وَ نَجَّیۡنٰہُ وَ لُوۡطًا اِلَی الۡاَرۡضِ الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا لِلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۱﴾
اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سر زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی۔
اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی
اور ہم ابراہیم اور لوط کو بچاکر اس زمین کی طرف لے چلے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت رکھی تھی
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 71){ وَ نَجَّيْنٰهُ وَ لُوْطًا …:} اس واقعہ کو دیکھ کر لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۲۶) اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلنے سے محفوظ رکھا تھا اسی طرح ابراہیم اور لوط علیھما السلام دونوں کو ان ظالموں کے پنجے سے بحفاظت نکال کر شام کی طرف ہجرت کرنے کی آسانی عطا فرمائی۔ یہ بھی عظیم احسان تھا، کیونکہ وہاں سے ان کا نکلنا آسان نہ تھا۔ شام کی طرف ہجرت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام عراق کے رہنے والے تھے۔ برکت والی زمین کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
71۔ 1 اس سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک ملک شام ہے۔ جسے شادابی اور پھلوں اور نہروں کی کثرت نیز انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن ہونے کے لحاظ سے بابرکت کہا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
71۔ اور ہم ابراہیم اور لوط کو ان سے بچا کر اس سرزمین (شام) کی طرف لے گئے جس میں نے اہل عالم [60] کے لئے برکتیں رکھی ہیں۔
[60] سیدنا ابراہیمؑ کے ساتھ سیدنا لوطؑ کی ہجرت:۔
یہ واقعہ دیکھ کر بھی حضرت لوطؑ کے سوا کوئی شخص بھی حضرت ابراہیمؑ پر ایمان نہ لایا۔ حضرت لوطؑ حضرت ابراہیمؑ کے بھائی ہماران کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیمؑ کے بھتیجے تھے۔ جب قوم سے دشمنی ٹھن گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو عراق سے شام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ شام کا علاقہ بابرکت اس لئے ہے کہ دنیوی لحاظ سے یہ بہت زرخیز اور شاداب خطہ زمین ہے۔ اور روحانی لحاظ سے اس لئے کہ یہی خطہ دو ہزار سال تک انبیاء کا مسکن و مدفن رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔
بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔
مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» ۱؎ ۱؎ [3-آل عمران:97-96] ’ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا ‘۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔
بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔
مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» ۱؎ ۱؎ [3-آل عمران:97-96] ’ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا ‘۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» ۱؎ [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ’ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے ‘۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» ۱؎ [29-العنكبوت:26]، ’ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ‘۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔
یہاں فرمایا کہ ’ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا ‘۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» ۱؎ [29-العنكبوت:26]، ’ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ‘۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔
یہاں فرمایا کہ ’ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا ‘۔