(آیت 53){ قَالُوْاوَجَدْنَاۤاٰبَآءَنَا …:} ابراہیم علیہ السلام کے والد اور ان کی قوم کے پاس بتوں کی عبادت کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہ تھی، اس لیے انھوں نے تقلید کا سہارا لیا اور کہا کہ ہم نے اپنے باپ داد اکو ان کی عبادت کرنے والے پایا ہے، حالانکہ باپ دادا سیدھے راستے پر ہوں تو بے شک ان کے پیچھے چلو، لیکن اگر وہ غلط راستے پر ہوں تو غلط راستے پر چلتے جانا کہاں کی دانش مندی ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
جس طرح آج بھی جہالت و خرافات میں پھنسے ہوئے مسلمانوں کو بدعات و رسومات جاہلیہ سے روکا جائے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم انھیں کس طرح چھوڑیں جب کہ ہمارے آباواجداد بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں اور یہی جواب وہ حضرات دیتے ہیں جو نصوص کتاب و سنت سے اعراض کر کے علماء ومشائخ کے آراء وافکار سے چمٹے رہنے کو ضروری خیال کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ وہ کہنے لگے: ”ہم نے اپنے آباء و اجداد [48] کو ان کی عبادت کرتے ہی پایا ہے“
[48] تقلید آباء کی مذمت:۔
اب اگر بتوں کے سامنے عبادت کرنے کا کوئی عملی فائدہ ہوتا یا ان کے پاس کوئی معقول جواب ہوتا تو قوم کے لوگ یقیناً حضرت ابراہیمؑ کو بتلا کر انھیں مطمئن کر دیتے۔ لیکن انھیں حضرت ابراہیمؑ کے اس سوال کا اس بات کے سوا کوئی جواب میسر نہ آیا کہ چونکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا ہے، لہٰذا ہم بھی ان کی اتباع میں یہی کچھ کر رہے ہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ حضرت ابراہیمؑ کے سوال کا معقول جواب نہیں تھا۔ اور اس مقام پر سوال کی اہمیت یہ ہے کہ قریش مکہ بھی بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ اور جب ان سے یہی سوال کیا جاتا تو ان کا جواب بھی بعینہ یہی کچھ ہوتا تھا۔ مزید برآں وہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیمؑ کے پیروکار بھی کہتے تھے۔ گویا یہ سوال ’گفتہ آید در حدیث دیگراں‘ کے مصداق قریش مکہ سے بھی تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔