ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 30

اَوَ لَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۰﴾
اور کیا جن لوگوں نے کفر کیا یہ نہیں دیکھا کہ سارے آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے تو ہم نے انھیں پھاڑ کر الگ کیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی، تو کیا یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔
کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟
کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زنده چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں ﻻتے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) ➊ {اَوَ لَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …: رَتْقًا } کا معنی دو یا کئی چیزوں کا آپس میں سختی سے جڑا اور چپکا ہوا ہونا ہے، خواہ وہ فطری ہو (جیسے پتھر) یا کسی کے بنانے سے۔ (راغب) یہ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، یعنی بالکل بند۔ { فَتْقٌ } کا معنی ایسی جڑی ہوئی چیزوں کو الگ الگ کرنا ہے۔ { اَوَ لَمْ يَرَ } کا معنی ہے اور کیا دیکھا نہیں اور جہاں دیکھی جانے والی چیز نہ ہو وہاں معنی ہے اور کیا جانا نہیں۔ (دیکھیے سورۂ فیل) اس آیت کے دو معنی ہیں اور دونوں درست ہیں۔ طبری نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے: [كَانَتَا مُلْتَزِقَتَيْنِ] سارے آسمان اور زمین آپس میں سختی سے ملے ہوئے تھے۔ یعنی کیا یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ بے بس ہستیوں کو شریک بنا رہے ہیں، انھیں معلوم نہیں کہ سارے آسمان اور زمین ایک ٹھوس تودہ تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پناہ قوت اور کمالِ قدرت کے ساتھ ان کو الگ الگ کرکے درمیان میں ہوا اور خلا کا فاصلہ کر دیا اور آسمانوں کو سات آسمان اور زمین کو سات زمینیں بنا دیا۔ دیکھیے سورۂ طلاق(۱۲) بھلا اس کے سوا کسی کی یہ مجال ہے؟ آج کل سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ کائنات پہلے ایک تودے کی شکل میں تھی، پھر ایک بہت بڑے دھماکے کے ساتھ جدا جدا ہوئی، مگر بے چارے سائنس دان وہ دھماکا کرنے والے سے ناآشنا ہی رہے۔ (الا ما شاء اللہ)
دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا اللہ کی توحید کے منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان بند تھا، اس سے ایک قطرہ نہیں برستا تھا اور زمین بند تھی، اس سے ایک پتا نہیں اگتا تھا؟ ہم نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ساتھ اپنی مخلوق کے فائدے کے لیے بارش کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے اور اس کے ساتھ زمین کے مسام کھول کر طرح طرح کی نباتات پیدا فرما دیں۔
➋ { وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ:} اس میں انسان، حیوان، پودے اور درخت سب شامل ہیں۔ پانی سے جاندار چیز کی پیدائش کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نور (۴۵) اور نباتات کی پیدائش کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۹۹)۔
➌ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ امام رازی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یعنی جن چیزوں میں جان ہے، جیسے حیوانات اور نباتات، ان سب کی پیدائش پانی سے ہے، لیکن فرشتے اور جن یا دوسری کوئی چیز جس کے متعلق ثابت ہو جائے کہ اس کے مادہ میں پانی کو دخل نہیں ہے، وہ اس سے مستثنیٰ قرار پائیں گی۔ (کبیر) دراصل یہ اس سوال کا جواب ہے کہ فرشتے اور جن تو پانی سے نہیں بلکہ نور اور آگ سے پیدا ہوئے ہیں، ان کی پیدائش پانی سے کیسے تسلیم کی جا سکتی ہے؟ اس جواب کی بنیاد اس بات پر ہے کہ { كُلٌّ } سے مراد کائنات کی ہر چیز نہیں ہوتی، بلکہ ہر موقع کی مناسبت سے {كُلٌّ} کا معنی کیا جاتا ہے، جیسا کہ ملکہ سبا کے متعلق ہد ہد نے کہا تھا: «{ وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ [النمل: ۲۳] اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔ اور قوم عاد پر آنے والی آندھی کے متعلق اللہ نے فرمایا: «{ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا [الأحقاف: ۲۵] جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔مفسر رازی کا یہ جواب معقول ہے۔ تاہم اگر { كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ } ہر زندہ چیز کا وجود پانی سے مان لیا جائے، جس میں انسان کے ساتھ جن اور فرشتے بھی شامل ہوں تو کچھ بعید نہیں، جب مٹی سے بننے والے انسان کا اصل پانی ہے تو آگ اور نور سے بننے والے جنوں اور فرشتوں کا اصل بھی پانی ہو سکتا ہے۔ آج جب ایٹم کو پھاڑنے کی صورت میں مادے کا توانائی میں بدلنا مشاہدے سے ثابت ہو چکا ہے، جس سے انسان کو بے پناہ تعمیری اور تخریبی قوت حاصل ہوئی ہے اور قیامت کے دن سمندر کے پانی آگ کی صورت اختیار کر جائیں گے (دیکھیے سورۂ تکویر: ۶) تو اللہ کے حکم سے پانی آگ کے علاوہ نور کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ (واللہ اعلم)
➍ { اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ:} یعنی زمین و آسمان میں حیرت انگیز نظام قائم کرنے والے ہم ہیں، کوئی اور نہیں، کیا اس پر بھی یہ لوگ توحید کا راستہ اختیار نہیں کرتے، بلکہ دوسروں کو ہمارا شریک سمجھ رہے ہیں؟
➎ رازی فرماتے ہیں: اس آیت (۳۰) سے آیت (۳۳) تک چار آیات میں کائنات کو بنانے والے کے وجود اور اس کے صرف ایک ہونے کے چھ قسم کے دلائل مذکور ہیں۔ (کبیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

30۔ 1 یعنی آسمان و زمین، ابتدائے امر ہیں، باہم ملے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوست تھے۔ ہم نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا، آسمانوں کو اوپر کردیا جس سے بارش برستی ہے اور زمین کو اپنی جگہ پر رہنے دیا، تاہم وہ پیداوار کے قابل ہوگئی۔ 30۔ 2 اس سے مراد اگر بارش اور چشموں کا پانی ہے، تب بھی واضح ہے کہ اس کی روئیدگی ہوتی ہے اور ہر ذی روح کو حیات نو ملتی ہے اور اگر مراد نطفہ ہے، تو اس میں بھی کوئی اشکال نہیں کہ ہر زندہ چیز کے وجود کے باعث وہ قطرہ آب ہے جو نر کی پیٹھ کی ہڈیوں سے نکلتا اور مادہ کے رحم میں جاکر قرار پکڑتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین آپس میں گڈ مڈ [25] تھے پھر ہم نے انھیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار [26] چیز کو پانی سے زندگی بخشی کیا پھر بھی یہ لوگ (اللہ تعالیٰ کے کے خلاقی) پر ایمان نہیں لاتے؟
[25] رتق اور فتق کا لغوی مفہوم:۔
اس آیت میں رتق اور فتق کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اور یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ رتق کے معنی دو چیزوں یا کئی چیزوں کا مل کر جڑ جانا اور چیدہ ہونا ہے اور فتق کے معنی ایسی گڈ مڈ شدہ اور جڑی ہوئی چیزوں کو الگ الگ کر دیتا ہے۔ اس آیت میں کائنات کا نقطہ آغاز بیان کیا گیا ہے کہ ابتداء صرف ایک گڈ مڈ اور کئی چیزوں سے مخلوط مادہ تھا۔ اسی کو کھول کر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور دوسرے اجرام فلکی کو پیدا فرمایا۔
[26] ہر چیز کی تخلیق پانی سے ہے:۔
ہر وہ چیز جس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہوں اس کی زندگی کا سبب پانی ہی ہوتی ہے اور اس میں نباتات، حیوانات سب شامل ہیں۔ اور ایسی تمام اشیاء پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے جیسے فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِّنْ مَّاءٍ [24: 45] اس لحاظ سے اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ہر چیز کی پیدائش میں پانی کی موجودگی ضروری ہے اگرچہ یہ غالب عنصر کے طور پر نہ ہو۔ جیسے انسان کی پیدائش میں غالب عنصر مٹی ہے اور جنوں کی پیدائش میں آگ۔ اور اس کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات میں پانی کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ جیسا کہ کتاب و سنت میں یہ صراحت میں ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب صرف پانی ہی پانی تھا اور اس پر اللہ کا عرش تھا اور پانی کے علاوہ کوئی دوسری چیز موجود نہ تھی۔ پھر ہر طرح کی تخلیق کا آغاز پانی سے ہی ہوا۔ حتیٰ کہ جمادات میں بھی پانی کا کچھ نہ کچھ حصہ موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ جڑی ہوئی ہے اگر اس سے پانی کو ختم کر دیا جائے تو وہ چیز ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

زبردست غالب ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ’ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ ‘
ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟
؎ «‏‏‏‏فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «‏‏‏‏تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» ‏‏‏‏یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:]‏‏‏‏
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔‏‏‏‏ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔‏‏‏‏ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔
سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔
{ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں } }۔ [مسند احمد:295/2:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ } }۔ ۱؎ [مسند احمد:493/2:صحیح]‏‏‏‏
زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔
شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔
جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:47]‏‏‏‏ ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں ‘۔
فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:5]‏‏‏‏ ’ قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی ‘۔
ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» ۱؎ [50-ق:6]‏‏‏‏ ’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں ‘۔
«بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:8]‏‏‏‏
پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔
جیسے حدیث میں ہے کہ { کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { رکی ہوئی موج ہے } }۔ ۱؎ [ابو الشيخ فى العظمة:541]‏‏‏‏ یہ روایت سنداً غریب ہے۔
لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» ۱؎ [12-یوسف:105]‏‏‏‏ ’ آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں ‘۔
کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔
بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔
پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ’ رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے ‘۔
«وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40]‏‏‏‏ ’ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:]‏‏‏‏
جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ [6-الأنعام:96]‏‏‏‏ ’ وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے ‘۔