ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 67

اُفٍّ لَّکُمۡ وَ لِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اف ہے تم پر اور ان چیزوں پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔
تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ کیا تمہیں اتنی سی عقل بھی نہیں؟

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67){ اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ …: اُفٍّ } کا اصل معنی ہر گندی سمجھی جانے والی چیز ہے، مثلاً میل، گندگی، ناخن کے تراشے اور اس قسم کی چیزیں۔ یہی لفظ ہر اس شخص یا چیز کے لیے بولا جاتا ہے جس سے اکتاہٹ کااظہار کرنا اور اسے گندا اور نہایت حقیر قرار دینا مقصود ہو۔ (راغب) { اُفٍّ } کی تنوین سے نفرت کی شدت کا اظہار ہو رہا ہے، یعنی میری زبردست نفرت، اکتاہٹ اور تحقیر تم جیسے بے عقلوں کے لیے اور تمھارے بنائے ہوئے معبودوں کے لیے ہے، کیا تم نہیں سمجھتے کہ ایسے بے حس اور بے بس پتھر وغیرہ بھی کبھی اس قابل ہو سکتے ہیں کہ کوئی ہوش مند انسان ساری کائنات کے خالق و مالک اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 یعنی جب وہ خود ان کی بےبسی کے اعتراف پر مجبور ہوگئے تو پھر ان کی بےعقلی پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کو چھوڑ کر ایسے بےبسوں کی تم عبادت کرتے ہو؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ تف ہے تم پر اور ان پر بھی جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ کیا تم ذرا بھی نہیں سوچتے؟“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔