک اجر ہے: حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حاکم اجتہاد کر کے کوئی فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ درست ہو تو اس کو دو اجر ملیں گے اور اگر (بہ تقاضائے بشریت) فیصلہ میں غلطی کر جائے تو بھی اس کو ایک اجر ملے گا“ [بخاري، كتاب الاعتصام۔ باب اجرالحاكم اذا اجتهاد فاصاب او اخطا]
(3)
تین قسم کے قاضی اور علم کے بغیر فیصلہ کرنے والا جہنمی ہے:.
حضرت بریدہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک جنتی ہے اور دو جہنمی۔ جنتی وہ قاضی ہے جو حق کو پہچان جائے اور اس کے مطابق فیصلہ دے مگر جو شخص حق کو پہچاننے کے باوجود خلاف حق فیصلہ دے وہ جہنمی ہے۔ اسی طرح وہ بھی جہنمی ہے جو علم کے بغیر لوگوں کے فیصلے کرنے بیٹھ جائے۔ [ابوداؤد۔ كتاب القضاء۔ باب فى القاضي يخطي]
حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کے متعلق ایک واقعہ احادیث میں بھی مذکور ہے جو بالکل اسی نوعیت کا ہے۔ جو درج ذیل ہے:
حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کے متعلق ایک واقعہ احادیث میں بھی مذکور ہے جو بالکل اسی نوعیت کا ہے۔ جو درج ذیل ہے:
شیر خوار بچے کے متعلق دونوں کا فیصلہ:۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بنی اسرائیل میں) دو عورتیں تھیں ان کا ایک ایک بچہ تھا۔ بھیڑیا آیا اور ایک بچہ اٹھا لے گیا اب دونوں آپس میں جھگڑنے لگیں۔ ایک نے کہا کہ تیرا بچہ لے گیا اور دوسری نے کہا نہیں، تیرا بچہ لے گیا۔ آخر دونوں فیصلے کے لئے حضرت داؤدؑ کے پاس آئیں۔ انہوں نے بچہ بڑی عمر والی کو دلا دیا۔ پھر یہ دونوں عورتیں دوبارہ فیصلہ کے لئے حضرت سلیمانؑ کے پاس آئیں اور اپنا اپنا دعویٰ پیش کیا اس وقت حضرت سلیمانؑ صرف گیارہ برس کے تھے۔ انہوں نے حکم دیا: ایک کلہاڑی میں اس بچہ کو آدھا آدھا کر کے دونوں کو دے دیتا ہوں۔ یہ سن کر کم عمر والی عورت بولی ”اللہ آپ پر رحم کرے ایسا نہ کیجئے۔ یہ بچہ اسی بڑی عمر والی کا ہے۔ پھر حضرت سلیمانؑ نے بچہ چھوٹی عمر والی کو دلا دیا۔“ [بخاري۔ كتاب الفرائض۔ اذا ادعت المراة ابنا]
قرینہ کی شہادت:۔
یعنی حضرت داؤدؑ نے اس لحاظ سے بڑی عورت کے حق میں دے دیا کہ ایک تو وہ بڑی تھی اور دوسرے بچہ اس کے قبضہ میں تھا۔ لیکن جو فیصلہ حضرت سلیمانؑ نے دیا وہ عین فطرت انسانی کے مطابق تھا۔ جب حضرت سلیمانؑ نے بچے کو دو ٹکڑے کر کے ایک ایک ٹکڑا ایک کو دینے کا فیصلہ کیا تو حقیقی ماں جو چھوٹی عورت تھی فوراً اپنے بچے کے دو ٹکڑے ہونے پر تلملا اٹھی۔ اور اس نے یہ سوچ کر کہ میرا بچہ زندہ رہے خواہ میرے پاس نہ رہے فوراً کہنے لگی کہ بچہ اس بڑی عورت کا ہے۔ اسے دے دیا جائے۔ لیکن بڑی خاموشی سے یہ فیصلہ سنتی رہی۔ اس کا بچہ ہوتا تو اسے کچھ تکلیف ہوتی یہ صورت حال دیکھ کر حضرت سلیمانؑ نے چھوٹی عورت کے حق میں فیصلہ کر کے بچہ اسے دلا دیا۔ یہ فیصلہ کے وقت ایسی باتیں سوجھ جانا حضرت سلیمانؑ کے لئے خالص اللہ تعالیٰ کی دین تھی۔
[67] سیدنا داؤدؑ کی خوش الحانی:۔
حضرت داؤدؑ کی خوش الحانی زبان زد عام و خاص بن چکی ہے اور لحن داؤدی کا لفظ محاورتاً استعمال ہوتا ہے۔ آپ کی آواز اس قدر سریلی اور خوشگوار تھی کہ حب آپ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے گیت گاتے تو ساری کائنات مسحور ہو جاتی اور وجد میں گانے لگتی تھی۔ پہاڑوں میں گونج پیدا ہوتی اور یوں معلوم ہوتا کہ پہاڑ بھی آپ کے ساتھ ساتھ حمد و ثنا کے گیت گا رہے ہیں۔ یہی حال جانوروں کا تھا جہاں آپ حمد و ثنا کے گیت گارے وہاں پرندے اکٹھے ہو جاتے اور آپ کے ہمنوا بن جاتے تھے اور ان معنوں کی تائید اس حدیث سے بھی ہو جاتی ہے۔
ابو موسیٰ اشعری کی خوش الحانی:۔
ایک دفعہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ جو نہایت خوش الحان تھے، اپنی سریلی آواز میں قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو ان کی آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک آپ کی تلاوت سنتے رہے، جب انہوں نے تلاوت ختم کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لقد أوتي مزما راً من مزامير آل داؤد» [بخاري۔ كتاب فضائل القرآن۔ باب حسن الصوت بالقراة]
یعنی اس شخص کو حضرت داؤدؑ کی خوش الحانی کا ایک حصہ ملا ہے۔
آپ کی خوش الحانی اور آپ کی تسبیحات میں پہاڑوں اور پرندوں کے ساتھ رہنے کا ذکر سورۃ سبا کی آیت نمبر 10 اور سورۃ کی آیت نمبر 18 میں بھی آیا ہے۔ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کیسی تھی اور حضرت داؤدؑ کے وہ کس طرح ہمنوا بن جاتے تھے۔ یہ پوری کیفیت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ چونکہ پہاڑوں اور پرندوں کا حضرت داؤدؑ کے ساتھ مل کر تسبیحات کا پڑھنا اور ہم آہنگ ہونا ایک خرق عادت امر ہے لہٰذا پرویز صاحب کو ان باتوں کی تاویل کی ضرورت پڑ گئی اور اپنی تفسیر مفہوم القرآن میں یٰجِبَالُ (اے پہاڑو) کا مفہوم بیان فرمایا ”اے سرکش سردارو!“ گویا اللہ میاں کو سرکش سرداروں کے لئے جبال کے علاوہ کوئی لفظ نہیں ملتا تھا اور سورۃ کی آیت نمبر 19 میں یہی مضمون آیا تو بمصداق دروغ گو را حافظہ بنا سد وہاں جبال کا مفہوم ”پہاڑی قبائل“ بیان فرما دیا۔ اور الطیر کا مفہوم قبیلہ طیر بیان فرمایا اور ادبی کا مفہوم بیان فرمایا کہ ”داؤد کے ساتھ تم بھی نہایت سرگرمی سے قانون خداوندی کی اطاعت کرو“ [لغات القرآن ج 1 ص 283] حالانکہ پرویز صاحب خود اسی لغات میں اوب کا معنی بالارادہ رجوع کرنا لکھ چکے ہیں۔ یعنی اے پہاڑو اور پرندو! داؤد کی طرف بالارادہ رجوع کرو اور اس مقام پر نہایت سرگرمی سے قانون خداوندی کی اطاعت کا مفہوم بیان فرمایا۔ ذرا سوچئے کہ اس مفہوم میں قانون خداوندی قرآن کے کس لفظ کا معنی یا مفہوم ہو سکتا ہے اور نہایت سرگرمی سے اطاعت کس لفظ کا؟ سچ فرمایا تھا اقبال نے:
احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآن کو بنا دیتے ہیں پاژند
یعنی اس شخص کو حضرت داؤدؑ کی خوش الحانی کا ایک حصہ ملا ہے۔
آپ کی خوش الحانی اور آپ کی تسبیحات میں پہاڑوں اور پرندوں کے ساتھ رہنے کا ذکر سورۃ سبا کی آیت نمبر 10 اور سورۃ کی آیت نمبر 18 میں بھی آیا ہے۔ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کیسی تھی اور حضرت داؤدؑ کے وہ کس طرح ہمنوا بن جاتے تھے۔ یہ پوری کیفیت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ چونکہ پہاڑوں اور پرندوں کا حضرت داؤدؑ کے ساتھ مل کر تسبیحات کا پڑھنا اور ہم آہنگ ہونا ایک خرق عادت امر ہے لہٰذا پرویز صاحب کو ان باتوں کی تاویل کی ضرورت پڑ گئی اور اپنی تفسیر مفہوم القرآن میں یٰجِبَالُ (اے پہاڑو) کا مفہوم بیان فرمایا ”اے سرکش سردارو!“ گویا اللہ میاں کو سرکش سرداروں کے لئے جبال کے علاوہ کوئی لفظ نہیں ملتا تھا اور سورۃ کی آیت نمبر 19 میں یہی مضمون آیا تو بمصداق دروغ گو را حافظہ بنا سد وہاں جبال کا مفہوم ”پہاڑی قبائل“ بیان فرما دیا۔ اور الطیر کا مفہوم قبیلہ طیر بیان فرمایا اور ادبی کا مفہوم بیان فرمایا کہ ”داؤد کے ساتھ تم بھی نہایت سرگرمی سے قانون خداوندی کی اطاعت کرو“ [لغات القرآن ج 1 ص 283] حالانکہ پرویز صاحب خود اسی لغات میں اوب کا معنی بالارادہ رجوع کرنا لکھ چکے ہیں۔ یعنی اے پہاڑو اور پرندو! داؤد کی طرف بالارادہ رجوع کرو اور اس مقام پر نہایت سرگرمی سے قانون خداوندی کی اطاعت کا مفہوم بیان فرمایا۔ ذرا سوچئے کہ اس مفہوم میں قانون خداوندی قرآن کے کس لفظ کا معنی یا مفہوم ہو سکتا ہے اور نہایت سرگرمی سے اطاعت کس لفظ کا؟ سچ فرمایا تھا اقبال نے:
احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآن کو بنا دیتے ہیں پاژند
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] «نَفَشَتْ» کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے، اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں «ھَمَل» کہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/18:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا؟ انہوں نے خبر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا۔“ داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔
مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔“
قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:]
مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔“
قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:238] اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کر دی ہے۔
مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، ”سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» ۱؎ [38-ص:26] یعنی ’ اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» ۱؎ [5-المائدہ:44] ’ لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو ‘۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» ۱؎ [2-البقرة:41]، ’ میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو ‘۔
میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352]
یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، ”سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» ۱؎ [38-ص:26] یعنی ’ اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» ۱؎ [5-المائدہ:44] ’ لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو ‘۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» ۱؎ [2-البقرة:41]، ’ میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو ‘۔
میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352]
یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سنن کی اور حدیث میں ہے، { قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کر لیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جس نے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3573، قال الشيخ الألباني:صحیح]
قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا }۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3427]
قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا }۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3427]
امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا، اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کر کے داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جا کر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کراتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔
اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔
داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔
اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔
داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔
پھر بیان ہو رہا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ علیہ السلام ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح پہاڑ بھی ‘۔
آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» ۱؎ [34-سبأ:10] ’ اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا ‘۔
آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» ۱؎ [34-سبأ:10] ’ اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا ‘۔
ایک روایت میں ہے کہ { رات کے وقت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کریم کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے، پھر فرمانے لگے { یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں }۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5048]