ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 28

یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ لَا یَشۡفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰی وَ ہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَتِہٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴿۲۸﴾
وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جسے وہ پسند کرے اور وہ اسی کے خوف سے ڈرنے والے ہیں۔
جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں
وه ان کے آگے پیچھے تمام امور سے واقف ہے وه کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وه تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) ➊ { يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ:} یعنی جو کام وہ کر چکے یا جو آئندہ کریں گے وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اس میں ان کے اس قدر اطاعت گزار اور فرماں بردار ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے، یعنی وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری پہلی، پچھلی، ظاہر اور پوشیدہ ہر بات جانتا ہے، اس لیے وہ اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔
➋ {وَ لَا يَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى:} یعنی وہ اسی کے حق میں سفارش کرتے ہیں جسے وہ پسند کرے اور جس کے حق میں سفارش کو پسند کرے اور اس کی اجازت دے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۵) اور سبا (۲۳) مراد اس سے اہل ایمان اور اہل توحید ہیں، کیونکہ کافر و مشرک نہ اللہ کو پسند ہیں اور نہ اسے ان کے حق میں سفارش پسند ہے۔ یہ سفارش دنیا میں بھی ہے، جیسا کہ فرشتے اہل ایمان کے حق میں دعا اور استغفار کرتے ہیں (دیکھیے سورۂ مومن: ۷ تا ۹) اور انبیاء و رسل بھی ان کے حق میں دعا کیا کرتے تھے۔ آخرت میں بھی فرشتے اور انبیاء سفارش کریں گے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [شَفَاعَتِيْ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِيْ] [مستدرک حاکم: ۱؍۶۹، ح: ۲۲۸، و صححہ الذھبی] میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں والے لوگوں کے لیے ہو گی۔ اس میں بھی اولاد کی نفی ہے، کیونکہ اولاد والد کی مرضی کے خلاف بھی سفارش کر سکتی ہے۔
➌ { وَ هُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ:} اس میں فرشتوں اور رسولوں کی اللہ تعالیٰ کے لیے انتہائی تعظیم کا ذکر فرمایا کہ وہ اس کے خوف کی وجہ سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کی اولاد نہ ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ والد اور اولاد کا یہ حال نہیں ہوتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء صالحین کے علاوہ فرشتے بھی سفارش کریں گے۔ حدیث صحیح سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، لیکن یہ سفارش انہی کے حق میں ہوگی جن کے لئے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا۔ اور ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سفارش اپنے نافرمان بندوں کے لئے نہیں، صرف گناہ گار مگر فرماں بردار بندوں یعنی اہل ایمان و توحید کے لئے پسند فرمائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ اللہ ان بندوں کے سامنے کے (ظاہری) احوال کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ احوال کو بھی۔ اور وہ صرف اسی کے حق [23] میں سفارش کر سکیں گے جس کے لئے اللہ راضی ہو اور وہ ہمیشہ اس کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں۔
[23] فرشتوں کی سفارش اور شفیع پابندیاں:۔
مشرکین مکہ دو وجوہ سے فرشتوں کی عبادت کرتے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی اولاد ہیں۔ دوسرے اس لئے کہ وہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اور اللہ کے حضور ہمارے قرب کا ذریعہ ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ سفارشی نہیں کریں گے کیونکہ کتاب و سنت کی رو سے انبیاو و صالحین فرشتوں اور خود قرآن کا سفارش کرنا ثابت ہے۔ بلکہ یوں فرمایا کہ وہ سفارش صرف اس کے حق میں کر سکیں گے جس کے حق میں سفارش اللہ کو منظور ہو اور اس کی وجہ یہ بتلائی کہ فرشتوں کو علم غیب نہیں ہے۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ جس کے حق میں وہ سفارش کر رہے ہیں اس کے اعمال کی کیا صورت اور کیفیت ہے اور یہ حالات صرف اللہ ہی کو معلوم ہیں۔ اس لئے سفارش صرف انہی کے حق میں کر سکیں گے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور وہ اللہ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں پھر اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش کیسے کر سکیں گے۔ اب اگر کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسے سفارش کی اجازت ملے گی بھی یا نہیں۔ پھر بالخصوص فلاں شخص کے حق میں ملے گی یا نہیں تو پھر ایسے بے اختیار شفیع اس بات کے مستحق کیسے ہو سکتے ہیں کہ ان کے آگے سر نیاز خم کیا جائے اور اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے ان کے آگے دست سوال دراز کیا جائے یا انھیں پکارا جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔