ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 76

وَ نُوۡحًا اِذۡ نَادٰی مِنۡ قَبۡلُ فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَنَجَّیۡنٰہُ وَ اَہۡلَہٗ مِنَ الۡکَرۡبِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۷۶﴾
اور نوح کو بھی جب اس نے اس سے پہلے پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی، پھر اسے اور اس کے گھر والوں کو بہت بڑی گھبراہٹ سے بچا لیا۔
اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی
نوح کے اس وقت کو یاد کیجئے جبکہ اس نے اس سے پہلے دعا کی ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑے کرب سے نجات دی

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 77،76) ➊ ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے نجات دینے کے بعد نوح علیہ السلام کو پانی کے طوفان سے نجات دینے کا ذکر فرمایا۔
➋ { وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ …:} نوح علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر سورۂ نوح (۲۶ تا ۲۸) میں تفصیل سے مذکور ہے، اسی طرح سورۂ قمر میں ہے: «{ فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ [القمر:۱۰] تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں سو تو بدلہ لے۔
➌ { فَنَجَّيْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ: اَهْلَهٗ } سے مراد ان کے مشرک بیٹے اور بیوی کے سوا باقی گھر والے ہیں۔ بیٹے کے متعلق دیکھیے سورۂ ہود (۴۰ تا ۴۳) اور بیوی کے متعلق سورۂ تحریم (۱۰)۔
➍ {مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ: الْكَرْبِ } کا معنی ہے {أَقْصَي الْغَمِّ } یعنی آخری حد کو پہنچا ہوا غم۔ { الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ } سے مراد کفار کی نوح علیہ السلام سے ساڑھے نو سو برس کی مسلسل مخالفت، بدسلوکی، ایذا رسانی، استہزا اور سنگسار کرنے کی دھمکیاں بھی ہیں، جن کا شکوہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور کیا، جو سورۂ نوح کی آیت (۵) سے آیت (۲۴) تک میں مذکور ہے اور جن کا ذکر سورۂ ہود (۳۸) اور شعراء (۱۱۶) میں ہے۔ پہاڑوں جیسی موجوں والا طوفان بھی مراد ہے، جس نے اللہ کے حکم سے زمین پر بسنے والا ایک مشرک بھی باقی نہ چھوڑا۔
➎ { فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِيْنَ:} اس کی تفصیل سورۂ ہود (۳۷ تا ۴۹) میں ملاحظہ فرمائیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ اور نوح کو بھی (انہی رحمت میں داخل کیا) جبکہ ان سب سے پہلے انہوں نے (ہمیں) پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں اور ان کے گھر والوں [63] کو شدید بے چینی سے نجات دی
[63] حضرت نوحؑ کا قصہ بھی سورۃ اعراف اور سورۃ ہود میں گزر چکا ہے وہ حواشی بھی سامنے رکھے جائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نوح علیہ السلام کی دعا ٭٭
نوح نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم نے ستایا۔ تکلیفیں دیں تو آپ علیہ السلام نے اللہ کو پکارا کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10]‏‏‏‏ ’ باری تعالیٰ میں عاجز آ گیا ہوں تو میری مدد فرما ‘۔ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26-27]‏‏‏‏ ’ زمین پر ان کافروں میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر و کافر ہوں گی ‘۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ» ۱؎ [11-ھود:40]‏‏‏‏ اور آپ علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ علیہ السلام کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی اور تکلیف سے رب عالم نے اپنے نبی علیہ السلام کو بچا لیا۔ ساڑھے نو سو سال تک آپ علیہ السلام ان میں رہے اور انہیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک و کفر سے باز نہ آئے، بلکہ آپ علیہ السلام کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔
’ ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت و آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کوٹھکانے لگا دیا ‘، اور نوح علیہ السلام کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا۔ سب ڈبو دئے گئے۔