ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 39

لَوۡ یَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا حِیۡنَ لَا یَکُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡہِہِمُ النَّارَ وَ لَا عَنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۳۹﴾
کاش! وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اس وقت کو جان لیں جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا
کاش! یہ کافر جانتے کہ اس وقت نہ تو یہ کافر آگ کو اپنے چہروں سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 39) ➊ { لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} یعنی ان لوگوں کے عذاب کو جھٹلانے اور اسے ناممکن سمجھنے کی اصل وجہ ان کا جہل ہے، انھیں اس وقت کا علم ہی نہیں جب آگ انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گی۔ یہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے، جو ان کے جسم کا سب سے اہم اور خوبصورت حصہ ہے اور نہ پشتوں سے، جو جسم کا سب سے مضبوط حصہ ہے۔ جب ان اعضا کو آگ سے نہ بچا سکے تو دوسرے اعضا کو کیسے بچائیں گے؟ کفار کو آگ کے چاروں طرف سے گھیرنے کا ذکر کئی جگہ آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۲۹)، اعراف (۴۱)، زمر (۱۶)، ابراہیم (۵۰)، مومنون (۱۰۴) اور دوسری آیات۔ لَوْ کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ یہ حرف شرط ہے اور اس کی جزا محذوف ہے، جو خودبخود سمجھ میں آ رہی ہے، یعنی اگر کافر لوگ اس وقت کو جان لیں تو نہ کبھی اسے جلدی طلب کریں، نہ اس کا مذاق اڑائیں اور نہ اس کا انکار کریں۔ دوسری تفسیر یہ کہ یہ حرف تمنی ہے، یعنی کاش کہ کافر لوگ اس وقت کو جان لیں اس صورت میں جزا کی ضرورت نہیں۔
➋ { وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ:} کوئی ان کی مدد کو نہیں آئے گا اور نہ وہ اپنی یا ایک دوسرے کی مدد کر سکیں گے۔ دیکھیے سورۂ طارق (۱۰)، صافات (۲۵، ۲۶) اور شعراء (۹۲ تا ۹۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 اس کا جواب علیحدہ ہے، یعنی اگر یہ جان لیتے تو پھر عذاب کا جلدی مطالبہ نہ کرتے یا یقینا جان لیتے کہ قیامت آنے والی ہے یا کفر پر قائم نہ رہتے بلکہ ایمان لے آتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ کاش یہ کافر لوگ اس وقت کا علم رکھتے جب وہ آگ سے نہ تو اپنے چہروں [36] کو بچا سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں کو اور نہ ہی انھیں کہیں سے مدد مل سکے گی۔
[36] یعنی ان کے اس مطالبہ کی وجہ صرف یہ ہے کہ جس آگ کے عذاب سے انھیں ڈرایا جاتا ہے اس پر ان کا یقین ہی نہیں۔ اگر ان پر یہ حقیقت منکشف ہو جائے اور وہ اس ہولناک گھڑی کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لیں تو کبھی ایسی درخواست نہ کریں۔ پھر جب وہ وقت سامنے آجائے گا اور انھیں آگے سے پیچھے سے، دائیں سے بائیں سے، اوپر سے، نیچے سے غرض ہر طرف سے آگ گھیرے ہوئے ہو گی تو اس سے بچاؤ کی انھیں کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ اور آج جو کچھ یہ باتیں بنا رہے ہیں اس دن ایسے حواس باختہ ہوں گے کہ ان میں سے کوئی بات بھی انھیں یاد نہ رہے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ’ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے ‘۔
«لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ» ۱؎ [39-الزمر:16]‏‏‏‏ ’ اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے ‘، «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:41]‏‏‏‏ ’ طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹا سکو ‘۔
«سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:50]‏‏‏‏ ’ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہرطرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی ‘۔ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» ۱؎ [13-الرعد:34]‏‏‏‏ ’ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے۔ جہنم اچانک دبوچ لے گی۔ اس وقت ہکے بکے رہ جاؤ گے، مبہوت اور بے ہوش ہو جاؤ گے، حیران و پریشان ہو جاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفع کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی ‘۔