(آیت 56) ➊ {قَالَبَلْرَّبُّكُمْ …: ”بَلْ“} (بلکہ) سے پہلے کلام کا کچھ حصہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی میں یہ بات مذاق سے نہیں بلکہ پوری سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں کہ یہ مورتیاں اور مجسّمے رب نہیں ہیں بلکہ تمھارا رب صرف وہ ہے جو تمام آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے۔{”رَبُّكُمْرَبُّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ“} مبتدا اور خبر دونوں کے معرفہ ہونے سے حصر کا معنی پیدا ہو رہا ہے۔ ➋ { وَاَنَاعَلٰىذٰلِكُمْمِّنَالشّٰهِدِيْنَ:} یعنی میں یہ بات دلیل سے ثابت کر سکتا ہوں، تمھاری طرح نہیں کہ آبا و اجداد کی تقلید کے سوا میرے پاس کوئی دلیل ہی نہ ہو (کیونکہ شہادت اسی بات کی دی جاتی ہے جس کا انسان کو یقینی علم ہو، جب کہ تقلید اور علم ایک دوسرے کے منافی ہیں)۔ (رازی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
56۔ 1 یعنی میں مذاق نہیں کر رہا، بلکہ ایک ایسی چیز پیش کر رہا ہوں جس کا علم و یقین (مشاہدہ) مجھے حاصل ہے اور وہ یہ کہ تمہارا معبود مورتیاں نہیں، بلکہ وہ رب ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک اور ان کا پیدا کرنے والا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
56۔ اس نے جواب دیا: ”دل لگی نہیں بلکہ سچی بات یہی ہے کہ تمہارا پروردگار وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے جس نے انھیں پیدا کیا [50] اور میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں۔
[50] حضرت ابراہیمؑ نے جواب دیا کہ یہ دل لگی کی بات نہیں بلکہ میں فی الواقع یہی کچھ سمجھتا ہوں کہ یہ پتھر کے بت جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں وہ تمہارے نفع و نقصان کے مالک کیسے بن سکتے ہیں۔ اور میں تو اپنے نفع و نقصان کا مالک صرف اپنے اس پروردگار کو سمجھتا ہوں جس نے ہم سب کو بھی اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور ان پر پورے اختیار کے ساتھ حکمرانی کر رہا ہے اور میں یہ بات محض وہم و گمان کی بنا پر نہیں بلکہ پورے وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔