ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 78

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ اِذۡ یَحۡکُمٰنِ فِی الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِیۡہِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ۚ وَ کُنَّا لِحُکۡمِہِمۡ شٰہِدِیۡنَ ﴿٭ۙ۷۸﴾
اور داؤد اور سلیمان کو، جب وہ کھیتی کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے، جب اس میں لوگوں کی بکریاں رات چر گئیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے۔
اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے
اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو یاد کیجئے جبکہ وه کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر چگ گئی تھیں، اور ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 79،78) ➊ {وَ دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ …: نَفَشَتْ } کا معنی ہے جانوروں کا رات کو کھیت میں پھیل جانا اور اس کی کھیتی اور پودوں کو کھا جانا۔ { غَنَم} کا لفظ بھیڑ بکری دونوں پر آتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان علیھما السلام کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے وہ نعمت ذکر فرمائی جو دونوں کو عطا ہوئی تھی اور جو بعد میں آنے والی تمام نعمتوں سے افضل ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا» ‏‏‏‏ حُكْمًا } سے مراد قوت فیصلہ ہے اور { عِلْمًا } سے مراد علم شریعت ہے۔
➋ ان آیات کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں آئی، البتہ ابن جریر نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس آیت کے متعلق فرمایا: [كَرْمٌ قَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِيْدُهُ فَأَفْسَدَتْهُ الْغَنَمُ قَالَ فَقَضَی دَاوٗدُ بِالْغَنَمِ لِصَاحِبِ الْكَرْمِ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ غَيْرُ هٰذَا يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! قَالَ وَمَا ذٰلِكَ؟ قَالَ تَدْفَعُ الْكَرْمَ اِلٰي صَاحِبِ الْغَنَمِ فَيَقُوْمُ عَلَيْهِ حَتّٰی يَعُوْدَ كَمَا كَانَ وَتَدْفَعُ الْغَنَمَ اِلٰي صَاحِبِ الْكَرْمِ فَيُصِيْبَ مِنْهَا حَتّٰی إِذَا عَادَ الْكَرْمَ كَمَا كَانَ دَفَعْتَ الْكَرْمَ اِلٰی صَاحِبِهِ وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ اِلٰی صَاحِبِهَا قَالَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ: «{ فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ وَ كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا ] [مستدرک: 588/2، ح: ۴۱۳۸] یہ انگور کی بیلیں تھیں جن کے گچھے نکل چکے تھے، جنھیں بھیڑ بکریوں نے اجاڑ دیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے فیصلہ فرمایا کہ بھیڑ بکریاں انگور کی بیلوں کے مالک کو دے دی جائیں، تو سلیمان علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس کا فیصلہ اور ہے۔ انھوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ عرض کی: آپ انگور کی بیلیں بھیڑ بکریوں والے کے حوالے کر دیں، وہ ان کی نگہداشت کرے جب تک وہ دوبارہ پہلے جیسی نہ ہو جائیں اور بھیڑ بکریاں انگور کی بیلوں والے کے حوالے کر دیں، وہ اس وقت تک ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور جب انگوروں کی بیلیں پہلی حالت پر لوٹ آئیں تو آپ انگوروں کی بیلیں اس کے مالک کے سپرد اور بھیڑ بکریاں اس کے مالک کے سپرد کر دیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا۔ ابن کثیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا: حاکم نے اسے روایت کرکے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ (اس سند میں ابو اسحاق کی تدلیس موجود ہے)۔ دکتور حکمت بن بشیر لکھتے ہیں: طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد کا یہی قول نقل فرمایا ہے اور قتادہ اور ابن زید کا یہی قول صحیح سند کے ساتھ مسند عبد الرزاق میں بھی مروی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم داؤد اور سلیمان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے، یعنی ہمیں اس کی ایک ایک جزئی کا پورا علم ہے۔ اگرچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے کی صراحت نہیں کی، تاہم واقعہ کی صورت وہی معلوم ہوتی ہے جو انھوں نے بیان کی ہے۔ اس لیے بھی کہ بائبل میں اس واقعہ کا ذکر نہیں اور نہ یہ یہودی لٹریچر میں معروف ہے اور پھر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اسرائیلیات بیان کرنے میں معروف بھی نہیں ہیں۔
➌ داؤد اور سلیمان علیھما السلام دونوں میں سے ہر ایک کا فیصلہ ان کا اجتہاد تھا، کیونکہ اگر وہ وحی سے ہوتا تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے بعد اور فیصلے کی گنجائش نہ ہوتی۔ انبیاء بھی اجتہاد فرماتے ہیں مگر ان کے اجتہاد اور دوسرے لوگوں کے اجتہاد میں یہ فرق ہے کہ انبیاء کے اجتہاد میں اگر کوئی خطا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیتا ہے، جیسا کہ یہاں سلیمان علیہ السلام کے فیصلے کے ساتھ اس کی اصلاح فرما دی اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: «{ عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ [التوبۃ: ۴۳] اللہ نے تجھے معاف کر دیا، تو نے انھیں کیوں اجازت دی۔ اور فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ [التحریم: ۱] اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟ اگر کسی بات پر اللہ تعالیٰ خاموشی اختیار فرمائے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی موافقت کی وجہ سے حق ہوتی ہے اور وحی کا حکم رکھتی ہے، یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «{ وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (3) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى [النجم: ۳، ۴] کا۔ انبیاء علیھم السلام کے سوا کسی مجتہد کی خطا کی بذریعہ وحی اصلاح نہیں ہوتی، اس لیے ان کے اجتہادات شریعت میں حجت نہیں ہیں۔
➍ مسئلہ: اگر کسی کے جانور دن کے وقت کسی دوسرے کے کھیت یا باغ کو چر جائیں تو جانور والے پر کوئی تاوان نہیں ہے اور اگر رات کے وقت چر جائیں تو جس قدر نقصان ہو اس قدر تاوان جانور والے کے ذمے ہو گا، جیسا کہ براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ میری ایک اونٹنی تھی جو بہت نقصان کیا کرتی تھی، ایک دفعہ وہ ایک باغ میں داخل ہو گئی اور وہاں نقصان کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا: دن کے وقت باغات کی نگرانی اور حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانوروں کی نگرانی ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانور جو نقصان کر جائیں تو وہ ان کے مالکوں کے ذمے ہے (کہ اسے پورا کریں)۔ [أبو داوٗد، الإجارۃ، باب المواشی تفسد زرع قوم: ۳۵۷۰۔ ابن ماجہ: ۲۳۳۲۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 237/1، ح:۲۳۸] بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جانور والے پر کسی صورت تاوان نہیں ہے اور دلیل میں {اَلْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ} (جانور کا کسی کو زخمی کر دینا رائگاں ہے) پیش کرتے ہیں، حالانکہ اس حدیث میں صرف زخم کے معاف ہونے کا ذکر ہے، کھیت کے نقصان کے معاف ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا براء بن عازب رضی اللہ عنھما والی حدیث میں اور اس میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ براء رضی اللہ عنھما کی حدیث کو منسوخ کہا جائے۔ (قرطبی)
➎ اس آیت سے اس حدیث کی تائید ہوتی ہے جو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهٗ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهٗ أَجْرٌ] [بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب أجر الحاکم إذا اجتھد…: ۷۳۵۲] جب حاکم فیصلہ کرے اور پوری کوشش کرے، پھر درست فیصلہ کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب وہ فیصلہ کرے اور پوری کوشش کرے، پھر خطا کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اگرچہ { فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ } (ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا) کہہ کر سلیمان علیہ السلام کے فیصلے کی تائید فرمائی، مگر داؤد اور سلیمان دونوں کے متعلق فرمایا: «وَ كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا» کہ ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا۔
➏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمان علیہ السلام کے کمال فہم و ذکاوت کا ایک اور واقعہ روایت کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَی إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، فَتَحاكَمَتَا إِلٰی دَاوٗدَ فَقَضَی بِهِ لِلْكُبْرٰی، فَخَرَجَتَا عَلٰی سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوٗدَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَتَاهٗ فَقَالَ ائْتُوْنِيْ بِالسِّكِّيْنِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرٰی لاَ تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَی بِهِ لِلْصُّغْرٰی] [بخاري، الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏ووھبنا لداوٗد سلیمان …» ‏‏‏‏: ۳۴۲۷۔ مسلم: ۱۷۲۰۔ نسائی: ۵۴۰۵] دو عورتیں تھیں جن کے پاس ان کے بیٹے تھے۔ بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بیٹے کو لے گیا۔ وہ اپنی ساتھی عورت سے کہنے لگی کہ وہ تو تمھارا بیٹا لے گیا ہے۔ دوسری کہنے لگی، وہ تمھارا بیٹا ہی لے گیا ہے۔ چنانچہ وہ دونوں فیصلے کے لیے داؤد علیہ السلام کے پاس گئیں۔ انھوں نے اس کا فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا۔ دونوں جاتے ہوئے سلیمان بن داؤد علیھما السلام کے پاس سے گزریں تو انھیں یہ بات بتائی، انھوں نے فرمایا: میرے پاس چاقو لاؤ، میں اسے دونوں کے درمیان چیر دوں۔ تو چھوٹی نے کہا: ایسا نہ کریں، اللہ آپ پر رحم کرے، یہ اسی کا بیٹا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس کا فیصلہ چھوٹی کے حق میں کر دیا۔ امام نسائی نے اس حدیث پر باب باندھا ہے کہ حاکم کے لیے گنجائش ہے کہ جو کام اس نے نہیں کرنا، اس کے متعلق کہے کہ میں ایسا کرتا ہوں، تا کہ حق واضح ہو جائے۔
➐ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اوقات بیٹا باپ سے زیادہ بات سمجھ لیتا ہے، اس میں کفار عرب کے لیے بھی سبق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے باوجود آبا و اجداد کی رسوم چھوڑنے پر تیار نہ تھے اور ان مقلدین کے لیے بھی جنھوں نے چار اماموں کے بعد اجتہاد کا دروازہ قیامت تک کے لیے بند کر دیا ہے۔ بتائیے اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فیض عام کی توہین اور کیا ہو گی؟
➑ { وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَ الطَّيْرَ:} اس سے پہلے ابراہیم اور نوح علیھما السلام کی خاطر آگ اور پانی کو مسخر کرنے کا ذکر فرمایا تھا۔ اب داؤد اور سلیمان علیھما السلام دونوں پر مشترکہ نعمت حکم و علم کا ذکر کرنے کے بعد دونوں کو عطا کر دہ نعمتیں الگ الگ ذکر فرمائیں۔ چنانچہ داؤد علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر اور پابند کر دیا اور انھیں اتنی خوبصورت آواز عطا فرمائی کہ جب وہ اللہ کی کتاب زبور پڑھتے یا تسبیح کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ تسبیح کرتے۔ سورۂ سبا میں فرمایا: «{ يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَ الطَّيْرَ [سبا: ۱۰] اے پہاڑو! اس کے ساتھ تسبیح کو دہراؤ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا)۔ سورۂ صٓ میں فرمایا: «{ اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِشْرَاقِ (18) وَ الطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ [صٓ: ۱۸، ۱۹] بے شک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ہمراہ مسخر کر دیا، وہ دن کے پچھلے پہر اور سورج چڑھنے کے وقت تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوتے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔ سبحان اللہ! وہ کیسا حسین منظر ہو گا جب اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی مصروف تسبیح ہوتے ہوں گے۔ بعض لوگوں نے پہاڑوں کی تسبیح کا مطلب داؤد علیہ السلام کی بلند اور سریلی آواز سے ان کا گونج اٹھنا اور پرندوں کی تسبیح سے مراد ان کا ٹھہر جانا قرار دیا ہے، مگر درحقیقت یہ پہاڑوں اور پرندوں کی ان کے ہمراہ تسبیح کو ناممکن سمجھ کر اس کا انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز داؤد علیہ السلام پر خاص نعمت کے طورپر ذکر فرمائی ہے، پہاڑوں کی گونج تو ہر بلند آواز سے پیدا ہوتی ہے، اچھی ہو یا بری، اس میں داؤد علیہ السلام کی خصوصیت کیا ہوئی؟ اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ پہاڑ اور پرندے فی الواقع ان کے ہمراہ تسبیح کرتے تھے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴۴)۔
➒ { وَ كُنَّا فٰعِلِيْنَ:} یعنی تعجب مت کرو کہ وہ پہاڑ اور پرندے کیسے بولتے اور تسبیح کرتے تھے، یہ سب کچھ ہمارے کرنے سے ہوتا تھا۔ (کبیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

78۔ اور داؤد اور سلیمان کو بھی (یہی نعمت دی تھی) جب وہ ایک کھیتی کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے جس کچھ لوگوں کی بکریاں [65] اجاڑ گئی تھیں اور جب وہ فیصلہ کر رہے تھے تو ہم انھیں دیکھ رہے تھے۔
[65] نقش کا لغوی مفہوم:۔
اس آیت میں نفش کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی رات کے وقت بکریوں کے بغیر چروا ہے کے چرنے کے لئے منتشر ہونا ہے۔ (مفردات القرآن) ہوا یہ تھا کہ کچھ لوگوں کی بکریاں کسی کھیتی کو رات کے وقت چر کر اجاڑ گئی تھیں۔ کھیتی والے نے داؤدؑ کی عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔ آپ نے مدعا علیہ کو بلایا تو اس نے واقعہ کا اعتراف کر لیا۔ اب از روئے انصاف و قانون پورا ہر جانہ بکریوں کے مالک پڑتا تھا۔ اس سلسلہ میں شرعی قاعدہ یا قانون درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ حضرت براء بن عازبؓ کی اونٹنی ایک باغ میں گھس گئی اور اسے خراب کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ دن کو باغوں کی نگہبانی باغ والوں کے ذمہ ہے۔ اور رات کو جو مویشی خراب کریں تو ان کے مالک ان کا ہرجانہ دیں۔ [مالك، ابو داؤد، ابن ماجه بحواله مشكوة۔ كتاب البيوع، باب الغصب والناريه فصل ثاني]
اجڑی کھیتی کے متعلق سیدنا داؤد اور سلیمان کا فیصلہ:۔
اور یہی شرعی دعویٰ اس دور میں بھی تھا اب یہ اتفاق کی بات تھی کہ جتنا کھیتی کا نقصان ہوا تھا اس کی قیمت کے لگ بھگ بکریوں کی قیمت بنتی تھی۔ چنانچہ حضرت داؤدؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ بکریوں والا اپنی بکریاں کھیتی والے کو دے دے۔ تاکہ اس کے نقصان کی تلافی ہو جائے۔ حضرت سلیمانؑ بھی پاس موجود تھے انہوں نے اس فیصلہ سے اختلاف کیا اور کہا کہ میرے خیال میں یہ فیصلہ یوں ہونا چاہئے کہ بکریوں والا اپنی بکریاں کھیتی کو دے دے مگر یہ بکریاں کھیتی والے کے پاس بطور رہن ہوں گی۔ کھیتی والا ان کی پرورش بھی کرے اور ان سے دودھ اور اون وغیرہ کے فوائد بھی حاصل کرے۔ اور اس دوران بکریوں والا کھیتی کی نگہداشت کر کے اور اس کی آبپاشی کرے تا آنکہ وہ کھیتی اپنی پہلی سی حالت پر آجائے اور جب کھیتی پہلی حالت پر آجائے تو بکریوں والے کو اس کی بکریاں واپس کر دی جائیں۔ اس فیصلہ سے کھیتی والے کے نقصان کی بھی تلافی ہو جاتی تھی اور بکریوں والے کا بھی کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوتا تھا۔ لہٰذا سلیمانؑ کے اس فیصلہ کو حضرت داؤدؑ نے بھی درست تسلیم کیا اور اپنے فیصلہ سے رجوع کر لیا۔ یہی وہ فیصلہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ فیصلہ سلیمانؑ کو ہم نے سمجھایا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:]‏‏‏‏ «نَفَشَتْ» کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے، اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں «ھَمَل» کہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/18:]‏‏‏‏
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا؟ انہوں نے خبر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا۔‏‏‏‏ داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔
مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔‏‏‏‏
قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:]‏‏‏‏
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:238]‏‏‏‏ اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کر دی ہے۔
مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» ۱؎ [38-ص:26]‏‏‏‏ یعنی ’ اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» ۱؎ [5-المائدہ:44]‏‏‏‏ ’ لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو ‘۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» ۱؎ [2-البقرة:41]‏‏‏‏، ’ میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو ‘۔
میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352]‏‏‏‏
یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سنن کی اور حدیث میں ہے، { قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کر لیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جس نے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3573، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا }۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3427]‏‏‏‏
امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا، اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کر کے داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جا کر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کراتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔
اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔
داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔
پھر بیان ہو رہا ہے کہ ’ داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ علیہ السلام ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح پہاڑ بھی ‘۔
آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» ۱؎ [34-سبأ:10]‏‏‏‏ ’ اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (‏‏‏‏یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا ‘۔
ایک روایت میں ہے کہ { رات کے وقت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کریم کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے، پھر فرمانے لگے { یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں }۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5048]‏‏‏‏