ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 68

قَالُوۡا حَرِّقُوۡہُ وَ انۡصُرُوۡۤا اٰلِہَتَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿۶۸﴾
انھوں نے کہا اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو، اگر تم کرنے والے ہو۔
(تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو
کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 68) ➊ { قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ:} یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا تو نیکی اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ بدی کے غلبے کی صورت میں جب اس کے پاس کوئی دلیل نہیں رہتی اور وہ مکمل طور پر لاجواب ہو جاتا ہے تو اپنے مخالف کو دھمکیاں دیتا ہے۔ دیکھیے نوح علیہ السلام کی قوم (شعراء: ۱۱۶)، ابراہیم علیہ السلام کو ان کے والد کی دھمکی (مریم: ۴۶)، لوط علیہ السلام کی قوم (شعراء: ۱۶۷)، شعیب علیہ السلام کی قوم (اعراف: ۸۸)، فرعون کی موسیٰ علیہ السلام کو دھمکی (شعراء: ۲۹) اور جادوگروں کو دھمکی (شعراء: ۴۹)۔ پھر اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے لاجواب کر دینے والے حریف کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی قوم بھی جب دلیل میں ہر طرح لاجواب ہو گئی تو ابراہیم علیہ السلام کی جان کے درپے ہو گئی۔ مشورہ ہوا کہ اسے قتل کر دو یا جلا دو۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۲۴) آخر فیصلہ یہ ٹھہرا کہ اپنے معبودوں کا انتقام لینے کی اور ان کی نصرت کی یہی صورت ہے کہ اسے جلا کر راکھ بنا دو۔
➋ { اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ:} یہ الفاظ ان کے ضمیر کی کشمکش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اول تو ابراہیم کو نقصان پہنچانے والے تمھارے کسی اقدام کا کوئی جواز نہیں۔ دلیل کا جواب دلیل ہے، مار ڈالنا نہیں، لیکن اگر تمھارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں اور تم نے ضرور ہی اس کے خلاف کچھ کرنا ہے تو پھر معمولی سزا مت سوچو۔ اپنے معبودوں کی مدد کرتے ہوئے اس کا قصہ نہایت عبرت ناک سزا کے ساتھ ختم کرو، تاکہ آئندہ کوئی اس بحث کی جرأت ہی نہ کرے۔ (بقاعی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

68۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے جب یوں اپنی حجت تمام کردی اور ان کی ضلالت و حماقت کو ایسے طریقے سے ان پر واضح کردیا کہ وہ لاجواب ہوگئے۔ تو چونکہ وہ توفیق ہدایت سے محروم تھے اور کفر و شرک نے ان کے دلوں کو بےنور کردیا تھا۔ اس لئے بجائے اس کے کہ وہ شرک سے بعض آجاتے، الٹا ابراہیم ؑ کے خلاف سخت اقدام کرنے پر آمادہ ہوگئے اور اپنے معبودوں کی دہائی دیتے ہوئے انھیں آگ میں جھونک دینے کی تیاری شروع کردی، چناچہ آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا اور اس میں حضرت ابراہیم ؑ کو کہا جاتا ہے کہ منجنیق (جس سے بڑے پتھر پھینکے جاتے ہیں) کے ذریعے سے پھینکا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم ؑ کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی بن جا علماء کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ، ٹھنڈی کے ساتھ ' سلامتی ' نہ فرماتا تو اس کی ٹھنڈک ابراہیم ؑ کے لئے ناقابل برداشت ہوتی۔ بہرحال یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے جو آسمان سے باتیں کرتی ہوئی دہکتی آگ کے گل و گلزار بن جانے کی صورت میں حضرت ابراہیم ؑ کے لئے اللہ کی مشیت سے ظاہر ہوا۔ اس طرح اللہ نے اپنے بندے کو دشمنوں کی سازش سے بچا لیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ وہ بولے: ”اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو ابراہیم کو جلا ڈالو [57] اور (اس طرح) اپنے معبودوں کی امداد کرو“
[57] سیدنا ابراہیمؑ کو آگ میں پھینکنا:۔
عقلی میدان میں جب قوم حضرت ابراہیمؑ کے سامنے نادم اور لاجواب ہو گئی تو اب ”ڈنڈے کے استعمال“ کی باتیں ہونے لگیں۔ اور جہلاء کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ جب دلیل و حجت کے میدان میں پٹ جائیں تو ضد بازی پر اتر آتے ہیں اور انہی اکثریت کے بل بوتے پر قوت کے استعمال پر اتر آتے ہیں۔ اب صورت حال یہ تھی کہ حضرت ابراہیمؑ کا باپ آزر خود بت تراش، بت فروش اور عراق کے بادشاہ نمرود کا درباری مہنت تھا۔ اب اگر وہ حضرت ابراہیمؑ کی بات مانتا تو اس کا روزگار۔ اس کی آمدنی کے ذرائع اور دربار میں اس کا مرتبہ و مقام سب کچھ ختم ہوتا تھا۔ لہٰذا قوم کے لوگوں سے بڑھ کر آزر ہی حضرت ابراہیمؑ اور آپ کے دین کا دشمن بن گیا تھا۔ اب ان لوگوں نے متفقہ طور پر یہ طے کیا کہ جیسے بھی ہو سکے اپنے مشکل کشاؤں کی عزت اور بھرم کو بچاؤ اور اس کا بہتر حل ہے کہ ابراہیم کو بھڑکتی آگ میں جلا کر اسے صفحہ ہستی سے ختم کر دو۔ چنانچہ اس غرض کے لئے سرکاری سطح پر ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا اور ایک فلاخن کے ذریعہ حضرت ابراہیمؑ کو اس کے اندر پھینک دیا گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آگ گلستان بن گئی ٭٭
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔‏‏‏‏ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:]‏‏‏‏
زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔‏‏‏‏
{ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا }، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا ‘۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔
. عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔‏‏‏‏